25

ایرانی صدر اگلے ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں



ایرانی صدر اگلے ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت …

نیویارک (طاہر محمود چوہدری سے) ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اگلے ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں. یہ انکشاف ایران کے سرکاری میڈیا کی جانب سے امریکہ کے خلاف جوہری دھمکی کے کچھ دن بعد سامنے آیا ہے. ایران کے بنیادی ترجمان علی بہادری زہرومی نے کہا کہ ابراہیم رئیسی  کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں میں شرکت کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں. انکی شرکت 13 ستمبر کو متوقع ہو سکتی ہے. 

ایران ان 4 ممالک میں سے ایک ہے، جسے امریکی محکمہ خارجہ نے “دہشت گردی کے سپانسرز” کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے. دیگر 3 ممالک میں کیوبا، شام اور شمالی کوریا شامل ہیں. ایران کی قومی مزاحمتی کونسل (این سی آر آئی) نے حال ہی میں’ نیوز ویک’ کو بتایا کہ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو سپریم لیڈر رئیسی کو عارضی ویزا نہیں دینا چاہیے، کیونکہ ایران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے. 

 2019 میں ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان نے اس وقت کے ایرانی صدر حسن روحانی کو ویزہ دینے کی مخالفت کی تھی. جو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے. 2019 میں، ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی صدر  کو ویزہ تو دے دیا تھا تاہم ان کی نیویارک میں نقل و حرکت کو اقوام متحدہ کی عمارت اور ایران کے اقوام متحدہ مشن تک محدود کر دیا تھا. انہیں مین ہٹن کے دوسرے حصوں یا امریکہ میں کسی اور جگہ جانے کی اجازت نہ تھی. 

  ٹرمپ کی اس وقت کی قومی سلامتی ٹیم کے ایک رکن رچرڈ گولڈ برگ نے نیویارک ‘سن’ کو بتایا کہ “اس وقت ایران بنیادی طور پر دہشت گردی کا سرپرست تھا. اب امریکیوں کے خلاف سرگرم قتل کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ “یہ خیال کہ آپ  ابراہیم رئیسی جیسے دہشت گرد کو امریکہ جانے دیں گے، انتہائی مضحکہ خیز ہے.”

 تاہم ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کو امریکہ  کی جانب سے ویزہ  دینے سے انکاراقوام متحدہ  اور امریکہ کے درمیان 1947 کے ہیڈ کوارٹرز معاہدے کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے. میزبان ملک معاہدے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے. یہ معاہدہ امریکہ کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے تمام سفیروں کے ساتھ ساتھ سالانہ مباحثوں، جیسے اقوام متحدہ کی تقریبات میں شرکت کرنے والے مندوبین کو ملک میں قبول کرنے کا پابند کرتا ہے.

مزید :

بین الاقوامی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں