25

کراچی میں پیپلزبس سروس کے روٹس کی فوری مرمت کی جائے، وزیراعلیٰ سندھ – ایکسپریس اردو

 کراچی: وزیراعلیٰ سندھ نے ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو پیپلز بس سروس کی تمام بس کے روٹس کی مرمت کرنے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر میں پیپلز بس سروس کے تمام بس روٹس کی سڑکوں کی مرمت کے لیے محکمہ لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ مناسب اور ان کے پورے راستے کی حد تک ان کے آپریشن کو ہموار کیا جا سکے۔

مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پیپلز بس سروس کے مسائل پر تبادلہ خیال اور فیصلہ کرنے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبائی وزراء، شرجیل میمن، ناصر شاہ، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، کمشنر کراچی اقبال میمن، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری محمد فیاض جتوئی، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ حلیم شیخ، ڈی آئی جی ٹریفک، کے ایم ٹی اے، کے ڈی اے، میونسپل کمشنر کراچی اور دیگر متعلقہ حکام شریک تھے۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ شہر میں پیپلز بس سروس کا پہلا روٹ 27 جون کو ملیر سے ٹاور تک شروع کیا گیا تھا۔ یکم جولائی 2022 کو دوسرا روٹ شروع کیا گیا اور اب 250 بسوں کے ساتھ سات سے زیادہ روٹس چل رہے ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سات بس روٹس کی سڑکوں پر مختلف مسائل ہیں۔

مثال کے طور پر ماڈل کالونی سے ٹاور تک کے پہلے راستے کی لمبائی 29.5 کلومیٹر ہے۔ ماڈل کالونی، ریگل چوک کے علاقے میں اس کے راستے پر اسفالٹ کے کام کی ضرورت ہے۔ملیر ہالٹ، ایف ٹی سی، آرام باغ کے علاقوں میں فرش کے کام کی ضرورت ہے اور کچھ علاقوں میں سیوریج/ڈرینج لائنیں خراب ہو گئی تھیں۔

اسی طرح نارتھ کراچی سے انڈس ہسپتال تک روٹ نمبر ٹو 32.9 کلومیٹر طویل ہے۔اس کے علاقوں جیسے شفیق موڑ، سہراب گوٹھ اور شاہ فیصل پل کے علاقوں میں اسفالٹ کے کام کی ضرورت ہے اور گلشن، شاہ فیصل کے علاقوں میں فٹ پاتھوں کی مرمت کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملیر ہالٹ، ایف ٹی سی، آرام باغ کے علاقوں میں فرش کے کام کی ضرورت ہے اور کچھ علاقوں میں سیوریج/ڈرینج لائنیں خراب ہو گئی تھیں، اسی طرح نارتھ کراچی سے انڈس ہسپتال تک روٹ نمبر ٹو 32.9 کلومیٹر طویل ہے، اس کے علاقوں جیسے شفیق موڑ، سہراب گوٹھ اور شاہ فیصل پل کے علاقوں میں اسفالٹ کے کام کی ضرورت ہے اور گلشن، شاہ فیصل کے علاقوں میں فٹ پاتھوں کی مرمت کی ضرورت ہے۔

ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی حکام کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں سیوریج/ڈرینج لائنوں کو نقصان پہنچا ہے، جنہیں بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ روٹ نمبر 3 میں ناگن چورنگی سے سنگر چورنگی تک 33 کلومیٹر طویل ہے، ان علاقوں جیسے حیدری، نیشنل اسٹیڈیم، شان چورنگی کی سڑکوں پر اسفالٹ کے کام کی ضرورت ہے جبکہ ایف ٹی سی پل، لیفٹ ٹرن ٹو لیاقت آباد نمبر 10 تک فٹ پاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں اور نشاندہی شدہ علاقوں میں سیوریج لائنیں بھی خراب ہیں۔ اس لیے انہیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔

بریفنگ میں ماس ٹرانزٹ  حکام کا کہنا تھا کہ روٹ 6 میں اورنگی ٹاؤن، پاپوش نگر، گارڈن، بلوچ کالونی، پی آئی بی کالونی، بہادر آباد انڈر پاس کی سڑکوں اور فٹ پاتھ کی مرمت کی جائے گی جب کہ روٹ7 کی سڑکوں اور سیوریج لائنوں جیسے کہ قطر ہسپتال کے ارد گرد، حاجی ہوٹل اورنگی کی مرمت کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ بلدیات کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں اور مرمت سمیت دیکھ بھال کے تمام کام اولین ترجیح پر شروع کریں، میں چاہتا ہوں کہ آپ [دونوں محکمے] 40 دنوں کے اندر کام مکمل کریں۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز بس سروس شہر میں ایک اچھی سہولت بن چکی ہے اور اسے مناسب طریقے سے برقرار رکھا جانا چاہیے،انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو 20 دنوں کے اندر 250 بس اسٹاپ قائم کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ بسوں پر کام کرنے والے کلینر، کنڈکٹر اور ڈرائیور جیسے عملے کے ارکان کو صاف ستھرا ہونا چاہیے، بس سروس کا معیار برقرار رکھا جانا چاہیے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں