45

ممنوعہ فنڈنگ کیس  فیصلہ خلاف آنے پر تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے؟



ممنوعہ فنڈنگ کیس،  فیصلہ خلاف آنے پر تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف کیا …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ فارن اور ممنوعہ فنڈنگ ایک ہی چیز ہے ، سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں فارن فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے، فیصلہ خلاف آنے  کی صورت میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجائے گی ،  سیکشن 215 کے تحت پارٹی کا نشان بھی واپس لیا جاسکتا ہے، ممنوعہ فنڈنگ پر پارٹی کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جاسکتی ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے کیونکہ انہوں نے بطور چیئرمین لکھ کر الیکشن کمیشن کو دیا ہے کہ ان کی پارٹی میں کوئی ممنوعہ فنڈنگ نہیں ہے، اگر فنڈنگ ثابت ہوتی ہے تو عمران خان کے خلاف غلط بیانی پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی  ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کی طرف سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا  فیصلہ آتا ہے تو اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں الیکشن کمیشن حکومت پاکستان کو سفارشات بھیجے گا کہ متعلقہ پارٹی  نے فارن اور ممنوعہ فنڈنگ لی ہے اس لیے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وفاقی حکومت آرٹیکل 17 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرسکتی ہے کہ اس پارٹی نے فارن فنڈنگ لی ہے اس لیے اس کے خلاف آئین اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

مزید :

قومی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں