40

سندھ ہائیکورٹ کا تھرپارکر میں  لڑکی سے اجتماعی زیادتیخودکشی کیس میں ڈی این اے کرانے کا حکم



سندھ ہائیکورٹ کا تھرپارکر میں  لڑکی سے اجتماعی زیادتی،خودکشی کیس میں ڈی این …

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) سندھ ہائیکورٹ نے مٹھی تھر پارکر میں لڑکی کے اغوا، اجتماعی زیادتی اور خودکشی سے متعلق کیس میں ڈی این اے کرانے کی ہدایت کردی ہے، سماعت کے دوران ڈی آئی جی میر پور خاص کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ مقدمے میں 4ملزمان گرفتار ہیں۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں مٹھی تھر پارکر میں لڑکی کے اغواء، اجتماعی زیادتی اور خود کشی کے نوٹس کی سماعت ہوئی،  ڈی آئی جی میر پور خاص ذوالفقار مہر اور ایس ایس پی تھرپار کار حسن سردار اور دیگر پیش ہوئے، متوفیہ کے اہلخانہ نے عدالت کو واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کیا، جبکہ  ڈی آئی جی میر پور خاص کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی،  رپورٹ میں کہا گیا کہ مقدمے میں 4 ملزمان گرفتار ہیں۔ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے کیس میں ڈی این اے کرانے کی ہدایت کردی ہے،  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مدعی مقدمہ اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ تعاون کیا جائے، مقدمے کی مزید تفتیش کرکے 2 ہفتوں میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔

 سماعت کے بعد ڈی آئی جی میر پور خاص نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیس کے مدعی اور گواہ کو تفصیل سے سنا ہے۔ چیف جسٹس نے تمام شواہد اور ڈی این اے کی بنیاد پر میرٹ پر تحقیقات کا حکم دیا ہے،ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی نے کہا کہ مدعی اور گواہ نے چیف جسٹس کے سامنے اس معاملے کو کلیئر کیا ہے کے ہم نے ہی کوئی چیز نہیں بتائی تھی۔ مدعی اور گواہ نے کہا ہے کہ ہم نے جب پولیس کو رپورٹ کیا ہے تو انہوں نے کارروائی کی ہے، مدعی اور گواہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -سندھ –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں