40

نصف میل دوری سے سن گن لینے والا نظام – ایکسپریس اردو

بیجنگ: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فائبر آپٹکس کے تاروں کو نصف میل دوری پر موجود لوگوں کی باتیں سننے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ان کے بولنے کی وجہ روشنی میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ کرممکن ہے۔

چین میں سائنس دانوں نے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جو فائبر آپٹکس کے ایک سِرے سے آواز اٹھاتا ہے اور دوسرے سِرے پر منتقل کردیتا ہے۔ فائبر آپٹک کیبلز ڈیٹا کی منتقلی کے لیے روشنی کے اتار چڑھاؤ کو استعمال کرتی ہیں اور ان کیبلزکو فُل فائبر براڈ بینڈ کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ اتنے نازک ہوتے ہیں کہ ماحولیاتی دباؤ کی وجہ سے ان میں تبدیلی رُونما ہوسکتی ہےجو کہ ممکنہ طور پر ایک سیکیورٹی خطرہ ہے۔ اس دباؤ کاسبب سماعتی لہریں ہوسکتی ہیں جیسے کسی کے بات کرتے ہوئے نکلنے والی آواز۔

بیجنگ کی سِنگھوا یونیورسٹی میں کی جانے والی اس نئی تحقیق میں محققین نے بتایا کہ آپٹیکل فائبر نیٹورک دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر بچھائی ہوئی ہیں، جو نہ صرف ڈیٹا منتقلی میں آسانی فراہم کرتی ہیں بلکہ اضافی معلومات حاصل کرنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔

تحقیقی مقالے میں محققین نے کہا کہ آپٹیکل فائبر نیٹورکس کے ان مصارف میں زلزلوں کی نشاندہی، شہری ٹریفک کی نگرانی، زیرِ زمین ارضیاتی ڈھانے پر تحقیق جیسی چیزیں شامل ہیں جن  کے انسانی زندگی پر مثبت اثرات ہیں۔ البتہ، اس کے ساتھ ممکنہ طور پر کچھ سیکیورٹی مسائل بھی موجود ہیں جن کو احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیئے۔

ہمارے گھروں اور دفتروں میں جو فائبر آپٹک کیبلزلگائی جاتی ہیں ان کو ایف ٹی ٹی پی (فائبر ٹو دی پریمیسز) کہا جاتا ہے۔موجودہ ایف ٹی ٹی پی سانچے کے مطابق گھروں میں کئی میٹرز کی فائبر بِچھائی جاتی ہے۔ لیکن گھر میں کسی اور آلے کےلگائے جانے کے بغیر آواز کی لہروں کو فائبر میں منتقل ہونے والی روشنی کے ذریعے قابو کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح دوسرے لوگ فائبر کے ساتھ موجود جگہوں پر لوگوں کی باتیں سن سکتے ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں