34

 کیا یہ کوئی منفرد بحران ہے؟



 کیا یہ کوئی منفرد بحران ہے؟

بحرانوں سے نمٹنے والوں کے لیے ہر اقتصادی بحران دوسروں سے منفرد ہوتا ہے  اس کا کسی سے مقابلہ نہیں بنتا، ہمیں جس حالیہ اقتصادی چیلنج کا سامنا ہے اور جس طرح کے اس پر تبصرے سننے کو مل رہے   ہیں، ان سے بھی اسی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ 

گزشتہ تین برسوں میں یہ تیسرا نمایاں اقتصادی چیلنج ہے جس کا ہمارے ملک کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ 2019 ء کے موسم گرما میں ہم معاشی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی پن کا شکار تھے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر آئی ایم ایف سے رجوع کرے یا نہیں۔ جولائی 2019ء  میں، جب آئی ایم ایف نے آخر کار چھ بلین ڈالر کے پروگرام کا اعلان کیا  جس میں سے ہمیں رواں اگست میں ساتویں اور آٹھویں قسط ملنی ہے،اس کے جائزے کے مطابق پاکستانی معیشت ”ایک نازک موڑ پر ہے  اور اسے گہرے اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے، کیونکہ اس کی معاشی نمو ناہموار اور کمزور جب کہ مالیاتی ضروریات بہت زیادہ ہیں“۔ اس وقت کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں جلد ہی استحکام دیکھنے میں آیا ۔ جولائی 2019 ء سے لے کر فروری 2020 ء کے درمیان روپے کی قدر چار فیصد تک بحال ہوئی۔ کوویڈ شروع ہونے سے پہلے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 154 تھی جبکہ اس دوران زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً پانچ بلین ڈالر بڑھ گئے تھے۔ 

ٹھیک جس وقت 2019 ء میں ادائیگیوں کے بحران سے نکل ہم اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہے تھے، مارچ 2020ء میں دوسرے اقتصادی بحران نے ہمیں آن لیا جو اس وقت واقعی فقید المثال دکھائی دیتا تھا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا(Kristalina Georgieva) نے اعلان کیا کہ کوویڈ 19 کا بحران ”ایسا عالمی بحران  ہے جس کی کوئی مثال نہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے فقید المثال عالمی ردعمل درکار ہے“۔ درحقیقت دنیا نے اتنے بڑے پیمانے پر صحت عامہ اور معاشی چیلنجوں کا ایسا امتزاج کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پاکستان نے اختراعی اور برقت اقدامات کے ساتھ اس بحران کا مقابلہ کرتے ہوئے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ اپنی معیشت کو بھی بچالیا اور فوری معاشی بحالی کا آغاز کر دیا، ایک ایسے ملک کے لیے جو تاریخی طور پر معاشی بدانتظامی کا شکار تھا،کووڈ 19 کے بارے میں ہمارے ردعمل کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا، احساس پروگرام کے تحت غریب افراد کو نقد رقوم کی فراہمی کو دنیا نے حکومت اور مرکزی بنک کی فعالیت کے طور پر دیکھا اور سراہا  مزید یہ کہ زیادہ تر ممالک کے برعکس جہاں کووڈ 19 کے دوران حکومتوں پر قرض کا بوجھ بڑھ گیا،پاکستان اس دوران جی ڈی پی کے تناسب سے قرض کی شرح کو پانچ فیصد کم کرنے میں کامیاب رہا۔ 

یہ دیکھتے ہوئے کہ ہم نے حالیہ دو گھمبیر بحرانوں میں استحکام اور ترقی کو کامیابی کے ساتھ بحال کیا ہے، اس بار ہمیں ایسا کرنے کے قابل ہونے کا اعتماد کیوں نہیں؟ یا کم از کم اس  کا تاثر کیوں نہیں جارہا؟ سوال خاص طور پر متعلقہ ہے کیونکہ ہمارے ذخائر اور قرض آج اس کے مقابلے بہتر ہیں جو کہ آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز سے پہلے 2019ء میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے وقت تھے۔ جون 2019ء کے آخر میں ہمارے مجموعی ذخائر تقریباً  سات بلین ڈالر تک کم ہو گئے تھے جبکہ جون 2022ء کے آخر میں وہ تقریباً 10 بلین ڈالر تھے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کرنے والی  سٹیٹ بینک کی فارورڈ ونگ اور نقد رقوم کی ادائیگی کا اس وقت حجم آٹھ بلین ڈالر تھاجو آج  چار بلین ڈالر تک ہے۔ درحقیقت ہمارا محفوظ زرمبادلہ اس وقت سات بلین ڈالر سے زیادہ ہے h,m ہمارا اوسط ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ آج بھی اتنا ہی ہے جتنا 2019ء کے پہلے نصف میں تھا  حالانکہ آج تیل کی قیمتیں اس سے 40فیصد بڑھ چکی ہیں۔ مزید یہ کہ جون 2022 ء تک ہمارا ملکی قرض جی ڈی پی کا تقریبا 75  فیصد ہے  جو گزشتہ سال  80 فیصد تھا۔ کے ایس ای کا انڈیکس دیگر بنیادی معاشی عوامل سے زیادہ جذباتی ردعمل کو ظاہر کرتا ہے، یہ 2019 ء میں 27,000  پوانٹ کم ہوگیا تھا، آج اس کی گراوٹ 40,000  ہے۔ 

 ان بہتر اشاروں کے باوجود تاثر یہ ہے کہ یہ بحران بے مثال ہے۔ گزشتہ دوبرسوں میں دو بحرانوں سے کامیابی سے نمٹنے  اور آج ہماری اقتصادی بنیادزیادہ مضبوط ہونے کے باوجود معاشی چیلنج کیوں بدتر دکھائی دیتا ہے؟ اس کی تین وجوہات ہیں:

پہلی، موجودہ سیاسی تناؤ اور اس  سے جڑی ہوئی مستقبل کی معاشی پالیسی سازی جوغیر یقینی پن کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ 2019ء میں اور پھر کوویڈ کے دوران سیاسی بندوبست کم از کم مستقبل قریب تک واضح تھا لیکن آج سیاسی ابہام زیادہ تر معاشی فیصلوں پر سایہ فگن ہے۔ مزید یہ کہ ہر نئی سیاسی پیش رفت مستقبل کی فیصلہ سازی کے راستے میں مزید غیر یقینی پن کے گڑھے کھود دیتی ہے۔ 

دوسری، عالمی شرح سود آج اس سے کہیں زیادہ ہے جو یا تو 2019ء میں تھی یا کوویڈ کے دوران تھی۔ یہ اہم ہے کیونکہ یہ ہماری بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تجارتی طور پر قرض لینے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے،10 سالہ امریکی شرح سود دو فیصد تھی جو کووڈ 19 کے دوران 0.5  فیصد تک گر گئی  آج یہ تین فیصد ہے  مزیدیہ کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لئے امریکی شرح سود پر پریمیم اور بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

تیسری گزشتہ دو حالیہ بحرانوں کے برعکس اس وقت سری لنکا کی صورت حال سب کے سامنے ہے۔ دیگر بھاری قرضے رکھنے والے ممالک کے لیے بھی ایسے ہی بحران کا خدشہ محسوس کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان کے بنیادی حالات کچھ حوالوں سے بہتر ہوسکتے ہیں، تب بھی معاشی نظم و نسق کے حوالے سے ہمیں بدقسمتی سے ایسے ممالک کے ساتھ ہی نتھی کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا قرض کی پریشانی کے خطرے سے دوچار ممالک کے ممتاز بین الاقوامی اداروں کی طرف سے تیار کی گئی فہرستوں میں شامل ہونا ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہے اور تینوں کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے ہماری ریٹنگ کم کردی گئی ہے، حالانکہ کہ ہم حالیہ دِنوں آئی ایم ایف سے سٹاف کی سطح پر کامیاب معاہدہ کرچکے ہیں،اس سے پتہ چلتا ہے کہ معاشی تجزیہ کار ہمیں قرض کے انتہائی دباؤ کا شکار ممالک کی فہرست میں دیکھتے ہیں۔ 

یہ تصور ہمیں کہاں لے جاتا ہے؟ بری خبر یہ ہے کہ اوپر والے تین عوامل میں سے صرف پہلا  یعنی ملکی سیاسی استحکام ہمارے کنٹرول میں ہے یا کم از کم ہمارے ملک میں کچھ سٹیک ہولڈرز کے کنٹرول میں ہے۔ دیگر دو عوامل، عالمی شرح سود اورعالمی اقتصادی بحران کی زد میں آنے والے ممالک کی حالت ممکنہ طور پر آنے والے مہینوں میں جوں کی توں رہے گی پسیہ عوامل کسی صورت ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ 

اچھی خبر یہ ہے کہ پہلا عنصر سب سے اہم ہے جو استحکام کو بحال کرسکتا ہے، اگر کلیدی اقتصادی سٹیک ہولڈرز اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایک خاص سیاسی بندوبست  (جو بھی ہو) ہی معاشی استحکام لاسکتا ہے، تو عین ممکن ہے کہ وہ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ہماری اقتصادی حالات اتنی بری نہیں جتنا اس کے بارے میں تاثر ہے اور یہ تاثر سیاسی استحکام لا کر دور کیا جاسکتا ہے۔ (بشکریہ ڈان)

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں