47

 پٹرول سستا ہونے کی بجائے مہنگا ہو گیا



 پٹرول سستا ہونے کی بجائے مہنگا ہو گیا

 یوم آزادی  پر وزیراعظم شہباز شریف کی تقریریں سن کر یہ لگتا تھا کہ وہ عوام کے لیے کچھ بڑا کرنے والے ہیں،یعنی کوئی بڑا ریلیف دینے کا ارادہ باندھ چکے ہیں خود ہی انہوں نے کہا تھا ڈالر نیچے آ رہا ہے،معیشت بہتر ہو رہی ہے،ہم بحران سے نکل آئے ہیں وغیرہ وغیرہ،ادھر اوگرا نے بھی پٹرول کی قیمت میں کمی کی سمری بھیج رکھی تھی اور خیال یہی تھا اوگرا نے جو سمری بھیجی ہے شہباز شریف اپنی عادت کے مطابق سرپرائز دیتے ہوئے اُسے دو گنا کر کے پٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کریں گے،ویسے بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی تھیں اور اُن کا فائدہ اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے حکومت کو عوام تک پہنچانا چاہیے تھا اکثر لوگوں نے تو اس لیے کئی دن پٹرول نہیں ڈلوایا کہ اچھا خاصا سستا ہونے جا رہا ہے مگر یہ سارے خیال یہ سارے خواب اُس وقت چکنا چور ہو گئے جب یہ خبر آئی کہ قیمت کم کرنے کی بجائے سات روپے فی لٹر بڑھا دی گئی ہے۔پہلی بار میں نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ(ن) والوں نے سر پیٹ لیے، پیپلزپارٹی والے علیحدہ اپنی صفائیاں دیتے رہے کہ یہ پی ڈی ایم کا فیصلہ نہیں مفتاح اسماعیل اور شہباز شریف کا کیا دھرا ہے۔ سنا ہے نواز شریف نے بھی اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔

اِس وقت جس سے پوچھو وہ مہنگائی کا رونا روتا نظر آتا ہے، مہنگائی ہے کہ کسی طرح بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ڈالر کی قیمت میں 25روپے کی کمی واقع ہو چکی ہے مگر اُس کے اثرات کہیں نظر نہیں آ رہے،یہ ڈالر اوپر گیا کیوں تھا؟ یہ معمہ بھی ابھی تک کسی نے حل نہیں کیا، سنا ہے اس میں سٹہ باز شامل تھے جنہیں کھل کھیلنے کی کھلی چھوٹ دی گئی انہوں نے اربوں روپے کمائے،اُن کی اس سٹہ بازی کے باعث پاکستانی روپیہ گراوٹ کا شکار ہوا تو ملک میں ہر چیز کے نرخ بڑھ گئے،اُن اشیاء  کے بھی جن کا ڈالر سے کچھ لینا دینا نہیں، سبزیاں اور پھل بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئے،اب ڈالر تو نیچے آ رہا ہے،قیمتیں نیچے نہیں آ رہیں اور یہ کہا جا رہا ہے جب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ڈیڑھ سو روپے لٹر تک نہیں آتی اُس وقت تک مہنگائی میں کمی نہیں آ سکتی کیونکہ اس کی وجہ سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ حکومت اگر واقعی عوام کی ہمدرد ہوتی،اُن کی مشکلات کا اسے خیال ہوتا تو اس بارے میں سوچتی،مگر اس کی دنیا ہی کچھ اور ہے اُسے صرف عمران خان کی فکر ہے کہ اُسے کیسے قابو کرنا ہے یا اُسے یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں شہباز گل کی ضمانت نہ ہو جائے،پھر اُس بیانیے کا کیا بنے گا جو پی ٹی آئی کو فوج مخالف ثابت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ایک باخبر دوست بتا رہے تھے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس لیے بڑی کمی نہیں کرنا چاہتی کہ بجلی بلوں میں ایف بی اے سرچارج کی مد میں ابھی اربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکلوانا چاہتی ہے۔تاجروں پر جو ٹیکس لگایا گیا تھا وہ اُن کے احتجاج کی وجہ سے واپس لینا پڑا،تاہم اس سے جو30ارب روپے حاصل ہونے تھے وہ عوام سے لینے ہیں اور اس کے لیے اُن پر ایف بی اے سرچارج کی چھری چلائی جائے گی،جو اسی صورت میں چل سکتی ہے جب تیل مہنگا ہو اور اُس کی بنیاد پر نیپرا بجلی مہنگی کرنے کی اجازت دیدے۔کم ازکم گرمیوں کے مہینوں میں عوام کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں حکومت کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں،اس لیے کواکب ہوتے کچھ ہیں نظر کچھ آتے ہیں،اب مسلم لیگ(ن) کے پاس یہ بہانا بھی نہیں کہ عمران خان بارودی سرنگیں بچھا گئے تھے،جس کی وجہ سے سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں،اب تو حالات بہتر ہو رہے ہیں اور نرم فیصلوں کا وقت ہے لیکن اس کے باوجود حکومت عوام کو کوئی ریلیف دینے پر تیار نہیں یہ بھی اب صاف نظر آ رہا ہے کہ خود مسلم لیگ(ن) کے اندر ایک واضح تقسیم موجود ہے،شہباز شریف کی پالیسیوں سے نواز شریف خوش نہیں،مریم نواز بھی ایسے ٹویٹ کرتی رہتی ہیں جن میں اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ نواز شریف عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے حق میں نہیں یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ حکومت میں آ کر مسلم لیگ(ن) نے عوامی مقبولیت کھو دی ہے۔ پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے نتائج اس امر کے گواہ ہیں کہ خود اُس  صوبے میں جہاں مسلم لیگ(ن) ایک بڑی جماعت کے طور پر موجود تھی، اب اس کے لیے حالات تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ نواز شریف کو یقینا اس بات کا احساس ہے اس وقت پورے سیاسی منظر نامے پر اگر کسی جماعت کو عوامی سطح پر شدید نقصان کا سامنا ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے،پیپلزپارٹی بڑے مزے میں ہے اُس کے پاس سندھ موجود ہے،جہاں اُس کی حکومت بھی ہے اور اندرون سندھ اُس کی مضبوط گرفت بھی،پھر آج کے جتنے عوام دشمن فیصلے ہیں وہ اُن سے دور ہو کر بیٹھی ہے آصف علی زرداری نے بڑی اہم اننگ کھیلی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کو عالمی سطح پر متعارف کرا دیا ہے اور تنقید کی ساری توپوں کا رخ بھی اپنی روایتی حریف جماعت مسلم لیگ(ن) جو اب اتفاق سے حلیف ہے،کی طرف موڑ رکھا ہے آج صرف دو لوگوں پر تنقید ہوتی ہے، شہباز شریف اور مفتاح اسماعیل،حالانکہ ملک پر پندرہ جماعتوں کے اتحاد کی حکومت ہے اور ہر جماعت کے کئی کئی وزیر وزارتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

عوام اب بے وقوف نہیں ہیں،سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں ہر بات کی خبر مل جاتی ہے،حکومت نے شروع میں کہا تھا ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے،عوام نے اس بات کو تسلیم کر لیا مگر بعد میں انہوں نے دیکھا مشکل فیصلے صرف یہ تھے کہ پٹرول کی قیمت بڑھا دو، ٹیکس لگا دو اور عوام کی رہی سہی سکت بھی ختم کر دو، جس حکومت نے62 رکنی کابینہ بنا رکھی ہو، کیا وہ یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اُس نے ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لئے سخت فیصلے کیے ہیں، کیا ٹیکسوں کا دائرہ بڑھایا؟ متمول طبقات پر براہِ راست ٹیکس لگائے، ایک تاجروں پر فکس ٹیکس لگایا تھا،احتجاج ہوا تو اُسے بھی واپس لے لیا،کیا اسی طرح سخت فیصلے کئے جاتے ہیں؟ سارا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر ڈال کر یہ دعویٰ کرنا ملک کو بچانے کے لیے ہم سخت فیصلے کر رہے ہیں صریحاً ایک دھوکہ دہی ہے یہ تو معمول کے فیصلے ہیں کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالواُن کی زندگی کو مزید اجیرن کر دو اور یہ دعویٰ بھی کرو کہ ہمیں عوام سے بڑی ہمدردی ہے۔آج عمران خان کی مقبولیت بہت بڑھ چکی ہے اور اس میں ایک بڑا کردار اس حکومت کا بھی ہے،جس نے اپنی ناقص کارکردگی کے باعث حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں اور معاشی ریلیف کے لیے کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں