30

بوسٹن میساچوسٹس میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل بیری ہیفمان انتقال کر گئے



بوسٹن، میساچوسٹس میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل بیری ہیفمان انتقال کر گئے

نیویارک (طاہرمحمود چوہدری سے)  امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں پاکستان کے اعزازی  قونصل جنرل، بیری ہیفمان   گزشتہ روز انتقال کر گئے، انکی عمر 76 برس تھی.

تفصیلات کے مطابق  بیری ہیفمان    48 سال مسلسل پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل رہے،  رئیل اسٹیٹ ڈویلپر، قانون دان, مصنف بیری ہیفمان امریکہ میں پاکستان کے مخلص دوست کے طور پر جانے جاتے تھے،  امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے ان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر بیری ڈی ہیفمان کی پاکستان کے لیے خدمات کو خراج عقیدت  پیش کرتے ہوئے مرحوم کے پسماندگان سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے. 

بیری ہیفمان کو 1974ء میں  حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی شہر بوسٹن، میساچوسٹس میں باقاعدہ پاکستانی قونصلیٹ نہ ہونے کے باعث ابتداء میں “رضا کار اینوائے” (قونصل) مقرر کیا گیا تھا،  پاکستان میں جمہوری اور فوجی حکومتوں کے ہنگامہ خیز ادوار کے دوران بھی بیری ہیفمان اپنے فرائض ادا کرتے رہے،  ان کے فرائض کا زیادہ تر تعلق پاکستان سے تعلیم کی غرض سے خصوصاً، بوسٹن، میساچوسٹس ،کیمرج اور دیگر امریکی شہروں آنے والے پاکستانی طلباء کی اعانت کرنا اور انکے مسائل حل کرنا ہوتا تھا.

بیری ہیفمان نے متعدد بار پاکستان کے دورے بھی کیے ، کئی پاکستانی لیڈروں اور سفارت کاروں کے ساتھ انکے بڑے اچھے تعلقات تھے. امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے 2003 میں بیری ہیفمان پر ایک تفصیلی مضمون شائع کیا تھا، جس کے مطابق  پاکستان کے حکمران جنرل ضیاء الحق نے 1982ء میں اپنے دورہء امریکہ کے دوران نیویارک کے والڈورف آسٹوریا ہوٹل میں ہونے والی ایک ملاقات میں بیری ہیفمان سے پوچھا کہ وہ انکی پاکستان کے لیے خدمات کا قرض کیسے چکا سکتے ہیں؟ ، اس پر بیری ہیفمان نے جنرل ضیاء الحق سے درخواست کی کہ انہیں انکے “اعزازی قونصل” کے عہدے سے “اعزازی قونصل جنرل” بنا دیا جائے،  اس پر جنرل ضیاء الحق اپنے ایک معاون کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے کہا، “یہ کر دیا جائے.”اس کے بعد سے وہ پاکستان کے بوسٹن میں اعزازی قانصل جنرل کہلانے لگے. 

آنجہانی بیری ہیفمان ایک کل وقتی اسسٹنٹ کی مدد سے قونصل خانہ بوسٹن کے مضافاتی علاقے نیڈھم میں واقع دفتر سے چلاتے رہے،  انہوں نے اپنے دفتر کو مشرقی قالینوں اور پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر سے سجایا ہوا تھا.  انکا دفتر ہفتے میں پانچ دن اور سات گھنٹے کھلا رہتا تھا  جبکہ ایمرجنسی کی صورت میں چوبیس گھنٹے ان سے رابطہ کیا جا سکتا تھا.

بیری ہیفمان نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ وہ پاکستان کے اعزازی قونصل خانے کے اخراجات کی مد میں تقریباً 40 ہزار ڈالر سالانہ اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں.

امریکہ میں نائن الیون کے واقعہ کے بعد بیری ہیفمان نے پاکستانی کمیونٹی کی مشکل وقت میں کافی مدد کی،  کئی پاکستانی شک میں پکڑے جانے کے باعث انہیں جیل سے فون کرتے ، جن کی مدد کو وہ  ہر وقت تیار رہتے تھے. بیری پاکستان سے امریکی یونیورسٹیوں میں آنے والے طلباء سے رابطے میں رہتے، انہیں مختلف عشائیہ تقریبات میں دعوت نامے بھیج کر بلاتے رہتے. 

 امریکہ میں 90ء کی دہائی میں سابق پاکستانی سٹوڈنٹ اور بعدازاں 2003ء میں پاکستانی سفارت خانہ واشنگٹن میں پریس منسٹر تعینات اسد حیاء الدین نے بیری ہیفمان کی انتھک خدمات کے اعتراف میں انہیں”ون مین آرمی” کا خطاب دیا تھا.  

امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ارکان نے کہا کہ  بیری ہیفمان کی وفات سے پاکستان امریکہ میں ایک سچے اور مخلص دوست سے محروم ہو گیا ،  حکومت پاکستان کو بیری ڈی ہیفمان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بعد از مرگ اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازنا چاہیے.

مزید :

بین الاقوامی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں