25

 یہ بے زبان نسل



 ایک سکول کے پرنسپل نے کہا”میں جب اردو میں بات کرتا ہوں مجھے لگتا ہے میں سچ بول رہا ہوں اور میں اس ایک جملے کی بے پناہ گہرائی میں ابھی تک غلطاں ہوں۔ یہ کیسی بات ہے، یہ کیسا خیال ہے،میں اور میرے جیسے کتنے ہی لوگ اس جذبے کا ہاتھ تھامے آج بھی کھڑے ہیں۔عکسی مفتی نے کہا کہ یہ زبان بڑی طاقتور شے ہے، بات بے بات آج کل ایک دوسرے کو آئی لو یو کہتے ہیں اور پتا ہی نہیں چلتا کہ اس سب کا کیا مطلب ہے۔ کسی کو ایک بار اردو میں کہنے کی کوشش تو کریں کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے، پسینے چھوٹ جاتے ہیں کیونکہ اپنی بات کا مطلب سمجھ آتا ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے اور کیوں سمجھ آ رہا ہے،پھر میں اپنے اردگرد گھومتے پھرتے چتکبرے سے بچے دیکھتی ہوں۔کون ہیں، کیا ہیں، کیا سوچتے ہیں، کیا کہتے ہیں، ہم اکثر ہی ان کے بارے میں ششدر رہتے ہیں۔میری چھوٹی بیٹی چند روز پہلے مجھے میٹا ورث کے بارے میں کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی، میں کیا سمجھتی کہ میری زبان میں تو ابھی تک میٹا ورث کے لئے کوئی لفظ ہی ایجاد نہیں ہوا اور اس بچی کو یہ معلوم نہیں کہ پھولوں کی کبخ کیا ہوتی ہے۔ غلام گردش کسے کہا جاتا ہے اور اکثر شاموں میں مجھے اپنے والد کے قدموں کی چاپ کیوں یاد آتی ہے۔اس کا گیارہ سالہ دماغ جانتا ہے کہ اس کے نانا اِس دنیا میں نہیں ہیں تو پھر ان کا انتظار اس کی ماں کیوں کرتی ہے،وہ سمجھ ہی نہیں سکتی۔اسے معلوم ہے کہ اللہ کے پاس جانے والے کبھی واپس  نہیں آتے اور وہ کئی سال پہلے سے مجھے بھی تھپکیاں دِلاسے دیتی ہے کہ آپ فکر نہ کریں،آپ بھی فوت ہو جائیں گی اور پاپا جانی سے مل لیں گی۔میں اس کو سمجھا نہیں سکتی کہ آئی پیڈ کے سنگی ایسی باتیں نہیں سمجھتے۔انہیں معلوم نہیں کہ جس کے کان باپ کے قدموں کی آہٹ پر لگے ہوتے تھے ان کے لیے وہ آہٹ کبھی نہیں مرتی۔وہ جنہیں اپنے بچپن میں زمین کھود کر بونے تلاش کرنے کی عادت تھی ان کے لیے تو میٹا ورث، ملٹی ورث اور اومنی ورث میں کوئی فرق ہی نہیں،کیونکہ ان میں سے ہر ایک ان کے لیے انجان ہے۔

ہم اپنے ہمسائیوں سے دوستی کیا کرتے تھے،شام کو نکل کر اکٹھے کھیلنا ہوتا تھا، سائیکل اکٹھے چلایا کرتے،سکول میں اپنے ہم عصروں سے دوستی ہوتی تھی اور اب میرے گھر میں بیٹھا بچہ، امریکہ میں بیٹھے بچے کے ساتھRoblox کھیلنے کے لیے رات دیر تک جاگتا ہے۔اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ ساتھ والے گھر میں کون رہتا ہے۔اسے شام کو گھر سے نکلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔اسے لڈو کھیلنا بورنگ لگتا ہے۔اس کے لئے ان باتوں میں کوئی رس نہیں۔وہ چاہتا ہے کہ سکول سے واپس آنے کے بعد وہ اپنے امریکی دوست کے ساتھ کمپیوٹر پر کھیلے اس کی زندگی کسی اور ہی طرح سے گزرتی ہے ان بچوں کو کوئی کیا سمجھائے گا کہ اردو میں بات کرنے سے دِل ودماغ پر کیا اثر ہوتا ہے۔بانو قدسیہ کا لکھا ایک جملہ کتنے گہرے معنی رکھتا ہے،شفیق الرحمن کے مزاح میں کیسی طرح ہے۔فیض کی شاعری میں کیسا ربط ہے، کیا استعارے ہیں اور قرۃ العین حیدر کی منظر کشی کیسی کمال کی ہے،جنہیں بیلے کی  کلیوں کا پتہ ہی نہیں،جنہیں بارش میں نہانے سے کپڑے بھیگنے کا ڈر رہتا ہو، اس مخلوق سے بات کرنے کے لیے ہمارے آپ کے پاس زبان بھی اور ہی ہونی چاہیے۔انہیں لبھانے کے طریقے بھی اور ہوں گے، ان بچوں کو املاکی غلطیوں والا ”تعلیم و تربیت“ بھلا اپنی جانب کیسے متوجہ کرے گا جو انہیں بیمار مچھیرے کی کہانیاں سنانا چاہتا ہے ان بچوں کو اردو کی طرف راغب کرنے کے لیے کسی اور ہی سہارے کی ضرورت ہے اور انہیں اردو کی جانب متوجہ بھی کیسے کریں اس میں سب سے پہلی غلطی ہی ہماری ہے کہ گھروں میں مائیں انہیں بلی نہیں دکھاتیں بلکہ کیٹ کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ کیٹ سے کیٹی اور کپٹو، بلی سے مانو میں مماثلت سمجھ نہیں آتی اور ان کا بچپن زناٹے سے آئی پیڈ کے نئے ماڈل کی اوٹ میں چھپ جاتا ہے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے ان بچوں کو معلوم نہیں کہ کبھی گھروں کی چھتوں پر چار پائیاں ڈال کر،

مچھر دانیاں لگاتے،پنکھے چلاتے،دادا دادی اپنے پوتے پوتیوں کو رات سونے سے پہلے کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے۔نیبوں کی کہانیاں، اچھی باتوں کے قصے جن سے زندگی کے سبق حاصل ہوتے،کئی بار سبق آموز کہانیاں جو زندگی گزارنے کا ڈھنگ بتاتی ہیں۔اب یہ بچے ہیں، ایونجرز کی فلمیں ہیں۔ وہ معاشرہ جو معاف کر دینے کی خو رکھتا تھا اس میں انتقام کا نام لینے والوں کے قصے دیکھ کر بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ ہتھیاروں سے لیس،مافوق الفطرت طاقت کے مالک یہ لوگ جو بدلہ لینے میں ذرا بھی نہیں کتراتے،اپنے ہتھیاروں سے سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھات اتارنے میں انہیں کوئی پریشانی درپیش نہیں۔ ان لوگوں کی کہانیاں دیکھتے بچوں کے لیے انسانی جان کی کیا اہمیت ہو گی انہیں کیا معلوم ہو گا کہ ہر ایک جان اہم ہے اور ایک انسان کا ناحق خون ساری انسانیت کا خون ہے جنہیں اردو کا مطب ہی معلوم نہیں،انہیں اردو سے محبت کیا ہو گی جو درخت کو  ٹری کہتے ہیں، انہیں ان درختوں سے کیا نسبت ہو گی ہمارے بچپن کے ساتھی درخت جب اسلام آباد میں کاٹ ڈالے گئے تھے تو لگتا تھا کہ اپنی جڑیں نکل گئی ہیں اور یہ جو بلاکس میں درخت کاٹ کر گھر بناتے ہیں۔اس نسل کے کتنے ہی دُکھ ہیں اور سب سے بڑا دکھ کوئی پہچان نہ ہونا ہے۔پہچان کیسے ہو، نہ زبان اپنی ہے اور نہ کسی طور کی کوئی ثقافت۔الجھے ہوئے ذہن ہیں اور بگڑے ہوئے خیال،نہ کوئی ہیرو ہے، نہ ہی کوئی رہبر خیال۔ہم اس نسل کا ہاتھ تھامے اپنی اپنی خاموش قبروں کی جانب گامزن ہیں اور ایک روز مستقبل ان کے دامن میں انڈیل کر خاموش کتبوں کو اوڑھ کر سو رہیں گے،لیکن کسی کو کیا دے جائیں گے،اس کا حساب کون کرے کیونکہ بے عنوان ثقافت ہے جس کا ہمارے اصل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے، نہ ہم انہیں ثقافت سونپی، نہ زبان۔ ہم بے نشان رہے اور رہیں گے اور یہ بے زبان ہیں اور رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں