37

 چین امریکہ اور تائیوان 



 چین، امریکہ اور تائیوان 

 پچھلے دنوں جب یہ خبر آئی کہ امریکی ہاؤس سپیکر نینسی پلوسی ایشیائی ممالک کے دورے پر نکل رہی ہیں اور تائیوان یاترا بھی کریں گی تو عالمی سیاسی دنیا کی طنابیں کھنچ کر ان کے اس دورے پر مرکوز ہو گئیں۔ وہ اپنے عہدے کے حساب سے صدر امریکہ بائیڈن کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہیں لیکن عمر عزیز کے حساب سے اول نمبر پر ہیں۔ بائیڈن 80برس کے ہیں اور نینسی 82 سالہ خاتون ہیں۔ ان کا چہرہ مہرہ اور ناک نقشہ آج بھی ان کے ماضیء قریب کے حسن  و جمال کا آئینہ دار ہے۔ پتہ نہیں یہ امریکی مرد و زن کیا کھاتے پیتے ہیں کہ امریکی عوام ان کو عہدہ ہائے جلیلہ پر فائز کرنے میں اس بات کا ذرہ بھر لحاظ نہیں رکھتے کہ مشرق میں تو 60سالہ بوڑھے کو بھی ’سٹھیا‘ جانے کا طعنہ دیا جاتا ہے اور 82سالہ بڑھیا کو کیا کہا جائے گا اس کا حساب آپ خود لگا لیجئے۔ لیکن مغرب والے نجانے عمر کی گنتی کس حساب سے کرتے ہیں!

محترمہ نینسی کے تائیوان کے مجوزہ دورے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چین نے اس دورے کو اپنی علاقائی خود مختاری پر حملہ قرار دے کر اس کی مذمت پر بیانات کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ عالمی دانشور یہی سمجھتے تھے کہ محترمہ تائیوان نہیں جائیں گی۔

تیسری عالمی جنگ کے خطرات پیدا ہونے لگے تھے۔ امریکہ پانچ چھ ماہ پہلے روس کی طرف سے یوکرائن حملے کی دھمکی کو برداشت کر گیا تھا اور اس تناظر میں دنیا کی واحد سپرپاور ہونے کا تاج اس کے سر پر سے سرکنے لگا تھا۔ اب چین نے اگرچہ دھمکی نہیں دی تھی لیکن اس کی طرف سے بیانات کا لب و لہجہ دھمکی سے کم بھی نہیں تھا۔ امریکہ پہلے تو افغانستان سے 20سالہ جنگ کے خاتمے پر بے نیل مرام واپس لوٹنے اور پھر روس کی طرف سے یوکرائن کی مدد کرنے والے ملک پر جوہری حملے پر اپنی سپاہ کے بوٹوں کو یوکرائن سرحد پار نہ کرنے کا حکم دے کر ایک بڑی سبکی سے دوچار ہو چکا تھا۔ اب اپنی ہاؤس اسپیکر کے دورۂ تائیوان کو کینسل کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنے دونوں عالمی حریفوں (روس اور چین) سے مات کھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہو گی کہ امریکی سیاسی دانشور نینسی کے دورے کی منسوخی یا التوا کے حق میں نہیں تھے۔

تائیوان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی حاکمیت کا تنازعہ چین اور امریکہ کے درمیان گلے کی پھانس بنا ہوا ہے۔ تائیوان اقوام متحدہ کا رکن نہیں اور مغربی دنیا بھی ”وَن چائنا“ پالیسی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر جب چین کے ماؤزے تنگ نے اپنے حریف جنرل چیانگ کائی شیک کو اپنی افواج سمیت تائیوان کے جزیرے میں اترنے پر اس کے خلاف لشکرکشی نہیں کی تھی اور چیانگ نے تائیوان کو ایک آزاد جمہوریہ ڈکلیئر کر دیا تھا تو اس طرح ماؤ کی فوجی طاقت اور تاریخی اعتبار سے تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کرنے سے امریکہ (اور مغربی دنیا) کو ”جمہوریہ تائیوان“ کو تسلیم کرنے سے باز رکھا تھا۔ اور جب چین کو 1949ء میں ایک آزاد ملک کی حیثیت دی گئی تھی اور اسے اقوام متحدہ کا رکن بنا لیا گیا تھا تو چین کا حقِ حکمرانی تائیوان پر بھی تسلیم کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد چین کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن تسلیم کر لیا گیا، وہ ایک جوہری قوت بھی بن گیا اور تب سے لے کر اب تک چین نے فوجی اعتبار سے اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ دنیا کی تیسری بڑی طاقت (امریکہ اور روس کے بعد) بن چکا ہے۔ لیکن ابھی تک چین عسکری قوت کے تناظر میں اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جہاں امریکہ اور روس پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن آج نہیں تو آنے والے کل میں چین کو نہ صرف امریکہ کی ہمسری حاصل ہو جائے گی بلکہ وہ دنیا کا عظیم ترین ملک بھی بن جائے گا۔

چین نے نینسی پلوسی کی تائیوان آمد پر جو بیانات دیئے تھے وہ اگرچہ کسی تیسری جنگ کا الٹی میٹم نہیں تھے لیکن دنیا یہی سمجھتی تھی کہ نینسی کا یہ دورہ امریکہ۔ چین چپقلش کو ٹیسٹ کرنے کا ایک لٹمس ہے۔ اس ٹیسٹ میں بظاہر چین کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نینسی منگل کی شام تائیوان کے دارالحکومت تائی پی (Taipei) میں اتر چکی ہے اور اس کا استقبال بھی تائیوانی حکومتی حکام کی طرف سے کیا جا چکا ہے لیکن چین کی طرف سے ابھی تک تائیوان کے خلاف کسی زمینی، بحری یا فضائی حملے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ البتہ چین نے تائیوان کے خلاف جن جنگی مشقوں کا اعلان کیا تھا وہ کی جا رہی ہیں۔

تائیوان ایک جزیرہ ہے اور عالمی سیاسیات کے تناظر میں ری پبلک آف چائنا کا حصہ ہے۔۔۔۔ اس کے مغرب میں چین، شمال میں جاپان اور جنوب میں فلپائن ہیں۔ اس کا رقبہ 36ہزار مربع کلومیٹر ہے اور آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے۔اس کے اردگرد بہت سے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی ہیں۔ اس کی آبادی میں 21فیصد بدھ، 5فیصد عیسائی، ایک فیصد مسلمان اور باقی لامذہب لوگ ہیں۔ امریکہ نے اس کو ہر طرح کی دفاعی قوت (بری، بحری اور فضائی) سے مسلح کر رکھا ہے۔ لیکن چین کے مقابلے میں تائیوان محض ایک ”خار و خس“ ہے جس کو چین جب چاہے حملہ کرکے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے۔ تاہم فی الحال چین اپنی ابھرتی ہوئی فوجی قوت کو امریکہ اور اس کے حواریوں کے جوابی حملوں سے ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ایک وقت آئے گا کہ تائیوان کو چین کا حصہ بننے سے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی۔

پاکستان نے تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کرنے کا پھر اعادہ کیا ہے اور ایک بار پھر عالمی امن اور کسی تیسری عالمی جنگ کے امکانات کی مذمت کی ہے۔ ظاہر ہے امریکہ اس ”پاکستانی حرکت“ کو پسند نہیں کرے گا۔

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو نینسی پلوسی تائیوان میں ہیں اور چین کی فضائی اور بحری مشقیں تائیوان کے ہرشش اطراف میں جاری ہیں۔ آبنائے تائیوان سے شروع کریں تو اس چھوٹے سے جزیرے کے محیط کو چھ حصوں میں برابر برابر تقسیم کرکے ہر حصے میں چینی بحری اور ہوائی جہاز زندہ ایمونیشن سے جنگی مشقیں کر رہے ہیں۔۔۔ شمال میں جاپان ہے جو امریکہ کا اتحادی اور چین کا حریف ہے۔ اس کی سرزمین پر امریکہ نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیاروں کے کئی سکواڈرن صف بند کر رکھے ہیں۔ لیکن وہ چینی جنگی مشقوں کے جواب میں کوئی جنگی مشق نہیں کر رہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ امریکہ نہیں سمجھتا کہ چین، تائیوان پر حملہ کرے گا اور نینسی کے دورۂ تائیوان کے جواب میں تائیوانی فضاؤں، سمندروں یا زمینوں کے کسی حصے پر یلغار کرے گا۔

لیکن اگر عالمی حربی سٹرٹیجک صورتِ حال کو پیش نظر رکھ کر نینسی پلوسی کے اس ”بے جواز“ دورۂ تائیوان پر نگاہ ڈالیں تو یہ ایک خواہ مخواہ کی غیر دانش مندانہ حرکت ہے۔ کسی ایک طرف سے کسی انسانی بھول چوک کے نتیجے میں وہ جنگ چھڑ سکتی ہے جو اگرچہ نوشتہء دیوار ہے لیکن ہنوز اس کا وقت شاید قریب نہیں۔ دوسرے لفظوں میں خدائے واحد کو ابھی اپنی اس کائنات کی قیامت منظور نہیں۔ لیکن جب وہ چاہے گا تو دنیا کی کوئی بھی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کو روک نہیں سکے گی۔ عالمِ اسلام کے سب سے بڑے شاعر اور فلاسفر نے کہا تھا:

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں سے اک وہی، باقی بتانِ آذری

مشرق و مغرب نے اگرچہ بڑے بڑے شعرا اور فلاسفہ پیدا کئے ہیں۔ لیکن انگریزی میں شیکسپیئر اور اردو / فارسی میں علامہ اقبال جیسا کوئی تیسرا شاعر فلاسفر دنیا میں پیدا نہیں ہو سکا۔ مغرب نے فلاسفہ تو درجنوں پیدا کئے لیکن شعر کی زبان میں فلسفیانہ حقائق کی ادائیگی صرف ان دونوں حکمائے مغرب و مشرق کا حصہ ہے۔ اقبال نے خود شیکسپئر کی عظمت کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا:

حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا

رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا

لیکن شیکسپئر تو اقبال سے 300سال پہلے انتقال کر گیا تھا۔ اگر یہ دونوں حکمائے فطرت و شعر کی تاریخِ وفات الٹی ہو جاتی تو نجانے شیکسپئر، اقبال کے بارے میں کتنے اور کیسے کیسے اشعارِ آبدار کہتا!

تصحیح

کل کے کالم میں جس ہیلی کاپٹر کے حادثے کا ذکر کیا گیا تھا وہ MI-17نہیں تھا بلکہ فرانس کا بنا ہوا ایکورل (Ecuirell) تھا جو شاید 2007ء کے لگ بھگ  پاکستان نے فرانس سے خریدے تھے۔ یہ ہیلی کاپٹر، سائز میں MI-17سے چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ 6آدمی سوار ہو سکتے ہیں۔ فنی اعتبار سے یہ روسی ساختہ MI-17سے کہیں زیادہ قابلِ اعتبار اور بہتر جہاز ہے۔۔۔ لیکن ع: موت سے کس کو رستگاری ہے۔ جن فوجی قارئین نے اس طرف توجہ دلائی ہے ان کا شکریہ اور اپنی غلطی کی معذرت۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں