62

مٹی میں دبے رہنے والے کیکڑے مینگروو جنگلات کے لیے مفید قرار – ایکسپریس اردو

مینگروو کے جنگلات میں عام پائے جانے والے کیکڑے مٹی کے اندر سرنگ بناتے ہیں اور نیچے سے مفید بیکٹیریا درختوں کی جڑ تک لاتے رہتے ہیں۔ فوٹو: کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی

سعودی عرب: تمر یا مینگروو کے جنگلات کی افزائش قدرے نامساعد حالات میں ہوتی ہیں کیونکہ مٹی نمک سے بھری ہوتی ہے جس میں غذائی اجزا نہیں ہوتے اور دیگر مشکلات بھی درپیش ہوتی ہیں۔ اس موقع پر مٹی میں دب کر رہنے والے کیکڑے مٹی میں شامل مفید بیکٹیریا اوپر نیچے کرکے درختوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

اس سے قبل ماہرین نے مینگروو جنگلات میں خردبینی اجسام اور مفید بیکٹیریا پر غور نہیں کیا تھا لیکن اب شاہ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے تمر کے جنگلات میں رہنے وال فڈلر کیکڑوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے جو مٹی میں بل نما گھر بنا کررہتے ہیں اور بار بار اندر اور باہر آتے رہتے ہیں۔ لیکن اس عمل میں وہ مٹی میں موجود قدرتی مفید بیکٹیریا اوپر لاتے رہتے ہیں جنہیں پاکر درخت خوب پھلتے پھولتے ہیں۔

سائنسداں ڈاکٹر مارکو فیوسی کہتے ہیں کہ مینگرووز کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی حدت سے ان جنگلات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

ماہرین نے نوٹ کیا کہ بے چین کیکڑے تمر کے نیچے کی مٹی مسلسل الٹ پلٹ کرتے رہتے ہیں اور یوں ایک انجینیئر کی طرح کا کردار ادا کرتے ہوئے مفید بیکٹیریا اور غذائی اجزا پودوں تک پہنچاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ مسلسل گڑھے کرکے وہاں آکسیجن جمع ہونے دیےہیں جس کا فائدہ خود تمر کے شجر کو ہوتا ہے۔

بحیرہ احمر (ریڈ سی) میں دس مقامات پر سائنسدانوں نے اس عمل کا مشاہدہ کیا ہے۔ جہاں کیکڑے موجود تھے ان کی مٹی میں کئی اقسام کے ایلفا پروٹوبیکٹیریا اور گیما پروٹوبیکٹیریا نوٹ کیے گئے جو بہت مفید تھے۔ اس علاقے کی مٹی میں فولاد کی کمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کیکڑے نیچے دبی ہوئی فولاد کو اوپر لاتے ہیں۔

دوسری جانب کیکڑوں کی سرگرمی مٹی کو توانا اور بہتر حالت میں بھی رکھتی ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں