24

یہ لڑائی اب ختم کرنا ہوگی – ایکسپریس اردو

سیاسی استحکام ہر ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے اور سیاسی عدم استحکام زہر قاتل ہے۔ سیاسی عدم استحکام انتشار اور انارکی کو جنم دیتا ہے، جس سے نہ صرف معیشت، بلکہ ملک کی وحدت بھی پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔ ملک پر خوف اور مایوسی کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔

عوام کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے اور پریشانی، نفرت اور غصے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ملک کئی ماہ سے سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے اور یہ سیاسی عدم استحکام دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ہر روز حالات پیچیدہ اور مشکل ہورہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات براہ راست عوام پر اثر انداز ہورہے ہیں اور ملک میں مہنگائی اپنی تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ اشیائے خورو نوش اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ متعدد ترقی پذیر ممالک میں بھی اگرچہ مہنگائی ہے، لیکن پاکستان میں صورت حال زیادہ ہی ابتر ہے۔

عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ڈالر کا ریٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ہر چیز متاثر ہوئی ہے۔ ہمارے تجارتی خسارے دگنا ہو گئے ہیں۔ موجودہ معاشی تنزلی کے نتائج نہایت سنگین ہوسکتے ہیں۔

ملک میں معاشی بحران صرف اور صرف سیاسی بحران کا نتیجہ ہے۔ سیاسی بحران، معیشت کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آتا تب تک معاشی استحکام کے دعوے حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے۔ ملک کی معیشت بچانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی معاشی پالیسیوں اور ایک اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہوگا۔ ملک میں معاشی استحکام ہو گا تو ہی ملکی اور غیرملکی سرمایہ کار مطمئن ہوکر سرمایا کاری کرے گا۔ کارخانے لگیں گے اور ملک مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ اس کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے، اگر ملک میں سیاسی استحکام آتا ہے تو ہی ملکی معیشت میں بہتری پیدا ہو گی۔

افسوس مگر اس بات کا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاست دانوں کی طرف سے روز ایک نیا تماشا لگا کر عوام کو مرنے مارنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ سیاسی قائدین کی کم فہمی اور ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کی بے لگام خواہش ملک میں بحرانوں کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وفاق میں اتحادی جماعتوں کی حکومت قائم ہے اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی ہے۔

اب سیاسی استحکام بہت مشکل ہے، کیونکہ پہلے ہی کوئی سیاست دان کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں ہے، اب تو اور بھی مشکل ہے۔ سیاسی قائدین کے غیر ذمے دارانہ اور عاقبت نااندیش بیانات ملک کے لیے خارجہ سطح پر بھی گمبھیر مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

سیاست کا یہ چلن اور اقتدار کی رسہ کشی ملک کے پورے نظام کو زمین بوس کر سکتی ہے۔ سیاستدان بظاہر جمہوریت کے علمبردار ہیں، لیکن ان میں جمہوری اخلاق اور جمہوری اقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جمہوریت میں ایک دوسرے کی بات سنی جاتی ہے اور اتفاق رائے سے فیصلے کیے جاتے ہیں، لیکن یہاں تو سب اپنے ہی فیصلے مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ جب سیاسی جماعتوں میں ہی جمہوریت نہیںہو گی تو پھر یہ جمہوریت کی بات کس منہ سے کرسکتی ہیں۔

تنازعات اوراختلافات ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں، لیکن صرف طاقت یا ہٹ دھرمی سے معاملات کا کبھی پائیدار حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ فریقین کو بالآخر گفت و شنید ، افہام و تفہیم اور صلح جوئی کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں تمام طبقوں ، اداروں، سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو ذاتی عناد اور انا کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے مل بیٹھ کر سوچ و بچار کرنا چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن کو اپنے مفادات اور اناؤں سے بالا سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اپنے سیاسی معاملات خود حل کرنے چاہیے۔

کسی تیسری قوت کو موقع نہیں دینا چاہیے، اگر سیاست دان اپنے معاملات حل کروانے کے لیے کسی دوسری اور تیسری قوت سے رابطہ کریں تو اس صورت میں جمہوریت سلامت نہیں رہ سکتی۔ تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اگر جمہوریت کو آگے لے کر جانا ہے تو غیر سیاسی مداخلت کا راستہ روکنا ہوگا، اگر سیاست دان آپس میں بیٹھنے کو تیار ہی نہ ہوں تو پھر کسی اور سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ آپس میں بیٹھ کر بات نہ کی جا سکے۔

تمام سیاست دانوں کو تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے اس بیان پر غور کرنا چاہیے اور عمل بھی کریں، تاکہ غیر سیاسی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کے لیے روکا جاسکے۔ یہ کام سیاست دانوں کو ہی مل کر کرنا ہے، اگر سیاست دان خود سے مل کریہ کام نہیں کریں گے تو کبھی بھی غیر سیاسی قوت کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

اگر سیاسی رہنماؤں کو ملک و قوم کی فکر ہے اور وہ ملک کو معاشی ابتری سے نکالنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز معیشت کی مرمت سے نہیں، بلکہ سیاست میں ہم آہنگی کی کوششوں سے کرنا ہوگا۔ سیاست دانوں کو ملک میں انتشار اور نفرت انگیز بیانات، پرتشدد اور پراشتعال احتجاجی تحریکوں، دھرنوں اور سڑکیں بند کرنے کے سیاسی کلچر کو ختم کرکے اپنے کردار اور عمل کو جمہوری کلچر سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ سیاست میں بہتان تراشی، کردار کشی جیسے کلچر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی اپنی تجاویز سامنے لائیں۔

ان تجاویز پر غور و فکر کریں اور عمل کرکے ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ملک میں موجودہ حالات اور معاملات کو سلجھانے کے لیے ہمارے سیاسی رہنماؤں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور انھیں ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ سیاسی عدم استحکام کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے۔ انھیں ہر وہ راستہ روکنا ہوگا جو عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے، اگر معاملات کو سنبھالا نہ گیا تو ملک کی معیشت سمیت مجموعی معاملات کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے ہیں اور اس کے ذمے دار سیاسی قوتیں ہوں گی۔

سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک سیاسی عدم استحکام ختم نہیں ہوتا معیشت بہتر نہیں ہوسکتی۔ سیاسی بحران ختم ہوگا تو ہی معاشی بحران ختم ہوسکتا۔ سیاسی بحران رہے گا تو لوگ سرمایہ کاری نہیں کریں گے۔ اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر صاف اور شفاف عام انتخابات کا اعلان کیا جائے، اگر فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان نہیں کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑتی جائے گی۔ تحریک انصاف وفاق کی حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اتحادی جماعتوں کی وفاق حکومت تحریک انصاف کے تعاون سے بنے والی پنجاب حکومت کو ماننے کو تیار نہیں۔

اس طرح حکومت کا چلنا بہت مشکل ہے۔ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ فوری الیکشن کروائے جائیں۔ اپنا مطالبہ منوانے کے لیے تحریک انصاف نے بہت بڑے جلسے جلوس بھی منعقد کیے ہیں، جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پیداہونا یقینی تھا۔ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے آزاد اور شفاف انتخابات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ عوامی حمایت سے منتخب ہوکرآنے والی حکومت کی موجودگی ہی سیاسی استحکام اور معاشی بحران کے خاتمے کا سبب بنے گی۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں