22

نیب ترامیم کے تحت ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ کا حکومت کو نوٹس – ایکسپریس اردو

گورننس اور حکومت چلانے کیلئے احتساب بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے تحت ملزمان کو ملنے والے ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کل رات سے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی پٹیشن پڑھ رہا ہوں، اپنی معروضات تفصیل سے پیش کریں کہ ترامیم آئین سے کیسے متصادم ہیں، یہ بھی بتائیں کونسی ترامیم ایسی ہیں جن سے نیب قانون اور کیسز متاثر ہو رہے ہیں۔

وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں، احتساب کے بغیر گورننس اور جمہوریت نہیں چل سکتے، اسلام اور آئین دونوں میں احتساب پر زور دیا گیا ہے، عدلیہ کی آزادی اور عوامی عہدیداروں کا احتساب آئین کی بنیادی جزو ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چیک اینڈ بیلنس ہونا جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہے، گورننس اور حکومت چلانے کیلئے احتساب بہت ضروری ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ کونسی ترمیم آئین کے برخلاف ہے؟

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کیخلاف آئینی ترمیم بھی ممکن نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے، پارلیمان (عوام )کا اختیار ہے کہ مکمل آئین بھی تبدیل کر سکتی ہے۔

خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی، مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی آئین کے تحت بنیادی حق ہے، کیا مفت تعلیم کا حق آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اس لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں توازن برقرار رہ سکے، بنیادی حقوق معطل ہو سکتے ہیں لیکن آرٹیکل 4 نہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کچھ ترامیم ایسی ہیں جو بہت سنگین ہیں، عمران خان کی درخواست کی استدعا میں ایسی تمام ترامیم کو کالعدم قرار دینے کا کہا گیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اس ترمیم سے تمام زیر التواء مقدمات انکوائریز پر فرق پڑتا ہے، جن کو سزا ہو چکی ہے ان پر ترمیم کا کیا فرق پڑے گا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آپ چاہتے ہیں مفروضے پر کارروائی کا اختیار نیب کو واپس مل جائے؟۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا کوئی پوچھ نہیں سکتا کہ اثاثے کہاں سے بنائے؟ سوال پوچھے بغیر کیسے علم ہوگا کہ اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں، ان ترامیم سے قومی بین الاقوامی معاہدوں کو نظر انداز کردیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا یہ آپکا تاثر لگ رہا ہے، بند ہوئےکیس کو دوبارہ کھولنا اتنا آسان نہیں، آپ کہ رہے ہیں کئی نیب ترامیم سے جرم کو ثابت کرنا مشکل بنادیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے بھی کہا کہ ایسا تو نہیں ہوگا ایک ثبوت پیش ہو چکا ہے ہو واپس ہوجائے، ٹرائل میں ایک ثبوت آ گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا باہر سے دوبارہ ثبوت لائے۔

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اگر ایسا ہوجائے تو مجھے کیا اعتراض ہے، ترامیم کے تحت ریلیف کو درخواست پر فیصلے سے مشروط کیا جائے، حکم امتناع نہیں مانگ رہا لیکن ترامیم کے تحت ملنے والا ریلیف مشروط کیا جائے۔

عدالت نے ترامیم کے تحت ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جمعہ پرامن ہوتا ہے اس لئے آئندہ جمعہ کو دوبارہ سماعت کرینگے، عام دنوں میں تو شام کو بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔ عدالت نے سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔

 




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں