24

پاکستان اسٹیل میں 10 ارب کی چوری بے نقاب کرنے والا افسر برطرف – ایکسپریس اردو

 کراچی: پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے 10 ارب روپے کی چوری کی نشاندہی کرنے والے افسر کو چوری اور مس کنڈکٹ کے الزامات لگاکر نوکری سے فارغ کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق انجینئر عبد الرحمٰن نے ایکسیئن سی ایم ڈی سیکیوریٹی کے طور پر م 10 ارب روپے کا میٹریل چوری ہونے کی رپورٹ مرتب کی تھی۔انجینئر عبد الرحمٰن نے سی ای او پاکستان اسٹیل کو چوری کی تفصیلی رپورٹ میں ملوث افسران کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی اے سے تحقیقات کی سفارش کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق انتظامیہ نے اربوں روپے کی چوری میں اعلیٰ انتظامی افسران کے خلاف ثبوت جمع کرنے کی سزا کے طور پر عبدالرحمن کے خلاف ہی پرانی انکوائری کھول دی اور مس کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے الزام پر نوکری سے برطرفی کا پروانہ عبدالرحمن کے گھر بھیج دیا۔نوکری سے برطرفی کا پروانہ وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ایف آئی اے سے رجوع کیے جانے کے اگلے رو زہی جاری کیا گیا۔

مزید یہ کہ وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے 10ارب روپے کی چوری کی تحقیقات کے لیے رپورٹ پر پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے اسے عبدالرحمن کی ان اعلیٰ انتظامی افسران سے چپقلش قرار دی جن کے خلاف ایف آئی اے کو ثبوت مہیا کیے گئے ہیں۔ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ نے 10ارب روپے کی چوری پر پردہ ڈالنے کے لیے وزارت کو دیے گئے جواب میں بتایا کہ رپورٹ مرتب کرنے والے افسر نے کارپوریٹ سیکریٹری سے بدتمیزی کی جس پر معافی مانگنے پر انہیں ایک موقع دیا گیا چوری کے ایک معاملے میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبدالرحمن نے شوکاز کے جواب میں پیش نہیں ہوئے اور جعلی میڈیکل جمع کراتے رہے۔ پاکستان اسٹیل نے وفاقی وزارت صنعت کو جواب دیاکہ قانونی ماہرین کے مطابق چوری کامعاملہ ایف آئی اے کی صوابدید سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان اسٹیل سے 10 ارب روپے کا میٹریل چوری ہونے کا انکشاف

چوری کی رپورٹ اور ثبوت مرتب کرنے والے افسر عبدالرحمن وڑائچ نے ایکسپریس کو بتایا کہ قومی اثاثہ کو لوٹنے والوں کی نشاندھی کی سزا کے طور پر جھوٹی انکوئری میں برطرف کیا گیا  فیصلہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا، انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر اپنے موقف کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور منظم طریقے سے پاکستان اسٹیل کو تباہ کرنے کے لیے اعلیٰ انتظامی افسران کی ملی بھگت سے ہونے والی چوریوں کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیل میں چوری کی وارداتوں کی 35سے زائد ایف آئی آر درج کرائی گئیں جن میں سے ایک پر  بھی کوئی ایکشن نہیں ہوا نہ ہی چوروں یا ملوث افرادکو پکڑا گیا اربوں روپے کی چوری کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہت سے واقعات کی ایف آئی آر سرے سے درج ہی نہیں کرائی گئی اور معاملے کو دبا دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل کے مین پلانٹ پر دہری سیکیوریٹی تعینات ہے جن میں سے ایک پاکستان اسٹیل کی سیکیوریٹی اور دوسری سرکاری مسلح سیکیوریٹی ہے جو دن رات گشت کرتی ہے مین پلانٹ کی سیکیوریٹی انتہائی سخت ہے اور انتظامی افسران کی ملی  بھگت کے بغیر چوروں کی رسائی ناممکن ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں