24

بھارت میں 20 سال قبل لاپتہ ہونے والی خاتون پاکستان سے مل گئی



بھارت میں 20 سال قبل لاپتہ ہونے والی خاتون پاکستان سے مل گئی

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں 20سال قبل لاپتہ ہونے والی خاتون پاکستان کے شہر حیدرآباد سے مل گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حمیدہ بانو نامی یہ خاتون ممبئی کی رہائشی تھی۔ اس نے 20سال قبل ایک ایجنٹ کو دبئی جانے کے لیے پیسے دیئے تھے۔ ایجنٹ نے اسے دبئی لیجانے اور وہاں ملازمت دلانے کا وعدہ کیا لیکن دھوکے سے اسے دبئی پہنچانے کی بجائے پاکستان سمگل کیا اور بے یارومددگار چھوڑ دیا۔

حمیدہ بانو، جو اب عمر کی 50کی دہائی میں ہے، نے حیدرآباد میں ایک پاکستانی شخص کے ساتھ شادی کر لی۔ تاہم چند سال بعد اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ رہتی ہے۔ 20سال قبل ممبئی سے نکلنے کے بعد اس کا ممبئی میں موجود اپنے بچوں اور فیملی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ گزشتہ دنوں ایک پاکستانی یوٹیوبر ولی اللہ معروف نے حمیدہ بانو کا انٹرویو کیا۔ یوٹیوب پر حمیدہ بانو کا یہ انٹرویو بھارت کے ایک یوٹیوبر خلفان شیخ نے دیکھا اور اپنے چینل پر حمیدہ بانو کے بھارت میں موجود ورثاءکی تلاش کے لیے لوگوں سے مدد کی درخواست کی۔

30منٹ کے اندر شیخ کو معلوم ہو گیا کہ حمیدہ بانو کی فیملی اب بھی ممبئی میں اسی گھر میں مقیم ہے جہاں سے 20سال قبل وہ روزگار کے لیے نکلی تھی اور پھر کبھی نہ لوٹی۔ حمیدہ بانو کے پوتے بلال نے ویڈیو دیکھ کر اپنی دادی کو پہچان لیا۔ حمیدہ کی بیٹی یاسمین نے بھی ویڈیو دیکھتے ہی ماں کو پہچان لیا۔ دونوں یوٹیوبرز نے بعد ازاں حمیدہ بانو کی اپنی بیٹی یاسمین اور بلال سے ویڈیو کال پر بات بھی کروائی۔ 

بانو کے بچوں نے پاکستان میں واقع بھارتی سفارتخانے سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی ماں کو بھارت واپس پہنچانے میں کردار ادا کرے۔ یاسمین کا کہنا تھا کہ ”ہمیں اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ بھارتی سفارتخانہ ان کی فوری واپس کے لیے کوشش کرے۔“

بتایا گیا ہے کہ حمیدہ بانو کا شوہر شرابی تھا اور وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ 1996ءمیں اسے کسی نے بتایا کہ وہ خلیجی ممالک میں جا کر زیادہ پیسے کما سکتی ہے۔ چنانچہ وہ کسی طرح پیسے جمع کرکے متحدہ عرب امارات چلی گئی۔ وہاں وہ 9سال تک دبئی اور ابوظہبی میں ملازمت کرتی رہی۔ 

2002ءمیں ویزہ ختم ہونے پر حمیدہ بھارت واپس آگئی اور پھر ممبئی کے علاقے وکرولی کی رہائشی ایک خاتون نے اسے دوبارہ دبئی بھجوانے کے عوض پیسے لیے اور اسے دبئی بھجوا دیا تاہم جیسے ہی اس کی پرواز دبئی میں لینڈ ہوئی، اسے وہاں سے پاکستان کی پرواز پر بٹھا دیا گیا۔ دبئی میں حمیدہ سے بھارتی پاسپورٹ بھی لے لیا گیا تھا۔

پاکستان میں اس انسانی سمگلر گروہ کے چنگل سے نکلنے کے بعد حمیدہ کئی مہینے کراچی میں فٹ پاتھ پر رہی اور پھر اس کی ملاقات ایک ہاکر سے ہوئی جو چار بچوں کا باپ تھا اور اس کی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ اس آدمی نے حمیدہ سے شادی کر لی اور اسے گھر لے آیا۔ چند سال بعد اس آدمی کا انتقال ہو گیا جس کے بعد اس شخص کے بڑے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کو اپنے ساتھ رکھا اور اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ 

مزید :

بین الاقوامی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں