43

 کیا جمہوریت ناگزیر ہے؟



 کیا جمہوریت ناگزیر ہے؟

 وطن عزیز اپنی 75ویں سالگرہ کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے۔پون صدی بہت بڑا عرصہ ہے جس میں کسی بھی خطے کو سماجی، تہذیبی، معاشرتی اور معاشی خدوخال باآسانی ترتیب دے کر  ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے فیصلہ سازی اور اس کے نتائج  کے مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لے کر غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے یہ وقت بہت زیادہ ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے بہت بعد پروان چڑھنے وا لی قومیں کس طرح اپنے مسائل کا ادراک اور ان کے حل کے لیے  درست سمت پر سفر کرتی ہوئی ہم سے آگے گزر گئیں۔کبھی جو  اپنے مسائل کے حل کے لیے ہمارے مرہون منت تھے وہ آج ہماری منت بھی ماننے کو تیار نہیں کیوں کہ اب دنیا جان چکی ہے کہ ہم مسائل  کے حل کے لیے پون صدی بعد بھی نہ تو کوئی مربوط لائحہ عمل ترتیب دے پائے اور نہ  ہی اس کے لیے قومی سطح پر کوئی  سنجیدہ انداز فکر  پروان چڑھا سکے ہیں،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار، اختیارات اور مراعات  کی لامتناہی ہوس نے  ہمارے سسٹم کی بساط کو توڑ مروڑ کے رکھ دیا ہے،یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ہمارے نظام میں  سامنے اور پس پردہ قوتوں میں مسائل پیدا ہونے سے ہی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

اپنی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے جہاں جہاں ملک کو بیک گیئر لگا وہاں یہی اندرونی تصادم دکھائی دے گا جس کے نتیجے میں نظام بگڑتا چلا گیا جس کے نتائج بہر حال عام آدمی کو بھی بھگتنا پڑے اور آج بھی ایسا ہی  ہو رہا ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں جس قدر بحرانوں نے اکٹھے منہ کھول لیا ہے ایسا بھی پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے  یا شاید اب مسائل اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ کہ پون صدی کے چھوٹے زخم علاج نہ ہونے کے سبب اکٹھے پھٹ پڑے ہیں۔نہ سیاسی استحکام کی کوئی صورت دکھائی دے رہی ہے، نہ بدترین معاشی بدحالی  کو سدھارنے کی طرف کسی کا دھیان مرکوز ہو پار ہا ہے نہ اداروں کے حدود اور اختیارات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ رہا ہے۔مسائل کے اس انبوہ  میں کسی نے موجودہ جمہوری نظام کے حوالے سے بھی غور و خوض کرنے کی زحمت نہیں کی کہ آخر اسلامی جمہوریہ پاکستان آزادی کی نعمت حاصل کر لینے کے باوجود بھی انگریز آقاؤں کی دی ہوئی ڈیموکریسی کے ہی محافظ کیوں دکھائی دیتے ہیں۔پون صدی گزر جانے کے باوجود ہم نے اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تھنک ٹینک کیوں نہیں بنایا کہ ہماری روایات اور اقدار میں آخر کیوں جمہوریت ہی ناگزیر ہے۔

اس نظام جمہوریت کی تباہ کاریاں اس سے بڑھ کر اور کیا ہو ں گی کہ جس کو آج اکیسوی صدی کی نسل بھی حیرت اور تمسخر سے دیکھ رہی ہے۔ہر پاکستانی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ کیا اس نظام سیاست اور جمہوریت میں حقیقی  عوامی قیادت کا سامنے آنا ممکن ہے؟ کیا اس جمہوری نظام میں ارکان کی خرید و فروخت کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا سیاسی پارٹیوں کی بلیک میلنگ روکی جا سکتی ہے؟  اور اس طرح کے لاتعداد سوالات ہیں جن کا جواب کسی صورت اس نظام کے تسلسل میں موجو د نہیں ہے حالات خطرے کی جس نہج تک پہنچ چکے ہیں اس میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدر قوتیں ملک اور آئندہ آنے والی نسلوں کا سوچیں۔ موجودہ حالات میں ایسے غیر سیاسی اور محب الوطن لوگوں پر مشتمل ٹیم کی اشد ضرورت ہے جنہیں  صرف ملک کی معاشی بدحالی کو ٹریک پر لانے، اداروں کے درمیان حدود کا تعین، تصادم کو روکنے، اعتماد کی فضا کو بحال کرنے اور نظام کو درست سمت پر لانے کا ٹاسک دیا جائے۔ایک دردمند پاکستانی موجودہ سیاسی اور جمہوری نظام کی بھینٹ چڑھنے کے بعد ا س نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ کسی  جماعت کے پاس بھی مسائل کا حل موجود نہیں ہے۔کوئی مظلوم بن کر دوبارہ اقتدار  میں چاہتا ہے،

کوئی دوسروں کو چور ڈاکو کہہ  کر بساط سیاست بچھانے کی خواہش رکھتا ہے، کوئی کسی دوسرے کے کندھے پر پاؤں رکھ کر پھلانگتے ہوئے  سب کچھ پا لینے کی تاک میں ہے لیکن حقیقی مسائل کا حل اور ادراک کسی کے پاس نہیں کہ یہ جمہوریت کا حاصل ہے۔شہر ندی نالے بنے ہوئے ہیں، قدرت کی عطا کردہ بارشوں کی نعمت آفت بن بن کر ٹوٹ رہی ہے، روزمرہ استعما ل کی چیزیں آسمان کی باتیں کر رہی ہیں۔سیاسی محاذ آرائی کا پارہ اس قدر گرم ہے کہ ان حالات میں فوری الیکشن بھی کروا دئیے جائیں تو کوئی بھی سیاسی جماعت ان کے نتائج کو ماننے اور شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو گی اور ایک بار پھر وہی کھینچا تانی  اور مکروہ خرید و فروخت  کا دھندہ شروع ہو جائے گا۔اگر واقعی کسی حل کی طرف بڑھنا ہے تو موجودہ  جمہوری سیاسی نظام  اور سیاستدانوں کو کچھ آرام دینے کی ضرورت ہے۔ اس دوران ٹیکنو کریٹس اور اپنے اپنے شعبے کے بہترین  ماہرین کی  غیر سیاسی  اور محبت وطن ٹیم کو سامنے لا کردن رات محنت کی جائے۔نظام  کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی جمہوریت کے متبادل  زاویوں پر بھی فوری  تھنک ٹینک قائم کرنے کی ضرورت ہے جو اس دوران صرف اس بات پر غور و خوض کرے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے مغربی جمہوریت ہی حرف آخر ہے یا کچھ اس کے متبادل آپشنز بھی ہیں جو اس نظام کو بہتر انداز سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔کیا پوری صدی میں ہم ملکی بقا اور آئندہ آنے والی نسلوں کے مستقبل  سے جڑے اس اہم سوال کا جواب بھی تلاش نہیں کر سکتے؟             

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں