31

ہماری مدد کے منتظر سیلاب زدگان  



ہماری مدد کے منتظر سیلاب زدگان  

 پتا نہیں ہمارے ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ ایک مسئلہ ابھی پوری طرح حل نہیں ہوتا، ایک نیا بکھیڑا سر اٹھا لیتا ہے اور یہ بھی تو حقیقت ہے کہ کوئی مسئلہ نہ ہو تو ہم خود پیدا کر لیتے ہیں‘ اپنی باتوں سے اپنے اقدامات سے، سیاسی افراتفری کا سلسلہ اپریل سے جاری ہے اور اس معاملے کی گرد ابھی بیٹھی نہیں کہ پاکستان میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال نے سب کو بے چین کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے اب تک مجموعی طور پر ساڑھے تین سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں‘ جن میں سے 136 سے زیادہ افراد صرف بلوچستان میں سیلاب کے ریلوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی نذر ہوئے یہاں بارشیں ہو رہی ہوں تو ظاہر ہے کہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ہو رہی ہوتی ہیں کہ برسات کا موسم ہے،بھارت کی جانب سے اضافی پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ کچھ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں لیکن اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ پنجاب کی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقے بھی برساتی بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابوں کی زد میں ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں بارشوں کا پچھلے 30 سال کی بارشوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور امسال وہاں 100 گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔24 جولائی سے شروع ہونے والے مون سون کے سپیل نے لسبیلہ اور جھل مگسی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جہاں سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونے کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بہہ گئیں اور متاثرہ علاقوں تک تاحال زمینی رسائی ممکن نہیں ہوئی، دیہی علاقوں سے بڑے شہروں کو جانے والے پھلوں اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہے جس کی وجہ سے زمین داروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب زدگان کے لئے امدادی پیکجز کا اعلان کیا۔ سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے اور جن گھروں کو جزوی نقصان پہنچا،ان کو دو لاکھ روپے یا اس سے زیادہ رقم دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت بھی سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے امداد دے گی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ سیلاب سے جو فصلیں تباہ یا مویشی ہلاک ہوئے‘ ان کا تخمینہ لگانے کے لئے کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔ وفاق کی سطح پر بنائی چار کمیٹیاں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے مشاورت کے ساتھ سروے کریں گی۔ 

سیلاب اور بارشوں نے کئی علاقوں کو ملبے کے ڈھیر میں  تبدیل کر دیا ہے،مکانات منہدم، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ متاثرین کے پاس نہ اوڑھنے بچھانے کو ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا سامان، حکومتی مدد کے منتظر متاثرین دکھ اور بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور رابطہ سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں علاقے میں سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے آمدورفت ممکن نہیں رہی جس کی وجہ سے درجنوں دیہات میں لوگ محصور ہو چکے ہیں اور خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ فوری ضرورت یہ ہے کہ سیلاب زدگان کی ہر طرح سے مدد کی جائے اور یہ صرف حکومت کی ہی ذمہ داری نہیں ہے‘ متمول افراد‘ نجی اداروں اور این جی اوز کو بھی اس سلسلے میں آگے آنا چاہئے۔ سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو ایسی خوراک پہنچائی جائے جو ایک دو دن میں خراب ہونے والی نہ ہو یعنی کئی دنوں تک قابلِ استعمال رہ سکے پینے کا صاف پانی بھی ان تک پہنچایا جانا چاہئے کیونکہ سیلاب کے بعد گندے پانی کے استعمال سے اکثر ہیضے کی وبا پھوٹ پڑتی ہے اور وہ گندا پانی اس لئے پیتے ہیں کہ پینے کے صاف پانی تک ان کی رسائی نہیں ہوتی‘ وہ گندا سیلابی پانی پیتے ہیں اور مختلف نوعیت کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اس لئے سیلاب زدگان کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں تو حکومت کو سیلاب زدگان کے لئے ریلیف کیمپ لگانے چاہئیں تاکہ جو لوگ اپنی مصروفیات کی وجہ سے سیلاب زدگان تک نہیں پہنچ سکتے وہ اپنے فنڈز اور سامان ان کیمپوں میں پہنچا دیں اور وہاں سے پھر حکام کی نگرانی میں اکٹھا کیا گیا سامان سیلاب زدگان تک پہنچایا جا سکے‘ تاہم ضروری ہے کہ اس سارے عمل میں شفافیت کو برقرار رکھا جائے تاکہ حقیتاً حق بہ حق دار رسید والا معاملہ ہو سکے ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ سیلاب زدگان کی جگہ آپ ہوں تو کیا ہو؟ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی مدد کی جانی چاہئے یا نہیں، مصیبت کسی بھی وقت کسی پر بھی آ سکتی ہے۔ آج اگر ہم دوسروں کی مدد کریں تو کل کو پروردگار کسی مسئلے میں ہماری بھی نصرت فرمائے گا۔

ضروری ہے کہ سیلابوں اوردوسری قدرتی آفات کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ اگر ایک بڑا ڈیم سیلابوں سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے تو اس بارے میں منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ محکمہ موسمیات کو جدید بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسموں کے حوالے سے قبل از وقت ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کر سکے اور اگر شدید بارشوں کی پیش گوئی ہو تو جن علاقوں میں سیلاب آنے کا خطرہ ہو وہاں سے لوگوں اور ان کے مال مویشیوں کو نکالنے کے لئے بروقت کام ہونا چاہئے اور انتظامیہ کو ان کے ڈوب جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ جاپان میں زلزلے بے تحاشا آتے ہیں اور امریکہ میں ہر سال ایک ہزار کے لگ بھگ ٹورنیڈوز اور سمندری طوفان آتے ہیں لیکن پہلے سے کی گئی تیاریوں کی وجہ سے نہ تو وہاں جانی نقصان اتنا زیادہ ہوتا ہے اور نہ ہی مالی نقصان اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ناقابلِ برداشت ہو جائے۔ ہمیں بھی ایسی ہی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیاسی معاملات میں اس قدر کھبے ہوئے ہیں کہ کسی دوسرے ایشو کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں۔  

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں