30

  کچی بستی کے ہر گھر سے شور اٹھے گا جاناں 



  کچی بستی کے ہر گھر سے شور اٹھے گا جاناں 

 بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے کتنی بڑی تباہی ہوئی ہے اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 12 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خود اس سارے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے اسی سلسلے میں وہ مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے ایک حادثے کا شکار ہو کر اپنے پانچ ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش کر گئے۔ بلوچستان میں تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ 13535 مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں، 136 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ستر سے زائد زخمی ہیں، ہائی وے کی 640 کلومیٹر پر محیط سڑکیں سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورے کے دوران ریلیف کیمپوں کا معائنہ کیا، وہاں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا اور حکام کو تلقین کی کہ وہ خوراک اور ادویات کی کمی نہ آنے دیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے وزیر اعظم کو سیلاب اور طوفانی بارشوں سے ہونے والے نقصات کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ چار بڑے کیمپ میڈیکل سہولتوں کے ساتھ قائم کئے گئے ہیں، جہاں سولر انرجی سے ٹیوب ویل سسٹم بھی چلایا گیا ہے تاکہ لوگوں کو صاف پانی کی سہولت میسر آ سکے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے متاثرین سے خود بھی ملاقات کی ان سے فراہم کی گئی سہولتوں کے بارے میں استفسار کیا اس سے پہلے قلعہ سیف اللہ کے علاقے خنوب میں قائم امدادی کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی پر افسوس کا اظہار کیا، جن میں خوراک اور پانی کی عدم دستیابی بھی شامل ہے انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ ریلیف کے کاموں کی رفتار تیز کریں، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لئے بہترین ریسکیو آپریشن کا بندوبست کر کے جلد از جلد انہیں کیمپوں میں منتقل کیا جائے۔ وزیر اعظم نے این ڈی ایم اے کو یہ ہدایت بھی کی کہ جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو 24 گھنٹے کے اندر مالی امداد فراہم کی جائے۔

صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ ملک کے جس حصے میں بھی جانی نقصان ہوا ہے، لواحقین کو مالی امداد کے چیک پہنچائے جائیں، اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح زخمیوں کو اور مکانات کے انہدام سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے بھی فوری امداد مہیا کی جائے انہوں نے کہا یہ ایک قومی سانحہ ہے۔ اس موقع پر متاثرین کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑیں گے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سال بارشیں معمول سے زیادہ ہوئی ہیں اور ابھی بارشوں کا مزید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یوں تو کراچی، جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر حصے بھی متاثر ہوئے ہیں تاہم زیادہ تباہی بلوچستان کے اضلاع میں آئی ہے جہاں چھوٹے شہر اور دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں اس تباہی کے دوران درد ناک مناظر بھی دیکھنے میں آئے اور بچوں کی لاشیں پانی میں تیرتی ہوئی دیکھی گئیں۔ اسی طرح کی تباہی اور سیلابی آفت سے جنم لینے والے مناظر جنوبی پنجاب کے علاقوں تونسہ شریف، راجن پور، کوٹ ادو، روجھان اور ملحقہ علاقوں میں بھی دیکھے گئے جہاں کچے مکانوں میں رہنے والوں کی زندگی بھر کا اثاثہ پانی میں بہہ گیا۔ اس وقت حکومتی اداروں کے سامنے سب سے اہم ٹاسک یہ ہونا چاہئے کہ آنے والی بارشوں اور متوقع سیلاب سے ان علاقوں کو مزید تباہی سے کیسے بچانا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ حوصلہ افزا ء بیان دیا ہے کہ آخری متاثرہ فرد کی آباد کاری تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی مگر یہ کام طویل منصوبہ بندی کا متقاضی ہے فوری ریلیف ورک کیمپوں کی حد تک تو شروع ہو سکتا ہے تاہم مکانات کی تعمیر کا عمل  ممکن نہیں کیونکہ ابھی مزید بارشوں اور سیلابوں کی پیش گوئی کی جا چکی ہے تاہم وزیر اعظم کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے کہ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو فوری مالی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے دربدر ہونے والوں کے مسائل حل ہوں گے اور زخمیوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں میر آئیں گی۔

ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی ایسی آفت آئی نہ صرف حکومت بلکہ پورا معاشرہ متاثرین کی مدد کے لئے کمر بستہ ہو جاتا تھا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس بار سیلاب اور بارش کے متاثرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، انفرادی سطح پر لوگوں کی طرف سے خوراک اور کپڑے فراہم کرنے کی کچھ مثالیں سامنے آئیں تاہم مخیر حضرات، این جی اوز اور دیگر اداروں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ بلوچستان تو ایک دور دراز صوبہ ہے جہاں حکومت کو مدد کے لئے پہنچنا چاہئے تھا، تاہم جنوبی پنجاب کے متاثرہ علاقے تو بڑے شہروں کے قریب موجود ہیں، ان لوگوں تک امدادی سامان بروقت کیوں نہیں پہنچ رہا اور کیوں وہاں کی درد ناک کہانیاں اور تصویریں سامنے آ رہی ہیں اس ضمن میں سول سوسائٹی کو آگے آنا چاہئے تاکہ جو لوگ اس وقت کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار پڑے ہیں، ان کی زندگی کو مشکلات سے نکالا جا سکے ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ایک ایسی مربوط منصوبہ بندی کی جائے کہ آئندہ سیلاب اور بارشوں نقصان کم سے کم ہو۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے باوجود ہمارے متعلقہ محکمے سوئے رہتے ہیں۔ بروقت ایسے علاقوں سے لوگوں کا انخلاء یقینی نہیں بناتے جہاں سیلاب آنے کا خطرہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں کے جانور اور گھریلو سامان پانی میں بہہ رہا ہوتا ہے تو اور خود ان کی زندگی بھی پانی کی شدید لہروں کی زد میں ہوتی ہے تو محکموں کی آنکھ کھلتی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب سے متاثرہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کا دورہ کیا ہے، امدادی چیک بھی تقسیم کئے ہیں تاہم متاثرین کی طرف سے یہ شکایت سامنے آئی کہ انہیں وزیر اعلیٰ سے ملنے نہیں دیا گیا، چیکوں کی تقسیم کے بارے میں بھی عدم تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ وہ غیر مستحق افراد میں تقسیم کئے گئے ہیں جنوبی پنجاب میں ہر سال رودکوہیوں کی وجہ سے سیلاب آتا ہے ہر سال تباہی مچاتا ہے لیکن کوئی محکمہ بروقت  یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ اس نقصان کو کم سے کم کیسے رکھنا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بارشوں اور سیلابوں سے آنے والی تباہی سے بچنے کے لئے ایک قلیل اور طویل مدتی پالیسی بنانے کے لئے وزراء کی ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ اگر یہ کمیٹی اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرتی ہے تو یہ اس حکومت کی ایک اہم کامیابی ہو گی۔ اس وقت جہاں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی و آباد کاری بہت اہم ہے وہاں اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہر سال اس تباہی کے بعد لکیر پیٹنے کی بجائے ہم پیشگی انتظامات کر کے جانی و مالی نقصان سے بچنے کی کوئی مؤثر تدبیر کریں۔ اس کے لئے حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کو سرجوڑ کے بیٹھنا ہوگا۔ امید ہے حکومت اس جانب ترجیحی بنیاد پر توجہ دے گی۔ موضوع کی مناسبت سے میرا ایک شعر:

بارش آج بھی گر برسی تو کون رہے گا جاناں 

کچی بستی کے ہر گھر سے شور اٹھے گا جاناں 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں