17

ہزاروں شہریوں نے پھرعراقی پارلیمنٹ پر دھاول بول دیا – ایکسپریس اردو

عراق کے شہر بغداد میں مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامیوں نے ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق شعیہ عالم مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامیوں نے ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ پارلیمنٹ میں گھسے ہیں جس سے کم ازکم 125 افراد زخمی ہوگئے جبکہ سیاسی سرگرمیاں مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں۔

مظاہرین نے کہا کہ ہم بدعنوانی سے پاک حکومت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ عوام کے مطالبات ہیں۔ 27 تاریخ کوبھی اسی طرح کا پر تشدد مظاہرہ تھا لیکن حالیہ مظاہرے میں مظاہرین اور پولیس سمیت 125 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے حکام نے بتایا کہ مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے پتھراؤ کیا اور پولیس نے آنسو گیس اور اسٹن گرنیڈ فائر کئے۔ 49 سالہ ایک شخص نے بتایا کہ ہم عراقی ان کرپٹ لوگوں کی وجہ سے ناانصافیوں کو سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے دو بے روزگار بچے ہیں جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں اور میں بے روزگار ہوں،  نوکریاں نہیں ہیں اور یہ سب کرپشن کی وجہ سے ہے۔

مقتدیٰ الصدر کی پارٹی اکتوبر کے انتخابات میں پہلے نمبر پر آئی تھی لیکن اس نے حکومت بنانے میں ناکامی کے بعد اپنے 74 قانون سازوں کو پارلیمنٹ سے واپس بلایا تھا۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں