19

تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ثابت الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا



تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ ثابت، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ لینا ثابت ہوگیا ہے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے 21 جون کو محفوظ کیا گیا تھا، جو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے آج صبح پڑھ کر سنا دیا، جس کے مطابق پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ موصول ہوئی۔الیکشن کمیشن نے ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دیدی۔

الیکشن کمیشن نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈ ز لیے ہیں ، اکاﺅنٹ چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے ، پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا جو غلط ت تھا، پارٹی اکاﺅنٹس سے متعلق دیا گیا بیان حلفی جھوٹا ہے ، پی ٹی آئی کو بین الاقوامی ممالک سے عطیات موصول ہوئے ، پی ٹی آئی کو 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈ موصول ہوئے ، پی ٹی آئی کو 351 غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈز موصول ہوئے ، پی تی آئی کو امریکی شہری سے بھی عطیات ملے پی ٹی آئی کو امریکہ میں مقیم بھارتی شہری رومیتا شیٹھی سے 13 ہزار 750 ڈالر ملے، پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کیا جاتاہے کہ کیوں نہ ان کے ممنوعہ دفنڈ ضبط کیئے جائیں ، پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 17 کے زمرے میں آ تاہے۔

پی ٹی آئی نے عارف نقوی کی کمپنی ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ لی ، عارف نقوی کی کمپنی سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 امریکی ڈالرز ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ، پی ٹی آئی نے یو اے ی کمپنی برسٹل ، انجینئرنگ سروسز سے40 ہزار 965 ڈالر ممنوعہ فڈنگ لی ، پی ٹی آئی نے آسٹریلیا کی کمپنی سے بھی ممنوعہ فنڈنگ لی ۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف 13 اکاونٹس بتانے میں ناکام رہی، غیر ملکی فنڈنگ میں 34 غیر ملکیوں اور 351کمپنیوں   سے ڈونیشن لیئے گئے ،پی ٹی آئی کو امریکہ، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات اورکینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ بھی ممنوعہ ہے، پی ٹی آئی نے 8 اکاونٹس کوتسلیم کیااور 13 اکاونٹس پوشیدہ رکھے۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی فنڈنگ ضبط کرنے کیلئے نوٹس بھی جاری کر دیاہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ پی ٹی آئی نے اپنے اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں مس ڈیکلیریشن جمع کرایا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا سرٹیفکیٹ غلط تھا۔ پی ٹی آئی نے امریکا سے ایل ایل سی سے فنڈنگ لی۔ پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ آپ کے فنڈز ضبط کرلیے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکا سے ایل ایل سی سے فنڈنگ لی۔ پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ہے۔کمیشن مطمئن ہو گیا ہے کہ مختلف کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی۔ پی ٹی آئی نے 34 غیرملکی کمنیوں سے فنڈنگ لی۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ آپ کے فنڈز ضبط کرلیے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا 68 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس کے مطابق تحریک انصاف نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں درج ہے کہ سوئزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ درست نہیں تھے۔

دو روز قبل ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ فارن اور ممنوعہ فنڈنگ ایک ہی چیز ہے ، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں فارن فنڈنگ ثابت ہوچکی ہے، فیصلہ خلاف آنے  کی صورت میں ممنوعہ فنڈنگ ضبط ہوجائے گی ،  سیکشن 215 کے تحت پارٹی کا نشان بھی واپس لیا جاسکتا ہے، ممنوعہ فنڈنگ پر پارٹی کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جاسکتی ہے۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں