49

فوج کی بلوچستان میں امدادی کارروائیاں، متعدد بند شاہراہوں کو کھول دیا – ایکسپریس اردو

اوتھل میں 4 دیہات کے 2300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل (فوٹو : فائل)

پاکستان کے مختلف اضلاع کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، اوتھل میں 4 دیہات کے 2300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، کوئٹہ تا کراچی بلاک ہونے والی مختلف شاہراہوں کو کھول دیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کوئٹہ اور کراچی کو ملانے والی شاہراہ این 25 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، پل گرنے کے باعث 4 مختلف مقامات پر یہ بلاک ہوگئی تھی، پی ٹی اے کے تعاون سے بلوچستان کے بیشتر علاقوں بالخصوص ضلع لسبیلہ میں ٹیلی کمیونی کیشن بحال کردی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد اضافی بارشیں ہوئیں، بلوچستان کے 29 اضلاع حالیہ بارشوں/تیز سیلاب کی وجہ سے خاص طور پر لسبیلہ، کیچ، کوئٹہ، سبی، خضدار اور کوہلو متاثر ہوئے اور  3953 مکانات کو نقصان پہنچا، سیلاب زدہ علاقوں حب، گڈانی، بیلہ اور دودر اور جھل مگسی میں 5 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ فوج کی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے گوادر کے علاقے کو کلیئر کر دیا ہے، اگور کے مقام پر بند کوسٹل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، آرمی ایوی ایشن کے 4 ہیلی کاپٹروں نے 1.3 ٹن امدادی اشیاء بشمول راشن اور ادویات کی ترسیل کی۔

یہ پڑھیں : بلوچستان میں بارشوں سے تباہی؛ 111 افراد جاں بحق اور 6 ہزار مکانات تباہ

 آئی ایس پی آر کے مطابق جھل مگسی کے ساتھ گندواہ کا رابطہ دوبارہ شروع ہوگیا، دیگر 2 سڑکوں پر رابطہ بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، 200 افراد کو نکال لیا گیا، دریائے مولا میں پانی کی سطح اب بھی بلند ہے، پانی کم ہونے کے بعد این ایچ اے کی جانب سے M-8 کے رابطے پر کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خضدار میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے بیلہ اور گردونواح کا دورہ کیا، باب دوستی کو پانی بھرنے والی ٹیموں نے کھول دیا ہے کیونکہ یہ سیلاب کی وجہ سے بند ہے، پاک فوج، ایف سی اور پاکستان کوسٹ گوادر کی جانب سے ریلیف آپریشن جاری ہے۔

جاری کردہ بیان میں آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ژوب میں ایف سی اور سول انتظامیہ کی جانب سے موبائل فیلڈ میڈیکل کیمپ لگایا گیا، 1570 مریضوں کا علاج کیا گیا، کوئٹہ زیارت کاوس تنگی اسٹیشن کے قریب شدید سیلاب کے باعث بند ہونے والی سڑک کو کھول دیا گیا ہے، ہنہ اور نواں کلی میں سیلاب کی اطلاع ہے جہاں ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

سندھ میں امدادی کارروائیاں

فوج کے تعلقات عامہ کے مطابق صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئیں، ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن جو پانی سے بھر گیا تھا آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے صاف کر دیا ہے، جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، آرمی نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا، لٹھ ڈیم کے اوور فلو کے باعث M-9 مختلف مقامات پر زیر آب آ گیا، سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ پانی نکالنے والی ٹیمیں کام میں لگ گئیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، کے کے ایچ اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے متعدد لینڈ سلائیڈنگ کے ذریعے کھلا رکھا ہے، سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا، مواصلاتی ڈھانچہ کھول دیا گیا، مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مزید بتایا کہ بارش سے ضلع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے، چترال مستوج اور روڈ ٹانک گومل زام ڈیم کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، پاکستان آرمی، نیوی اور ایف سی/ رینجرز کے دستے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں سول انتظامیہ اور مقامی کمیونٹیز کی مسلسل مدد کر رہے ہیں۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں