34

پارلیمنٹ کو خود کمزور کرنے والے – ایکسپریس اردو

سپریم کورٹ کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے جسٹس مقبول باقر نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ چند روز قبل پیپلز پارٹی کے رہنما وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بجٹ اجلاس میں وزیر اعظم، وزرا اور ارکان کے پارلیمنٹ نہ آنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ آپ کو ایوان میں آنا چاہیے۔

جو ارکان آتے ہیں ان کا کیا قصور ہے کہ آ کر بیٹھ جائیں اور بے عزت ہو کر دو گھنٹے بعد گھر واپس چلے جائیں، اگر یہ طریقہ رہا تو پھر ہم بھی نہیں آئیں گے، پارلیمنٹ کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ سینیٹ میں بھی یہ حال ہے کہ اتنی بڑی کابینہ میں بعض دفعہ ایک وزیر بھی موجود نہیں ہوتا۔ وفاقی وزرا تو کیا موجودہ اور سابق وزرائے اعظم کا بھی سینیٹ کو نظر انداز کرنا معمول رہا ہے اور سابق وزیر اعظم سینیٹ کو بھی قومی اسمبلی کی طرح اہمیت نہیں دیتے تھے اور وہ ایک بار ایک سال سے زائد سینیٹ کے اجلاس میں نہیں آئے تھے جس پر سینیٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کی گمشدگی کے اخباروں میں اشتہارات دیے جائیں۔

پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی کو نظر انداز کرنے کا ریکارڈ سابق ن لیگ حکومت کا موجود ہے۔ وزیر اعظم کو پتا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان کی اکثریت قومی اسمبلی جان بوجھ کر نہیں آ رہی۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ نہیں آتے تھے۔ البتہ ہر منگل کو کابینہ کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے تھے۔

قومی اسمبلی کی اہمیت یہ ہے کہ وزیر اعظم کو یہی ایوان منتخب کرتا ہے اور بجٹ کی منظوری بھی قومی اسمبلی دیتی ہے۔ قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر کوئی قانون نہیں بنتا۔ کہنے کو سینیٹ بالاتر ہے جہاں تمام صوبوں کی یکساں نمایندگی ہے جب کہ قومی اسمبلی میں ایسا نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں کے پسندیدہ لوگ منتخب ہوتے ہیں جو اپنی پارٹی کی نمایندگی کرتے ہیں اور سینیٹ میں امیر لوگ آزادانہ طور پر بھی منتخب ہو کر آ جاتے ہیں۔ وقت کے وزیر اعظم کو جب مرضی کی قانون سازی کرانا ہو تو وہ قومی اسمبلی میں آجاتے ہیں۔

اکثر وہ قومی اسمبلی آنا گوارا نہیں کرتے۔ قومی اسمبلی کے تقریباً ہر اجلاس میں شرکت کا ریکارڈ صرف وزیر اعظم ظفراللہ جمالی اور یوسف رضا گیلانی کا ہے جس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ دونوں اپنی اپنی پارٹی کے سربراہ نہیں تھے اور وہ اپنے پارٹی سربراہوں کے علاوہ خود کو پارلیمنٹ میں جوابدہ بھی سمجھتے تھے۔

(ق) لیگ کے وزیر اعظم شوکت عزیز خود کو پارلیمنٹ کے بجائے صدر جنرل پرویز مشرف کو اہمیت دیتے تھے اور انھیں جنرل مشرف نے ہی منتخب کرایا تھا تو وہ قومی اسمبلی آنا کیوں ضروری سمجھتے۔ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو صدر جنرل ضیا الحق نے منتخب کرایا تھا مگر وہ پارلیمنٹ کو نظرانداز نہیں کرتے تھے۔ موجودہ حکمران بھی سابق وزیر اعظم کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

انھیں ایوان میں آنے کا مشورہ سید خورشید شاہ نے دیا مگر وہ کہیں دورے پر چلے گئے۔ حکمران جماعت ہی جب ملک کے سب سے اہم ادارے پارلیمنٹ کو اہمیت نہ دے تو حکمران پارٹیوں کے ارکان کو کیا پڑی کہ وہ ایوان میں آئیں۔ موجودہ پارلیمنٹ کی سی صورت حال ماضی سے مختلف ہے جہاں حکومت کو بمشکل دو چار ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے اور حکومتی پارٹی کے ارکان کا یہ حال ہے کہ وہ اجلاس میں بھی نہیں آ رہے جب کہ یہ جب اپوزیشن میں تھے تو پارلیمنٹ میں بعض دفعہ ان کی تعداد حکومتی ارکان سے زیادہ ہوتی تھی اور اسی خوف سے حکومتی ارکان ایوان میں آجاتے تھے۔

ایکسپریس نیوز کے تجزیہ کاروں کے مطابق چاہے وفاق ہو یا صوبے عدالتیں نظام چلا رہی ہیں۔ عدالتوں کو ملوث بھی تو قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے کیا ہے جو اگر آئین کے مطابق ایوان چلاتے تو عدالتوں میں جانے کی نوبت نہ آتی۔ ان کے فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا گیا تو پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی کمزور ہوئیںاور عدالتوں کو نظام چلانا پڑا۔

قومی و پنجاب اسمبلیوں کے اسپیکر اگر پارٹی نہ بنتے اور آئین پر غیر جانبداری سے عمل کرتے تو موجودہ صورت حال پیدا نہ ہوتی اس لیے پارلیمنٹ اور پنجاب اسمبلی کی کمزوری کے ذمے دار یہ خود ہیں۔موجودہ قومی اسمبلی کو موجودہ حکومت میں شامل پارٹیاں جعلی قرار دیتی تھیں اور اقدار سے آئینی طور پر محروم کی جانے والی اب موجودہ قومی اسمبلی کو جعلی قرار دے رہی ہیں۔ پنجاب جیسی صورت حال اور کسی صوبائی اسمبلی کی نہیں ہے۔

جہاں دس صوبائی نشستیں رکھنے والی (ق) لیگ کے اسپیکر نیمسلم لیگ ن کی حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی حکومت بنالی اور وہ وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔اس وقت پنجاب اور وفاق کی سطح پر جو سیاسی کشیدگی چل رہی ہے وہ ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے منفی ثابت ہو رہی ہے۔ ڈالر کی مسلسل پرواز جاری ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کسی پارٹی کو عوام کی پرواہ نہیں کہ عوام کی قوت خرید روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ اور عوام کی ایک بڑی تعداد سطح غربت سے نیچے جا رہی ہے۔

کبھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو کبھی گیس کی قیمت میں اور اب بجلی کی قیمت میں اضافے کی خبر آ گئی ہے۔ اس ملک کے معاشی نظام کو بہتر بنانے کے دعوے تو بہت کیے جا رہے ہیں مگر صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ اسمبلی میں موجود بڑی پارٹیوں کے درمیان اقتدار کی رسی کشی نے معاشی سطح پر عوام کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے مگر کسی پارٹی کو اس کی پرواہ نہیں کہ عوام پر کیا بیت رہی ہے، سب کو اپنی کرسی اور زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی فکر ہے۔

ہر سیاسی پارٹی دوسرے کو کرپٹ اور خود کو عوام کی اصل ہمدرد ہونے کے دعوے کرتی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے اس کا اقتدار میں ہونا انتہائی ضروری ہے اور اگر اسے اقتدار نہ ملا اور دوسری پارٹی اقتدار میں آگئی تو وہ نہ سیاسی استحکام لا سکے گی اور نہ معاشی استحکام ہی لا سکے گی۔ لہٰذا اگر عوام خوشحالی اور ترقی چاہتے ہیں تو اسی سیاسی پارٹی کی حمایت کریں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک یہی کچھ ہوتا آ رہا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ پارلیمنٹ کو اہمیت دے رہی ہے اور چیف جسٹس پارلیمنٹ کے تنازعات کو پارلیمنٹ ہی میں حل کرائے جانے کا موقع دیتے ہیں مگر جب قومی و صوبائی اسمبلیوں ہی میں آئین پر عمل نہ کیا جائے اور اسپیکر غیر جانبدار نہ رہیں تو یہی صورت حال ہوتی ہے اور سپریم کورٹ کے سابق جج کو بھی کہنا پڑ گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ ذمے داری ارکان پارلیمنٹ اور حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود پارلیمنٹ کی کمزوریوں کو دور کریں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں