37

 ہاتھی کمرے میں گھسا رہے گا!



 ہاتھی کمرے میں گھسا رہے گا!

 مسلم لیگ(ن)کو دوسری مرتبہ پنجاب میں حکومت بنانے سے محروم کردیا گیا ہے، پہلے عثمان بزدار کی شکل میں اور اب چوہدری پرویز الٰہی کی شکل میں ایسا کیا گیا ہے۔مسلم لیگ(ن) کو اس کے قلعے میں دوسری مرتبہ خاک چاٹنا پڑی ہے۔ پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے لتے لئے گئے تھے کہ اس نے نون لیگ کو دیوار سے لگایا تھا اور اب سپریم کورٹ کو کوسا جا رہا ہے کہ وہاں انصاف ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ مسلم لیگ(ن)کی اسٹیبلشمنٹ سے بن سکی ہے نہ سپریم کورٹ سے، حالانکہ ا ن دونوں اداروں میں پنجاب کی اچھی خاصی نمائندگی ہے۔ 

جب ضمنی انتخابات میں ایک بڑی شکست ہوئی تو خیال تھا کہ مسلم لیگ(ن)وہ بوجھ اٹھاسکتی تھی کیونکہ اس کے سوا پنجاب کی کوئی اور مقبول جماعت نہ تھی جو عمرا ن خان کی مقبولیت کا چیلنج قبول کر سکے تب یہ دلیل بھی دی گئی تھی کہ اگر سندھ میں ضمنی انتخابات ہوتے تو مسلم لیگ(ن) کی بجائے پیپلز پارٹی کو یہ بوجھ اٹھانا پڑنا تھا کیونکہ وہاں کی اکثریتی جماعت وہ ہے مگر قابل غور نقطہ یہ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اور سپریم کورٹ کی مخالفت کا بوجھ پاکستان پیپلز پارٹی نہیں اٹھاسکی تھی تو مسلم لیگ(ن) کیسے اٹھاسکتی ہے؟ 

پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام 1970ء کے آس پاس عمل میں آیا تھا اور اگلے تیس برسوں، یعنی 2000ء تک پنجاب سے اس کا صفایا کردیا گیا تھا اور 2007ء میں بے نظیر بھٹو نے دوبارہ پنجاب میں جاندار جلسے کئے تو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ تب سے اب تک پیپلز پارٹی سندھ میں ایڑھیاں رگڑ رہی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ 2023ء میں وہاں بھی اس کی اکثریت کو بآسانی اقلیت میں بدلا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کا قیام 1990ء کے آس پاس ہوا تھا اور 2020ء تک اسے پنجاب کی واحد مقبول جماعت کے تمغے سے محروم کردیا گیا ہے اور بظاہر لگ رہا ہے کہ 2023ء کے انتخابات میں اس کی پسلیاں توڑ دی جائیں گی اور پھر اگلے سات برسوں میں اسے بھی نکڑ میں لگادیا جائے گا۔ گویا کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں پاکستان کی دو مقبول سیاسی جماعتوں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے جہاں تک عمران خان کی بات ہے تو ان کے تو پہلے ہی بیس بائیس برس تک ایک سیٹ کی جماعت کے طور پر ضائع ہو گئے اور اب پیچھے آجاکر پانچ برس ہی اور بچتے ہیں کہ ان کے بھی تیس برس مکمل ہو جائیں گے۔ اللہ اللہ خیر سلہ!

مسلم لیگ(ن)کا یہ گمان حالیہ ضمنی انتخابات میں پاش پاش ہو گیا ہے کہ پنجاب اس کے ساتھ ہے اور پنجاب کے عوام آنکھیں بند کرکے شیر کے نشان پر مہر لگاتے ہیں،  اس کے برعکس عام لوگوں کی گفتگو میں یہ تاثر گہر ا ہوتا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کو پی ٹی آئی نے اس کے گھر میں چیلنج کر دیا ہے، ٹی وی مبصرین بار بار نون لیگی قیادت کو باور کر ارہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے بعد اب پنجاب بھی پی ٹی آئی کے پاس ہے، وہ جب چاہے  مرکز میں شہبا ز شریف کی اتحادی حکومت کا خاتمہ کر سکتی ہے  جبکہ مسلم لیگ(ن) کا اصرار ہے کہ عام انتخابات ہونے دیں، پتہ لگ جائے گا کہ پنجاب کس کے ساتھ ہے جبکہ ضمنی انتخابات سے پہلے بھی مسلم لیگ (ن) ہی کیا خود پی ٹی آئی کا بھی یہی خیال تھا کہ نون لیگ ہی جیتے گی مگر پھر ایک بڑا اپ سیٹ ہوا اور اس کے بعد پنجاب میں سیاسی ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا۔ اس کے باوجود کہ حمزہ شہباز چوہدری شجاعت حسین کی مدد سے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے،ہوا پھر بھی مسلم لیگ(ن) مخالف ہی چلتی رہی جو بالآخر چوہدری پرویز الٰہی کو اڑا کر  وزارت اعلیٰ کی نشست پر لے گئی ہے! 

قائداعظم کی مسلم لیگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جسے پورے پاکستان کی پارٹی ہونے کا اعزاز تھا۔ اس کے بعد کسی اور جماعت کو یہ شرف حاصل نہیں ہوسکا ہے، حتیٰ کہ مسلم لیگ(ن) کو بھی نہیں، جبکہ پی ٹی آئی بھی ویسے ہی پورے پاکستان میں ہے جیسے کبھی مسلم لیگ(ن)ہوا کرتی تھی کہ جیت گئے تو علاقائی جماعتیں ساتھ آگئیں، ہار گئے تو پنجاب اور کے پی تک محدود ہو گئیں۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کا وتیرہ دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ نواز شریف کی طرح عمران خان کی پی ٹی آئی کو بھی پورے پاکستان کی پارٹی نہیں بننے دیا جائے گا اور جس طرح آج بلاول بھٹو شہباز شریف کے کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑے ہیں ویسے ہی کبھی حمزہ شہباز پی ٹی آئی کے لیڈر سے کندھے سے کندھا جوڑ کر کسی چوتھے لیڈر کو کوس رہے ہوں گے۔ 

’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ میں ذوالفقار علی بھٹو نے لکھا تھا کہ پاکستان میں چوتھا مارشل لاء نہیں لگے گا اور لگتا بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ جنرل مشرف کے بعد اب کسی اور میں اتنا دم خم نہیں کہ ایسا کر سکے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں طاقت کا پیمانہ تبدیل ہوگیا ہے اور یہ چشمہ اب عوام کے مینڈیٹ سے پھوٹنے لگا ہے۔ اس کے برعکس اسٹیبلشمنٹ نے بیورو کریسی پر اپنی کمزور پڑتی گرفت دیکھ کر عدلیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا ہے، اسی لئے مریم نواز نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو ’جوڈیشل کو‘سے تعبیر کیا ہے۔ اب پارلیمنٹ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دستیاب سو موٹو کے اختیار کو کترنا چاہتی ہے لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا کہ زخم کے بھرنے تک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا والا معاملہ ہی دکھائی دیتا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ راہِ راست پر آئے گی، ہماری اسٹیبلشمنٹ کوئی اور حربہ ڈھونڈ لے گی اور یہ ہاتھی اسی طرح کمرے میں گھسا رہے گا!

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں