33

سکندر رضا صحتیاب ہوکر پھر رنز کے ڈھیر لگانے لگے – ایکسپریس اردو

2سال ڈاکٹرز کی نگرانی میں رہوں گا،پی ایس ایل میں شرکت کی خواہش ہے۔ فوٹو : فائل

سکندر رضا صحتیاب ہو کر پھر سے رنز کے ڈھیر لگانے لگے،ان کے مطابق صحت کے مسائل سے 90 فیصد تک نجات پاچکا اور مکمل طور پر خطرے سے باہر ہوں۔

بون میرو میں انفیکشن کی وجہ سے ایک موقع پر سکندر رضا صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہو گئے تھے مگر علاج کے بعد اب بہتر ہیں، پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کو ہرارے سے انٹرویو میں زمبابوین آل راؤنڈر نے کہا کہ میں صحت کے مسائل سے 90فیصد تک نجات پاچکا اور مکمل طور پرخطرے سے باہر ہوں،ڈاکٹر 2سال تک میری صورتحال کو نظر میں رکھیں گے، خون کا ٹیسٹ متواتر کرانا پڑتا ہے،ایم آر آئی اسکین بھی ہوتاہے تاکہ بون میرو میں جو مسئلہ تھا وہ دوبارہ نہ آجائے، گذشتہ ٹیسٹ میں سب کچھ کلیئر آیا تھا، وقت کے ساتھ فٹنس میں مزید بہتری بھی آئے گی۔

ایک سوال پر سکندر رضا نے کہا کہ گرین شرٹس کیخلاف کھیلتے ہوئے کبھی پاکستان کی نمائندگی کا خیال نہیں آیا، دراصل میں تو فائٹر پائلٹ بننا چاہ رہا تھا،سافٹ ویئر انجینئرنگ میں بیچلرز کیا تو فیملی زمبابوے منتقل ہوچکی تھی،میں سوچ رہا تھا کہ ماسٹرز کروں اور کرکٹ میں آگیا، کبھی نہیں سوچا کہ ایسا ہوسکتا تھا، پاکستان کیلیے کھیل سکتا تھا یہ کبھی دل میں نہیں آیا۔

آل راؤنڈر نے کہا کہ پی ایس ایل ایک بڑا قابل قدر ٹورنامنٹ ہے، مجھے اس میں کھیلتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا،کئی یادگار لمحات تھے،ایونٹ کی کمی محسوس کرتا ہوں،اگلے ٹورنامنٹ کا حصہ بننا میرے اختیار میں نہیں ہے،میں محنت کروں گا،اگر کسی ٹیم کے کمبی نیشن میں جگہ بنی تو ضرور اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں گا، اگر ایسا نہ بھی ہوسکا تو کوئی بات نہیں۔

زمبابوین ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا ہے،اعتماد بھی لوٹ آیا

سکندر رضا نے کہا کہ بنگلہ دیش کیخلاف سیریز میں زمبابوے کی پہلی کامیابی بڑی خوش آئند ہے، ہوم گراؤنڈ پر اپنے پرستاروں کے سامنے فتح کی زیادہ خوشی ہوئی، زمبابوین ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا اور کھلاڑیوں کا اعتماد بھی واپس لوٹ آیا ہے،گذشتہ چند سیریز سے انجریز چل رہی تھیں، پلیئرزان سے بھی نجات پانے میں کامیاب ہوئے،ہر کسی کو اپنے کردار کا اندازہ ہوچکا ہے،فی الحال ہمارا پہلا ہدف ورلڈکپ مین راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کرنا ہے،آسٹریلیا میں شیڈول ایونٹ کے لیے پلاننگ کریں گے۔

انجری کے بعد بیٹنگ اور بولنگ میں تھوڑی تبدیلیاں کی ہیں

سکندر رضا کا کہنا ہے کہ میں نے بنگلہ دیش کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کی فتح میں رنز، وکٹوں اور کیچز سے حصہ ڈالا، انٹرنیشنل کرکٹ میں ہر کھلاڑی کا ویڈیو اینالسز ہورہا ہوتا ہے،آپ اگر اپنے کھیل میں مسلسل بہتری نہیں لاتے تو پکڑے جاسکتے ہیں، میں نے اپنی بیٹنگ اور بولنگ میں تھوڑی تبدیلیاں کی ہیں،انجری کی وجہ سے بھی انداز تھوڑا تبدیل کرنا پڑا، کندھے کی سرجری کے بعد محسوس ہوا کہ گذشتہ بولنگ ایکشن کارآمد نہیں ہوگا، سنیل نارائن سے رہنمائی ملی، ابتدا میں مشکل ہوئی، اس کے بعد گیند پر گرفت بہتر ہوتی گئی، میرا اکانومی ریٹ بہتر ہوگیا، اچھی بات ہے کہ تبدیلیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔

کئی پاکستانی کرکٹرز سے دوستی ہے، شعیب ملک سے مشورے لیتا ہوں

سکندر رضا نے کہا کہ پاکستانی کرکٹرز بہت مصروف ہوتے ہیں،میری ان سے بات ہوتی رہتی ہے،کئی سے دوستی بھی ہے،شعیب ملک سے بہت زیادہ بات ہوتی ہے اور میں ان سے سوالات پوچھتا رہتا ہوں، پاکستانی کرکٹرز اچھے انسان بھی ہیں، کورونا میں جب ٹور کیا تو سب ہماری بڑھ چڑھ کر مدد کرتے رہے، دورئہ پاکستان یادگار رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اگر رواں سال شیڈول ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم سیمی فائنل میں نہ پہنچی تو مجھے حیرت ہوگی،کوئی ایسا انسان نہیں جسے بابر اعظم پسند نہ ہو،مجھے محمد رضوان کو بھی کھیلتے دیکھتا اچھا لگتا ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں