16

پولیس افسران کے بار بار تبادلے



پولیس افسران کے بار بار تبادلے

پنجاب بھر میں افسران کے تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے آئی جی پولیس پنجاب جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ بھی تبدیل کر دئیے جائیں گے گزشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کی ملاقات کے بعد اب یہ قیاس آرائیاں ختم ہو جانی چاہیں کہ اب وہ کہیں نہیں جا رہے دوسری جانب لاہور میں سی سی پی او کے تبادلے کے بعد گزشتہ روز ڈی آئی جی آپریشنز بھی تبدیل کردیے گئے گزشتہ چار سال کے دوران اب تک 7’سی سی پی او‘جبکہ ’دسویں‘بار ڈی آئی جی آپریشنز تبدیل ہو رہے ہیں، اسی طرح ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی،آرپی او فیصل آباد،سرگودھا،سی پی او گوجرانوالہ اور فیصل آباد بھی تبدیل کیے گئے ہیں جبکہ چند ایک ڈی پی اوز کے تبادلے بھی عمل میں لائے گئے ہیں،یوں توتعینات اور تبدیل ہونے والے سبھی افسران اچھے تھے فرق صرف یہ ہے جو تبدیل ہوئے ہیں ان میں کئی ایک کا مزاج موجودہ حکومت سے مطابقت نہیں رکھتا جو لائے گئے ہیں تبدیل ہونے والے افسران کی بجائے حکومت ان سے بہتر پرفارمنس اورگڈ گورننس کی متقاضی ہے، تبدیل ہونے والے افسران میں ڈی آئی جی بلال صدیق کمیانہ،سہیل چوہدری اورسی پی او گوجرانوالہ رائے اعجاز کے متعلق ایک رائے قائم ہوچکی تھی کہ پنجاب سے ختم ہونیوالی مسلم لیگ نون کی حکومت کے چہیتوں میں یہ شامل تھے حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں عمر شیخ کو جب سی سی پی او لاہورتعینات کیا گیا اس وقت بلال صدیق کمیانہ تعیناتی کے لیے فیورٹ قرار دیے گئے تھے جبکہ سہیل چوہدری تو پی ٹی آئی کی حکومت میں سی پی او فیصل آباد اور ڈی آئی جی آپریشنز رہ چکے ہیں دیگر فارغ ہونے والے افسران میں آرپی او فیصل آباد بابر سرفراز الپہ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی وسیم احمد خان سیال،سی پی او گوجرانوالہ رائے اعجاز اور سی پی او فیصل آباد علی ناصر رضوی شامل ہیں ان چاروں افسران کو میں اے ایس پی کے دور سے جانتا ہوں سبھی انتہائی اچھی شہرت کے حامل ہیں یہ انتہائی دباؤ کے باوجودبھی میرٹ سے ہٹ کر کام نہیں کرتے اور ان کے تبدیل ہونے کی وجہ بھی یہ ہی قرار پائی ہے۔ماسوائے لاہور کے دیگر افسران کو سیاسی بنیادوں پر تبدیل کرنا ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے،جہاں تک نئے تعینات ہونے والے افسران کی بات کی جائے تو شہرت اور پیشہ ورانہ مہارت میں یہ بھی کسی سے کم نہیں نئے تعینات ہونے والے افسران میں سب سے زیادہ خوش قسمت لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر ہیں جنہیں دوسری بار لاہور میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے اور یہ موقع انہیں بہترین کمانڈنگ کی وجہ سے میسر آیا ہے۔ پہلے وہ بطور سی سی پی 11ما کام کر چکے ہیں کوئی شک نہیں کہ ان کے دور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی، قبضہ مافیا،بدمعاشوں اور غنڈہ عناصر کا قلع قمع کرکے شہر کو امن کا گہوار بنایا گیااب دوبارہ انہیں اسی جذبے کے تحت شہر میں خراب صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے لایا گیا ہے اسی طرح لاہور میں تعینات رہنے والے سہیل چوہدری کو جب دوبارہ تعینات کیا گیا تواس وقت بھی ڈی آئی جی افضال احمد کوثر کو اس سیٹ کے لیے پوسٹنگ کی آفر کی گئی تھی مگر انہوں نے اس وقت یہ تعیناتی لینے سے انکار کردیا تھا،کام کرنے میں ان کا بھی کوئی ثانی نہیں انتہائی ملنساز اور اچھی شہرت کے حامل آفیسرز ہیں، امید ہے غلام محمود ڈوگر اور افضال احمد کوثر ریکارڈ کامیابیاں حاصل کرنے اور حکومت کے لیے گڈ گورننس کا باعث بنیں گے۔ ڈاکٹر معین مسعود جنہیں آرپی او فیصل آباد تعینات کیا گیا ہے وہ اس سے قبل سی پی او گوجرانوالہ اور آرپی او ساہیوال میں ایک کامیاب عرصہ گزار کر آئے ہیں، کرائم کنٹرول کرنے میں انہیں مالہ حاصل ہے اسی لیے انہیں ان بڑے شہر میں بھجوایا گیا ہے۔سی ٹی ڈی کے تعینات ہونیوالے نئے سربراہ ڈی آئی جی عمران محمود آرپی او بہاول پوراورفیصل آباد میں کامیابی کے ساتھ وقت گزار چکے ہیں ان کے معیاری کام اور بہترین پولسینگ کی وجہ سے انہیں پولیس کے سب سے اہم شعبہ کا سربراہ بنایا گیا ہے،ڈی آئی جی اظہر اکرم جنہیں سپیشل برانچ سے تبدیل کرکے آرپی او سرگودھا لگایا گیا ہے وہ کچھ عرصہ قبل جب غلام محمود ڈوگر بطور آرپی او فیصل آباد تعینات تھے ان کے ساتھ بطور سی پی او فیصل آباد ایک کامیاب اننگز کے طور پر جانے جاتے ہیں بعد ازاں انہیں یہاں سے تبدیل کرکے بلوچستان بھجوادیا گیا جہاں انہیں بطور سی سی پی او کوئٹہ کام کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے نئے تعینات ہونے والے سی پی او گوجرانوالہ ایس ایس پی عمر سلامت کو رحیم یار خان اور گجرات جیسے بڑے اضلاع میں بطور ڈی پی او بہتر کام کرنے کی وجہ سے ایک بڑی تعیناتی دی گئی ہے گوجرانوالہ جیسے بڑے شہر میں امن و امان میں بہتری لانا ان کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔سی ٹی ڈی سے تبدیل ہونے والے وسیم احمد سیال پی ٹی آئی کے دور میں ہی بطور آرپی اوملتان کام کرچکے ہیں اور پی ٹی آئی کی حکومت نے ہی انہیں وہاں سے تبدیل کرکے سی ٹی ڈی بھجوایا تھا،تعلق اور شہرت میں یہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں البتہ آجکل سابق وزیر اعظم عمران خان ان سے ناراض ہیں اور کچھ دوست دوبارہ صلح کے لیے متحرک بھی ہیں امید ہے کہ یہ بھی بہت جلد اہم عہدے پر تعیناتی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں