14

ہاکستانی سائنسدانوں نے مقامی طور پر کم خرچ جراثیم کش کپڑا تیارکرلیا – ایکسپریس اردو

پاکستانی سائنسدانوں نے مقامی سطح پر کم خرچ اور مؤثر ضدِ بیکٹیریا کپڑا تیار کیا ہے جو تمام ٹیسٹ اور معیارات پر پورا اترا ہے، تصویر میں بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی کے محققین نمایاں ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ڈاکٹر سعادت مجید

 کراچی: پاکستانی سائنسدانوں نے مقامی طور پر ایک ایسا کم خرچ اور مؤثر جراثیم کش کپڑا بنایا ہے جو زخموں پر پٹی، لیب کوٹ، ماسک اور کئی اقسام کی پیکنگ میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ کئی اقسام کے بیکٹیریا دنیا بھر میں انفیکشن اور امراض کی وجہ بن رہے ہیں۔

بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں تجزیاتی کیمیا کی معاون پروفیسر سعادت مجید کی نگرانی میں سائنسدانوں نے ماحول دوست کائٹوسان اور چاندی کے نینوذرات ایک عام کپڑے پر لگائے ہیں جو چار عام لیکن مہلک اقسام کے بیکٹیریا کو روک سکتہ یں۔ یہ کپڑا تمام جملہ ٹیسٹ میں بہت مؤثر ثابت ہوا ہے اور اس کی تفصیلات ہفت روزہ تحقیقی جریدے نیچر، سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ماہرین نے بازار سے بغیرسلا ہوا کورا کپڑا لیا اور پہلے اسے الکلی کے عمل سے گزارا تاکہ کپڑے کی تبدیلی کے لیے مناسب مقامات بنائے جاسکیں گے۔ پھر کپڑے پر چاندی کے انتہائی باریک نینوذرات اور کائٹوسان شامل کیا ۔ واضح رہے کہ کائٹوسان ایک طرح کی شکر ہے جو کیکڑوں اور جھینگوں کے اوپری خول سے اخذ کی جاتی ہے اور طبی تحقیق میں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کپڑے نظر نہ آنے والی ایک پرت چڑھ گئی۔

’ کپڑے پر جمع ہونے کے بعد اس پرت نے اس پر اپنے ضدِ (اینٹی) بیکٹیریا خواص پیدا کئے اور جیسے ہی مختلف اقسام کے جراثیم اور بیکٹیریا اس پر آتے ہیں وہ  فوری طور پر تلف ہوجاتے ہیں،‘ تحقیق سے وابستہ ایک اور مرکزی اسکالر نے کہا۔

محقق کے مطابق اس سے قبل جراثیم کش کپڑے بنانے کے لیے جو اجزا استعمال کئے جاتے رہے ماحول دشمن اور زہریلے کیمیکل پر مشتمل تھے جبکہ کپڑا سازی کا عمل بھی بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اسی لیے نیا طریقہ قدرے آسان اور کم خرچ ہوتا ہے۔ ہمیں اس کےلیے بیکر اور کم خرچ مادے درکار ہوتے ہیں جو کپڑے کو تبدیل کردیتے ہیں۔

کائٹوسان ایک حیاتیاتی مادہ ہے جو طاقتور اینٹی بیکٹیریئل خواص رکھتا ہے، دوسری جانب یہ بہترین حیاتیاتی موزونیت (بایوکمپیٹبلٹی) کا بھی حامل ہے اور حیاتیاتی طور پر ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ کائٹوسان سے کپڑے پر مثبت آئنی چارج بنائے گئے تاکہ اسے حسبِ خواہش بدلا جاسکے۔ دوسری جانب سلور نینو ذرات بھی جدید تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔ یہ نینوپارٹیکل حسبِ خواہش پھیلائے جاسکتے ہیں جو بیکٹیریا سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس طرح کائٹوسان اور چاندی کے نینوذرات مل کر کئی مہلک بیکٹریا سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

کپڑے کی تیاری کے بعد اس کی ٹریٹمنٹ جاننے کے لیے کئی طرح کے تجربات کئے گئے اور اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ دونوں اجزا کی پرتیں ہموار انداز میں کپڑے کا حصہ بن سکیں۔ اس کے بعد الیکٹرون مائیکرواسکوپی ار ایکسرے کرسٹلوگرافی کے جدید طریقوں سے اس کی تصدیق کی گئی۔

لباس پر بیکٹیریا کی یلغار اور آزمائش

کپڑے کی تیاری کے بعد ماہرین نے احتیاط سے مختلف بیکٹیریا کی آزمائش کی جن میں چار عام پائے جانے والے بیکٹیریا شامل ہیں۔ ان کے نام مائیکروکوکَس اوریلیئس، اسٹائلفوکوکس اوریئس، اینٹیروبیکٹر ایئروجینس اور مشہورِ عام ای کولائی بیکٹیریئم شامل ہیں۔ یہ بالترتیب نمونیہ، ہسپتالوں کی آلودگی، ڈائریا اور دیگر امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہسپتالوں اور آپریشن تھیئٹر میں بھی یہ خوفناک نتائج کی وجہ بنتے ہیں۔ اگر یہ جراثیم زخم میں سماجائیں تو اسے ناقابلِ علاج ناسور میں بدل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جراثیم کش پٹی اس ضمن میں بہت مددگار ہوسکتی ہے۔

تجربہ گاہ میں جب جراثیم کش کپڑے کا عام پارچوں سے موازنہ کیا گیا تو اس نے بیکٹیریا اور جراثیم کو 85 فیصد کامیابی سے تلف کیا اور یوں ان کا کپڑے کے دیگر حصوں تک پھیلاؤ رک گیا۔ اسی تحقیق کے تحت ماہرین پرامید ہیں کہ اس سے ہسپتالوں کے کپڑوں، ماسک، زخم کی پٹیوں اور پیکنگ مٹیریئل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس ضمن میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ڈاکٹر سعادت مجید نے بتایا کہ یہ کام عالمی کورونا وبا کے دوران کیا گیا کیونکہ پوری دنیا سے طبی اشیا کی درآمد بند تھیں۔ اسی تناظر میں تحقیقی ٹیم نے ملکی سطح پر اینٹی بیکٹیریا اشیا پر کام شروع کیا اور مقامی طور پر اختراعی عمل سے اسے انجام دیا۔

تبدیل شدہ جراثیم کش کپڑا اقوامِ متحدہ کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ اہداف (ایس ڈی جی) کے ضمن میں بھی اہمیت رکھتا ہے جس کے تحت ایس ڈی جی نمبر تین میں بہتر صحت اور فلاح اور ایس ڈی جی نمبر نو میں صنعت و حرفت میں اختراع کا عنصر شامل ہے تاکہ پوری دنیا کے لیے بہتر اور پائیدار مستقبل کی تشکیل کی جاسکے۔

دوسری جانب جراثیم کش کپڑا معیار اور پائیداری کے تقاضوں پر بھی پورا اترتا ہے۔ اسے 10 سے 15 مرتبہ دھویا جائے، تب بھی یہ اینٹی بیکٹیریئل خاصیت نہیں کھوتا۔

معیار، دیر تک برقرار

کسی بھی شے کے تجارتی پہلو میں سب سے اہم اس کی پائیداری بھی دیکھی جاتی ہے تاکہ اسے دیگرممالک تک بھیجا جائے جبکہ کپڑے کی جراثیم کش خاصیت بھی برقرار رہے۔ اس کے لیےکپڑے کے کئی نمونوں کو تاریکی اور روشنی میں دیکھا گیا۔

کپڑے کے ایک ٹکڑے کو چھ ماہ تک الٹراوائلٹ اے (یووی اے) روشنی میں رکھا گیا اور ہر دو، چار اور چھ ہفتے بعد اس کے خواص معلوم کئے گئے۔ یہ عمل کپڑے کی جراثیم کش صلاحیت کی جانچ کے لیے کیا گیا تھا۔ ایک اور تجربے میں کپڑے کو تاریکی میں رکھا گیا اور اس طرح کپڑا 12 ہفتے بعد بھی اینٹی بیکٹیریئل خواص کا حامل رہا۔

’ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ کپڑے کو تمام مراحل سے گزارنے کے بعد نہ صرف جراثیم کش صلاحیت برقرار رہی بلکہ کپڑے کی لچک اور دیگر معیارات بھی متاثر نہیں ہوئے،‘ تحقیق میں شریک ایک اور پی ایچ ڈی محققہ طیبہ رضا نے بتایا۔

واضح رہے کہ اس تحقیق میں کئی اداروں کے مختلف شعبہ جات کے سائنسداں شامل رہے جن میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی، جامعہ کراچی میں واقع انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمائی و حیاتیاتی علوم، نشترمیڈیکل کالج، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد اور اباسین یونیورسٹی کا اسلام آباد کیمپس کا اشتراک قابلِ ذکر ہے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں