26

ایف بی آر کا تاجروں کو فکس ٹیکس کی شرح کم کرنے کا عندیہیقین دہانی کرادی



ایف بی آر کا تاجروں کو فکس ٹیکس کی شرح کم کرنے کا عندیہ،یقین دہانی کرادی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )چیئرمین ایف بی آر نے 30ہزار روپے ماہانہ سے کم بجلی کے بلوں پر چھوٹے تاجروں کے لیے فکس ٹیکس کی شرح کم کرنے اور اس کے نئے سلیب بنا کر چھوٹے تاجر کو ریلیف دینے کی یقین دہانی کرادی ہے ۔

نجی ٹی وی “ایکسپریس نیوز “کے مطابق چیئر مین ایف بی آر عاصم احمد کا  مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری کی زیر قیادت تاجروں کے وفد سے ملاقات میں کہنا تھا کہ تاجروں کی سہولت کیلئے یہ فکس ٹیکس کا نظام متعارف کروایا ہے، البتہ ماہانہ 30ہزار سے کم بجلی کے بلوں کیلئے ہم فکس ٹیکس کی شرح کو کم اور اس کے نئے سلیب بنا کر چھوٹے تاجروں کو ریلیف دینے پر غور کررہے ہیں۔

  رپورٹ کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 30 ہزار روپے ماہانہ بجلی کے بلوں پر بھی فائلر کے لیے یہ ٹیکس 6ہزار نہیں 3ہزار رو پے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی چیئرمین ایف بی آر نے بجلی کمپنیوں کو ہدایت جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کے میٹرز صرف ایک درخواست پر اور آن لائن فوری طور پر کاروبار کرنے والے افراد کے نام منتقل کیے جائیں تاکہ تمام فائلرز پر یہ ٹیکس کم ہو سکے۔

تاجروں نے چیئرمین ایف بی آر سے کہا کہ بجلی کے بلوں پر تاجر پہلے ہی انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکس ادا کر رہے ہیں، ان ٹیکسز کے ساتھ یہ اضافی ٹیکس عائد کرنا سراسر ظلم ہے، لہٰذا فکس ٹیکس کو فی الفور ختم کیا جائے بصورت دیگر ملک بھر کے تاجر بجلی کے بل جمع نہیں کروائیں گے۔

کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجر قیادت ایف بی آر اور وزارت خزانہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن معاملات طے ہونے اور عملی اقدامات تک ہمارا احتجاج اور بجلی کے بل جمع نہ کروانے کا فیصلہ قائم رہے گا۔شرجیل میر نے کہا کہ تاجروں کے لیے مہنگائی، بارشوں اور ملکی معاشی صورتحال میں اپنے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں ایسے وقت میں تاجر دوست پالیسیوں کی بجائے اس طرح کے ٹیکسز کا نفاذ نقصانات کا باعث بن رہا ہے۔

چیئر مین ایف بی آر نے کہا کہ ہم بجلی کمپنیوں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ بجلی کے میٹرز صرف ایک درخواست پر اور آن لائن فوری طور پر کاروبار کرنے والے افراد کے نام منتقل کیے جائیں تاکہ تمام فائلرز پر یہ ٹیکس کم ہوسکے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ماہانہ 3 ہزار دینے والے تاجر کو سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس رجسٹرڈ تصور کیا جائے گا، ان تاجروں کو سیل ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کروانا پڑے گا جبکہ سال کے آخر میں سادہ انکم ٹیکس فارم جمع کروانا ہوگا اور وہ فائلر تصور ہو گا اور اسے فائلر کی تمام سہولیات حاصل ہوں گی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں