41

 پاکستان میں بچوں کوحفاظتی ٹیکے لگانے کےعمل میں بہتری   عالمی ادارے کی جانب سے تعریف



 پاکستان میں بچوں کوحفاظتی ٹیکے لگانے کےعمل میں بہتری  ، عالمی ادارے کی …

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی قومی مہم کے حوالے سے عالمی ادارہ WUENIC کے تازہ ترین تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان نے 2021 میں بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی اپنی معمول کی شرح کوسال2020ء کی نسبت زیادہ بہتر بنایا اور ’زیرو ڈوز‘ والے بچوں (ZDC) کی تعداد میں تقریباً50 فیصدکمی لائی گئی ہے۔پاکستان میں ان بچوں کی تعداد جنہوں نے خناق، تشنج اور پرٹیوسس (DTP3) کے خلاف ویکسین کی 3 خوراکیں حاصل کیں (جو حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کی پیمائش کرنے کیلیے ایک اہم پراکسی ہے)میں اضافہ ہوا اوریہ تعداد سال 2020ء میں کوروناکے باعث 77فیصدسے بڑھ کر اب 83 فیصد ہو گئی ہے۔ پاکستان نے 2018 سے 2021 کے درمیان خسرہ کی پہلی خوراک کی ویکسین کی کوریج میں بھی 2 فیصد بہتر ی کی جبکہ 2021 میں تاریخ کی سب سے بڑی خسرہ/روبیلا مہم شروع کی ہے۔چھوٹے بچوں کی ویکسینیشن میں پیشرفت اور زیرو خوراک والے بچوں کی تعداد میں کمی لانا ایک ایسے وقت میں قابل ذکر ہے جب کووڈ-19 جیسے وبائی مرض نے دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں سمیت صحت کی دیگر لازمی سروسز کو متاثر کیا ہے۔

پاکستان نے  Gaviاور COVAX کے تعاون سے تقریباً 130 ملین افراد (کل آبادی کا تقریباً 56%) کو 2خوراکوں کی ابتدائی ویکسینیشن بھی کی ہے۔کم آمدن والے ممالک کی طرف سے 4 ارب سے زائد کورونا ویکسین کے ساتھ، تاریخی پیمانے کے عالمی رول آؤٹ کے بعدابGavi اور دیگرشراکت داران ممالک کی کوششوں میں تعاون پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ کورونا وباء کے دوران معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام،زندگی بچانے والی ویکسین کا استعمال، طلب و رسد، بحالی اور کوریج کی توسیع میں معاونت جاری رکھنے کے موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ہائی انپیکٹ کنٹریز کیلیے ویکسین الائنس(Gavi)کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹوکنبو اوشین(Dr. Tokunbo Oshin)  نے پاکستان کی اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ”پاکستان نے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا عمل وسیع کرتے ہوئے ایک ایسے وقت میں متاثرکن پیشرفت حاصل کی ہے جب کورنا جیسی عالمی وبا ءنے صحت کی لازمی سروسز کیساتھ ساتھ حفاظتی ٹیکوں کا عمل بھی بری طرح متاثر کیاہے۔وبائی امراض کے دوران حفاظتی ٹیکوں کے مراکز تک رسائی کم ہونے کے پیش نظر زیرو خوراک والے بچوں کی تعداد میں کمی لانا خاص طور پر اہم پیش رفت ہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ صحت سہولیات کی فراہمی پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ اقدام حکومت، صحت سے متعلقہ کارکنوں اور شراکت داروں کی استقامت کی نشاندہی کرتا ہے جنہوں نے کووڈ۔19 کے باوجود حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں کو ترجیح اور رسائی میں اضافہ کرکے  اسے بہتر بنایا۔ ویکسین الائنس کے طورپر ہم پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جان بچانے والی ویکسین تک رسائی حاصل کر سکیں۔“

مزید :

تعلیم و صحت –




کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں