26

ریاست اور شہریوں کا مفاد سب سے پہلے – ایکسپریس اردو

ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے درمیان میں گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت اور مالیاتی معاملات میں بہتری کی نوید سنائی ہے۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں حاضرین کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی گئی ہیں، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس اگلے ماہ ہوگا، آئی ایم ایف کی چھٹیوں کے باعث پاکستان کے لیے تیار معاشی پروگرام کی منظوری اگست کے تیسرے ہفتے تک چلی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن قوانین اور گورننس کو بہتر بنایا جائے گا، آئی ایم ایف کی مشاورت سے کمیشن قائم کیا جائے گا، جس میں پاکستان اور بیرون ملک سے ماہرین شامل ہوں گے۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس سال 4 ارب ڈالر کا فنانسنگ گیپ ہے، دوست ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے جب کہ حکومتی ملکیت شیئرز کی فروخت کے لیے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

تاہم ان کمپنیز کی مینجمنٹ یا ملکیت فروخت نہیں کی جائے گی، صرف اسٹاک مارکیٹ میں کچھ شیئرز فروخت کیے جائیں گے، کچھ دوست ممالک شیئرز خریدنا چاہتے ہیں، اس سے پاکستان کو فنانسنگ گیپ کم کرنے میں مدد ملے گی، کچھ اشیا کی درآمد پر پابندی جلد ختم کی جائے گی، فیول کی قیمتیں کم ہونے سے درآمدات میں کمی آئے گی، پاکستان میں 43 دن کے لیے ڈیزل اور 30 دن کے پیٹرول کا ذخیرہ بھی موجود ہے، رواں ماہ درآمدات 3.77 ارب ڈالر ہیں، جو 4.4 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

دریں اثنا اپنے ٹویٹ میں وزیر خزانہ نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ کی بین الاقوامی ایجنسیوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی ہمارے اس موقف کی تائید کی ہے کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا، جے پی مورگن نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان ادائیگیوں میں ڈیفالٹ نہیں کرے گا، حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کفایت شعاری کے اقدامات اور اس کے بعد آئی ایم ایف اور دوطرفہ و کثیرالجہتی شراکت داروں کے ساتھ معاہدے کے بعد ہمارے بانڈز محفوظ اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ جے پی مورگن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ دسمبر 2022 کے لیے پاکستان کے 5.625 فیصدکے حامل بانڈز کی ادائیگی ہوجائے گی، پاکستان کے مختصر مدت کے بانڈز پرکشش سرمایہ کاری کے حامل ہیں، پاکستان کی حکومت دسمبر تک بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو برقرار رکھیں گی اور انھی اندازوں کی بنیاد پر دسمبر 2022 میں پاکستانی سکوک بانڈز کی ادائیگی ہوجائے گی۔

قبل ازیں کریڈٹ ریٹنگ کی دو بین الاقوامی ایجنسیوں فچ اور موڈیز انویسٹر سروسز نے بھی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط مل جائے گی جس سے ملکی کرنسی اور بانڈز پر دباؤ کم ہو جائے گا۔ ادھر چند روز قبل عالمی جریدے بلوم برگ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی مالی ضروریات کو آئی ایم ایف بیل آوٹ سے پورا کرسکتا ہے۔ بلوم برگ کے معاشی و مالیاتی تجزیے کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جون 2023 تک تقریباً 34ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاہم پاکستان کے پاس دستیاب فنانسنگ 36ارب ڈالر ہوگی۔

ایسے مشکل حالات کے باوجود پاکستان کے پاس اتنا پوٹینشل ہے کہ اگر ملک میں سیاسی استحکام قائم ہو جاتا ہے تو ملکی معیشت میں بھی بہتری پیدا ہو جائے گی اور عالمی سرمایہ ادارے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری پر تیار ہوجائیں گے جب کہ ملک کے اندر کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آجائے گی۔

کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی تو بے روزگاری میں کمی ہوگی خصوصاً غیر ہنر مند لیبر کو روزگار ملنے کے زیادہ امکان ہے کیونکہ شاپنگ مالز اور کاروباری مراکز میں غیر ہنر مند لیبر کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ یوں سرمایہ دار کے لیے اپنی آمدنی میں اضافے کے ذرائع پیدا ہوں گے تو دوسری طرف روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مزدور کی خوشحالی کے لیے سیاسی استحکام اور کاروبار دوست ماحول ضروری ہے، اگر سیاسی لیڈران اور اسٹیبلشمنٹ کو ملک و قوم کی فکر ہے، اگر وہ ملک کو معاشی ابتری سے نکالنا چاہتے ہیں، اگر قومی معیشت کو سری لنکا جیسی تباہی سے بچانا ہے تو اس کا آغاز سیاست میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی نہ کہ معاملات کو مزید پیچیدہ بنا کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جائے۔

جب تک سیاسی جماعتیں، سیاست کے جمہوری اور معاشی رموز سے واقفیت اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگی حاصل نہیں کرتیں، ملک میں سیاست اور معیشت کے بحران ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو ان معاملات کو سلجھانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو یک نکاتی ایجنڈے پہ اکٹھا ہونا پڑے گا۔ سیاسی عدم استحکام کے لیے اجتماعی جدوجہد ناگزیر ہے، لہٰذا سیاسی رہنماؤں اور قومی اداروں کو ان حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے متحرک ہونا پڑے گا۔

حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہاں غیرمعمولی تدبر اور فہم وفراست کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اخبار میں شائع ہونا یہ بیان کہ اس وقت ملکی حالات کو سدھارنے کی سب سے بڑی ذمے داری سیاستدانوں کی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات نہیں بھولنا چاہتیں تو نہ بھولیں لیکن ان کو پس پشت ڈال دیں۔

انھوں نے طاقت کے مراکز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات رکھنے والے تمام لوگ ایک ایجنڈے یعنی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے سوچ و بچار اور عملی طور پر حل کرنے پر غور کریں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ سیاستدان ایسا طبقہ ہے جو عوام کو صحیح سمت پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہتر ورکنگ ریلیشن شپ ہونی چاہیے تاکہ ملک کے معاملات بغیر کسی رکاوٹ چل سکیں اور تعصب کا شکار نہ ہوں۔

ملک میں اس وقت جو چپقلش جاری ہے‘ وہ ملک کی وحدت اور سلامتی کے لیے بھی اچھی نہیں ہیں‘ ملک کی شمال مغربی سرحد کے پار جو سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں‘ وہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو ان معاملات پر کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اقوام عالم کے ردعمل اور اپنی معیشت کے بحران پر اچھی طرح غوروفکر کر لینا چاہیے۔ نئے عالمی جیواسٹرٹیجک الائنس بن رہے ہیں جب کہ سرد جنگ کے دور کی صف بندیاں بکھر چکی ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو ریاست اور اس کے باشندوں کے مفادات کو اولیت دینے کی ضرورت ہے۔

بند کمروں میں بیٹھ کر یا ان کیمرہ اجلاسوں کے دوران معاملات کو زیر بحث لانا اور پھر فیصلے کر لینا‘ شاید اتنے فائدہ مند نہیں رہے جتنے کہ ماضی میں ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور اس سے جڑے دیگر ادارے اور ملک کی جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کی قیادت اور اہل علم کو روایتی انداز فکر سے نکل کر معاملات پر غور کرنا چاہیے۔

پاکستان کے شمال مغربی ہمسایہ ممالک اپنے نظام اور معاشرت کے اعتبار سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سے بہت زیادہ پسماندہ ہیں۔ ایک جماعت یا گروہ کی آمریت کسی صورت بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتی اور اگر یہ یک جماعتی اور گروہی آمریت بے لچک نظریات کے تابع ہو اور انھیں نظریات کے بل بوتے پر مملکت کا نظام نافذ کرے تو ایسے نظام میں معاشی ترقی کی بھی گنجائش نہیں ہوتی اور نہ ہی سائنسی اور فکری ارتقا پذیری رونما ہو سکتی ہے۔

پاکستان ایک ماڈریٹ کلچر کا حامل ملک ہے‘ ایک ملک میں کلچرل رنگا رنگی ہی اس کی سب سے بڑی خوبی اور خوبصورتی ہے۔ اس ملک کو ایسے نظام یا نظریے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا جس میں کلچر کی گنجائش نہ ہو‘ جس میں فکری حوالے سے بحث کی اجازت نہ ہو‘ یہ سب معاملات پاکستان کے پالیسی سازوں کے سوچنے کے ہیں کیونکہ پاور ان کے پاس ہے۔ اگر پاکستان میں موجود ثقافتی اور تہذیبی رنگا رنگی ختم ہوتی ہے تو پھر اس ملک اور یہاں کے معاشرے کی شناخت تبدیل ہو جائے گی۔ آج کی دنیا میں ایسے ملک اور معاشرے کامیاب نہیں ہو سکتے جہاں یک رنگی اور کسی مخصوص نظریے کو بزور قوت نافذ کیا گیا ہو۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں