27

چھ اعلیٰ فوجی افسران کی شہادت کا سانحہ   



چھ اعلیٰ فوجی افسران کی شہادت کا سانحہ   

 اگلے روز بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا تھا جس میں 12 کور کے کمانڈر سمیت 6 افراد سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر کو خراب موسم کی وجہ سے حادثہ پیش آیاجس کا ملبہ لسبیلہ کے علاقے وندر میں موسیٰ گوٹھ سے ملا۔اس واقعہ میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 6 افسران اور سپاہی شہید ہو گئے جن میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی،  ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی‘ بریگیڈیئر محمد خالد‘ میجر سعید احمد‘ میجر محمد طلحٰہ منان اور نائیک مدثر شامل ہیں۔بلوچستان میں سیلاب زدگان کے ریلیف آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید افسران کی نماز جنازہ ملیر گیریژن میں ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ کے بعد شہدا کی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں۔

بلوچستان میں پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے اور پھر حادثے کی خبر نے پورے ملک کو دکھی اور سوگوار کر دیا۔ وطن عزیز کی سالمیت، استحکام کی خاطر پاکستانی فوج کی قربانیوں کی ایک طویل فہرست ہے اور ان قربانیوں میں ایک سپاہی سے لے کر جنرل تک تمام شریک ہیں۔ اس میں کسی رینک کا امتیاز نہیں بلکہ سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اس دھرتی ماں کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔

صدر عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کیلئے بلندی درجات کی دعا کی اور ان کے اہل خانہ کیلئے اظہار ہمدردی بھی کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت 6 افسروں کی  شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے۔ وطن کے یہ بیٹے قوم کا فخر ہیں جنہوں نے اپنی جانیں سیلاب متاثرین کیلئے قربان کر دیں، قوم کے فرض شناس فرزند انسانی خدمت کی روشن مثال ہیں۔

 سیاسی، مذہبی و سماجی حلقوں نے شہدا ء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے فرض شناس بیٹے بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کاموں میں مصروف تھے اور انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی اور قوم کی خدمت کیلئے انتہائی جانفشانی اور لگن سے کام کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار یہ سپوت قوم کے محسن ہیں۔

ہیلی کاپٹرحادثے میں شہید ہونیوالے ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف کا تعلق راولا کوٹ آزاد کشمیر سے تھا۔میجر جنرل امجد حنیف نے 1994 میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، شہید نے سوگواروں میں بیوہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔شہید کمانڈر انجینئر 12 کور بریگیڈیئر محمد خالد کا تعلق فیصل آباد سے تھا، بریگیڈیئر محمد خالد نے 1994 میں 20 انجینئر بٹالین میں کمیشن حاصل کیا، شہید نے بیوہ، تین بیٹیوں اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔شہید پائلٹ میجر سعید کا تعلق لاڑکانہ سے تھا، انہوں نے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔ہیلی کاپٹرحادثے میں شہید ہونیوالے معاون پائلٹ میجر محمد طلحہ منان نے بیوہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔شہید کریو چیف نائیک مدثر فیاض کا تعلق نارووال سے تھا اور انہوں نے بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کوئٹہ کے کور کمانڈر کے عہدے پر تعینات تھے۔ اس سے قبل وہ آئی ایف سی کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔جنرل سرفراز اکتوبر 2018 میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔15 مہینے ڈجی جی ایم آئی کے عہدے پر رہنے کے بعد جنوری 2020 میں جنرل سرفراز علی کو انسپیکٹر جنرل ایف سی بلوچستان تعینات کر دیا گیا تھا۔نومبر 2020 میں جنرل سرفراز علی کو میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ملی تو انہیں کمانڈر سدرن کمانڈ کوئٹہ کی ذمہ داری دی گئی تھی۔بریگیڈیر کے عہدے پر تعیناتی کے دوران وہ 2015-2017 میں واشنگٹن امریکہ میں ڈیفنس اتاشی بھی رہے اور سال 2017 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی ملی۔لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی 2012ء میں کمانڈر ٹرپل ون بریگیڈ بھی رہ چکے ہیں۔جنرل سرفراز علی کے احباب اور سابقہ کولیگز کے مطابق وہ پروفیشنل افسر اور غیر متنازع شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے ساتھ واشنگٹن سفارت خانے میں کام کرنے والے افراد کے مطابق جنرل سرفراز کی شخصیت میں ایک ٹھہراؤ تھا اور معاملات کو گہرائی سے جانچنے کی ان میں اضافی خوبی تھی۔

ہیلی کاپٹر حادثہ ایک قومی سانحہ ہے جس میں پاک فوج کے سینئر افسروں کی شہادت ملک و قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ لسبیلہ کے قریب ہونے والے حادثے کی وجہ ہیلی کاپٹر میں فنی خرابی بھی ہو سکتی ہے جبکہ مون سون کے باعث خراب موسم بھی حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ اصل صورتحال تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔تحقیقات کے دوران اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ حادثہ تخریب کاروں کی کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہ ہو۔ قدرتی آفات ہوں یا امن و امان کی خراب صورتحال پاک فوج کے افسروں اور جوان ان سے نمٹنے کے لیے ہراول دستے کا کام کرتے ہیں جس میں وہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے،یہ سانحہ بھی فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران پیش آیا جس میں ہمارے سپوتوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اس سانحے پر پوری قوم سوگوار ہے۔ 

جو افسر اور جوان شہید ہوئے انہیں معلوم تھا کہ وہ ایک خطرناک مشن پر جا رہے ہیں،اس کے باوجود انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس مشن کو کامیاب بنانے کیلئے ملک کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے دی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ہیلی کاپٹر حادثے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاک فوج کے جوان اس دھرتی کی حفاظت اور اس میں بسنے والے 22 کروڑ سے زائد عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک دینے کیلئے تیار ہیں۔ زمانہ امن ہو یا جنگ، قدرتی آفات ہو ں یا کوئی اور مسئلہ، ہر جگہ پاک فوج کے جوان پیش پیش نظر آتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں