20

الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل سنانے کا اعلان کردیا



الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل سنانے کا اعلان کردیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا ممنو عہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل سنانے کا اعلان کردیا۔جیو نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کل صبح 10بجے سنا یا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے کاز لسٹ جاری کردی ۔ممنوعہ فنڈنگ کیس جو کم و بیش 8 سال تک الیکشن کمیشن آف پاکستان میں زیرسماعت رہا اور جس کا فیصلہ کئی ہفتے قبل الیکشن کمیشن نے محفوظ کیا۔

واضح رہے 14 نومبر 2014 کو پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے الیکشن کمیشن میں یہ کیس دائر کیا گیا تھا جس کی 8 سالہ طویل سماعت میں پی ٹی آئی نے 30 مرتبہ التوا مانگا اور پی ٹی آئی نے 6 مرتبہ کیس کے ناقابل سماعت ہونے یا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے کی درخواستیں دائر کیں۔

الیکشن کمیشن نے 21 بار پی ٹی آئی کو دستاویزات اور مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔فنڈنگ کیس کے لیے پی ٹی آئی نے 9 وکیل تبدیل کیے جب کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کے لیے مارچ 2018 میں سکروٹنی کمیٹی قائم کی، اسکروٹنی کمیٹی کے 95 اجلاس ہوئے جس میں 24 بار پی ٹی آئی نے التوا مانگا جب کہ پی ٹی آئی نے درخواست گزار کی کمیٹی میں موجودگی کے خلاف 4 درخواستیں دائر کیں، اسکروٹنی کمیٹی نے 20 بار آرڈر جاری کیے کہ پی ٹی آئی متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔

الیکشن کمیشن نے اگست 2020 میں اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ رپورٹ نامکمل ہے اور تفصیلی نہیں، سکروٹنی کمیٹی نے 4 جنوری 2022 کو حتمی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی، سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی بینک اسٹیٹمنٹ سے متعلق اسٹیٹ بینک کے ذریعے حاصل 8 والیمز کو خفیہ رکھا اور الیکشن کمیشن کی ہدایت پر 8 والیم اکبر ایس بابر کے حوالے کیے گیے۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں