41

کیا 18 جماعتیں عمران خان کا راستہ روک پائیں گی؟



کیا 18 جماعتیں عمران خان کا راستہ روک پائیں گی؟

سب سے پہلے تو پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر اُنہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز  علی خان، میجر جنرل امجد حنیف، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض کی وطن عزیز کے لیے قربانی لازوال ہے اللہ اُن کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، عظیم سپہ سالاروں نے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی عملی مدد کے تاریخی کارنامے نے پاک فوج کے خلاف باتیں اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ پاک فوج کے جوان اپنا آج قربان کر کے ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں اس پر پورا کالم لکھا جا سکتا ہے دِل بڑا رنجیدہ ہے اللہ ان بہادروں کے صدقے ہمارے ملک اور  نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائے، شہید جنرل سرفراز علی خان کا کشمیر کے حصول کے لئے جاری جدوجہد کے حوالے سے آخری پیغام پاکستانی فوج کی بھرپور ترجمانی اور اہل پاکستان کے لئے بالعموم اور اہل کشمیر کے لئے بالخصوص بڑے حوصلے کی بات ہے۔پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کے جمہوری رویے جس تیزی سے اخلاقی اقدار سے محروم ہو رہے ہیں اس پر آج کی نشست میں کچھ نہیں کہوں گا۔تحریک انصاف کے سابق ترجمان اور پیپلزپارٹی کے موجودہ اور سابقہ رہنما ندیم افضل چن کا سوشل میڈیا پر پیغام یا کسی کا بنایا ہوا ٹک ٹاک دیکھ رہا تھا ان کا اپنا ہے یا ان سے منسوب کیا گیا ہے اس پر بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا،ذاتی طور پر اتنا کہوں گا زمینی حقائق کے قریب ترین ہے۔ندیم افضل چن فرماتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کے ذریعے جس طریقے سے پی ڈی ایم کو ہائی جیک کیا گیا اور عمران خان کے پونے چار سالہ اقتدار کے سمندر میں ڈوبتی کشتی کو بچا کر اقتدار پی ڈی ایم کو دے کر عمران خان کے چار سالہ گناہ اور ناکامیوں کو پی ڈی ایم کی حکومت کی جھولی میں ڈالا گیا، اب مجھے احساس ہوا ہے واقعی ہمارے ساتھ ہاتھ ہوا ہے اور ہمارے پاس ہاتھ پیر مارنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔

 پی ڈی ایم کی تشکیل، پیپلزپارٹی اور اے این پی اور باپ کا کبھی اندر آنا کبھی پی ڈی ایم کو چھوڑ دینا ان کرداروں کا جائزہ بھی ضروری ہے پھر جب عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلنے اس کے نظریات کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہونا یقینی ہو گیا،پاکستانی عوام کا نہ صرف دِل بھر گیا، بلکہ مہنگائی،بے روز گاری اور بے یقینی نے ڈیرے ڈال لیے؟ پھر کیا ہوا؟ نئی تاریخ رقم ہوئی اور فراڈ اسمبلیاں جائز ہوئیں۔عدلیہ نے اپنا کردار ادا کیا اور عدم اعتماد کے ذریعے نئی حکومت بنی، دلچسپ کردار جو عمران خان کو چار سال تک بلیک میل کرتے رہے وہ بھی عمران خان کی بظاہر ڈوبتی کشتی سے اس انداز سے اتار لیے گئے جیسے ترین،ایم کیو ایم اور باپ پارٹیاں وغیرہ۔ایسا لگا اگر فوری عمران کو نہ چھوڑا تو وہ بھی عمران اور اس کی سیاست کے ساتھ غرق ہو جائیں گے۔پھر دنیا نے دیکھا ایک عمران خان دوسری طرف پی ڈی ایم کی11 جماعتیں اور ایک طرف پیپلزپارٹی،12اور چھ دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیاں اور گروپ کل  اٹھارہ جماعتوں کو ایک عمران خان کے مقابلے میں لاکھڑا کر دیا گیا اس وقت پاکستان میں عمران خان + پی ڈی ایم اور اس کی اتحادی اٹھارہ جماعتیں اور ایک جماعت اسلامی باقی بچی۔ پورے ملک میں تین جماعتی سیاست میں موجود ہے، چار ماہ میں جس انداز سے اٹھارہ جماعتوں کے اقتدار کی کہانی سامنے آئی ہے ہر فرد کہنے پر مجبور ہے اس سے تو عمران اچھا تھا اور دلائل دینے والے دلائل دے رہے ہیں، پونے چار سال میں ڈالر54روپے بڑھا اور چار ماہ میں 64 روپے بڑھا، اسی طرح روز ملکی معیشت  اور مہنگائی کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔اٹھارہ جماعتوں کے پاس آخری چورن فارن فنڈنگ کے آٹھ سال سے رکے ہوئے فیصلے کا باقی رہ گیا  تھا، فیصلہ آنے کے بعد گزشتہ پانچ سال سے ایک دوسرے کو بھارتی ایجنٹ، امریکن ایجنٹ سے بات اسرائیلی ایجنٹ تک جا پہنچی ہے ساری سیاسی، مذہبی جماعتیں اور گروپ عوام کی کسمپرسی کو یکسر نظرانداز کر کے عمران خان کو نااہل قرار دلانے اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا خواب دیکھ  رہی ہیں۔

ایک طرف عمران خان کی پونے چار سال کی حکومت کی ناکامیاں ہیں اور دوسری طرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا تین تین دفعہ کا اقتدار اور35سال سے عوامی خدمت ہے۔د لچسپ امر یہ ہے کہ اِس وقت عوام کی حکومت عوام کے لئے کا نعرہ لگانے کی بجائے ایک دوسرے کو ایجنٹ اور کرپٹ قرار دینے تک محدود ہو گئی ہے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے سیاسی اور قانونی اثرات کیا ہوں گے۔

ہمارے دوست اور سینئر صحافی اور قانونی امور کے ماہر سعید چودھری نے دلائل سے روزنامہ”پاکستان“ کی بدھ کی اشاعت میں تجزیہ کر دیا ہے عمران خان کی تاحیات نااہلی اور پی ٹی آئی پر پابندی کے لئے ابھی کئی مراحل درپیش ہوں گے جس پر شاید کئی سال مزید لگ سکتے ہیں۔دوسری طرف نئی نسل پر عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، ہر گھر میں موجود نئی نسل وہ لڑکا ہو یا لڑکی عمران خان کے لئے جان دینے کو تیار ہے۔ میرے دوست اور دانشور میرے موقف کو بکواس قرار دے سکتے ہیں مگر اِس وقت حقائق کو جھٹلانا شاید ممکن نہیں ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور اتحادی جماعتیں 1990ء کی سیاست کر رہی ہے اِس وقت2022ء کا راج ہے جہاں پریس ریلیز نہیں، سوشل میڈیا اور ٹویٹر چل رہا ہے، فیس بک کا راج ہے۔ عمران خان، یہودی ایجنٹ ہے یا بھارتی اُس نے فنڈ جس سے بھی لیے پراپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے نئی نسل کچھ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔حکومت جس انداز میں عمران خان اور اس کی پارٹی کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات بنا کرگرفتاریاں کرنا چاہتی ہے اور پارٹی پر پابندی لگانا چاہتی ہے اس سے تحریک انصاف مزید مضبوط ہو رہی ہے، کارکن پرجوش ہو رہا ہے۔عمران خان کا بخار تیزی سے ہر گھر میں پھیل رہا ہے۔ایک بات تو طے لگ رہی ہے ایک دفعہ تو عمران خان نے آنا ہے اس کو کتنی دیر روکا جا سکتا ہے اس کے لیے18 جماعتیں برسر پیکار ہیں ان کو کچھ نہیں ملے گا البتہ امریکہ کو سپیس دینے کا شوشہ پھر چھوڑ دیا گیا ہے، ڈالر کی قیمت کو اس سے مشروط کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کی قسط کی ادائیگی کی تاریخ بھی19اگست دے دی گئی ہے۔ بظاہر تو ملکی معیشت بہتری کی طرف چل نکلی ہے اللہ کرے سیاست دان بھی سنجیدہ ہو جائیں اور مل بیٹھ کر ملک اور عوام کے لیے سوچنا شروع کر دیں ورنہ عوام کا غصہ ہر آنے والے دن میں بڑھ رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں