26

  پنجاب میں تبدیلی



 لگتا تو یہی ہے کہ حکمران اتحاد کو پنجاب میں تبدیلی ہضم نہیں ہوئی۔ بالکل اسی طرح جیسے تحریک انصاف کو مرکز میں تبدیلی ابھی تک ہضم نہیں ہو رہی تاہم جو سامنے کی حقیقت ہے اسے تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے  اس بات کو تو ماننا پڑے گا کہ عمران خان نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد مجھے کیوں نکالا جیسی مہم نہیں چلائی بلکہ بڑی زوردار تحریک چلا کر اپنی مقبولیت کے گراف کو آسمان تک پہنچا دیا۔ آج وہ ایک ہارے ہوئے نہیں جیتے ہوئے انسان کی حیثیت سے میدان میں موجود ہیں، سیاست کو جتنا اچھے طریقے سے عمران خان نے سمجھا ہے جو عرصہ دراز تک اقتدار میں رہے ہیں وہ شاید اتنا نہیں سمجھ سکے۔ آصف علی زرداری کی بات بہت کی جاتی ہے کہ وہ سیاست کے بادشاہ ہیں مگر موجودہ سیاسی منظر نامے میں عمران خان سے زیادہ کوئی ٹھیک ٹھیک نشانے لگانے والا نظر نہیں آتا۔ آصف علی زرداری کے مقاصد شاید کچھ اور ہوں، انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں غالباً ٹھکانے لگانے کا کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب تک کی حکومتی کارکردگی نے ایک طرف عمران خان کو مقبولیت کے ساتویں آسمان پر پہنچایا ہے اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کو خاص طور پر عدم مقبولیت کی کھائی میں اتار دیا ہے اب وہ ایک ایسی صورت حال میں پھنسی ہوئی ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی کیفیت ہے، جان چھڑائے تو ہاتھ کچھ نہیں آتا، حکومت میں رہے تو ہر نیا دن مقبولیت کا گراف نیچے گرا رہا ہے۔ دو دن پہلے عمران خان نے ٹی وی پر جو خطاب کیا وہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ اس میں انہوں نے اپنے لہجے کو تبدیل کیا۔ سختی اور جلی کٹی باتوں کی بجائے ایک ٹھہراؤ کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا، یہ ٹھہراؤ غالباً ان کے لہجے میں اس لئے آیا کہ انہیں پنجاب واپس مل گیا دو صوبوں میں اب ان کی حکومت ہے، صدر ان کا ہے۔ چاہیں تو قومی اسمبلی میں آکر حکومت کے لئے ایک مستقل خطرہ بن سکتے ہیں گویا اب ان کا ہاتھ اس نظام کے اوپر ہے نیچے نہیں۔

دوسری طرف حکمران اتحاد ہے، جسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اس کی ساری توپوں کا رخ عدلیہ کی طرف ہے۔ یہ اتنی بڑی حماقت ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اپنی بُری کارکردگی پر توجہ دینے کی بجائے عدلیہ کو نشانے پر لینا کیا فائدہ دے سکتا ہے پھر ہدف تو تحریک انصاف ہونی چاہیے جس سے انتخابی میدان میں مقابلہ ہونا ہے، اس  کی بجائے فیصلے کو لے کر بیٹھ جانا اور لکیر کو پیٹتے رہنا رہی سہی کسر بھی نکال دے گا۔ مسلم لیگ (ن) کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہئے کہ وہ حکومت میں ہونے کے باوجود پنجاب کے عوام کو مطمئن نہیں کر سکی، ضمنی انتخابات میں کھلی شکست اس بات کا اظہار ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہے یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں، ایک طرف 179 اور دوسری طرف 186 ووٹ ہیں، اب تکنیکی بنیادوں پر ایک خط کے ذریعے شکست کو فتح میں بدلنے کی جو کوشش کی گئی وہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ سپریم کورٹ میں حکومت کے وکلاء اپنا موقف ثابت ہی نہیں کر سکے بلکہ لڑتے رہے یہ اتنی بڑی بے وقوفی ہے کہ کسی کملے سے بھی سرزد نہیں ہو سکتی، ملک کی سب سے بڑی عدالت کو دباؤ میں لا کر کیا فیصلہ اپنے حق میں لیا جا سکتا ہے؟ ایسا سوچنا بھی حماقت کے زمرے میں آتا ہے پھر جس طرح شکست کو سامنے دیکھ کر فل کورٹ بنچ بنانے کا راگ درباری مشترکہ طور پر الاپا گیا وہ اپنی جگہ بذاتِ خود ایک جاہلانہ طرزِ عمل کے مترادف تھا۔ جب سپریم کورٹ نے اس حوالے سے دائر درخواستیں مسترد کر دی تھیں تو اس فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہئے تھا، اس کی بجائے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اجلاس بلا کر اس فیصلے کی کھلے الفاظ میں مذمت کی گئی اور ساتھ ہی کیس کی سماعت کا بائیکاٹ بھی کر دیا گیا یہ بھی اپنی نوعیت کا واحد فیصلہ ہے کہ سپریم کورٹ کا بائیکاٹ ہی کر دیا جائے، کیا ایسی باتوں سے ملک کی سپریم عدالت کو متاثر ہونا چاہئے پھر تو ہر درخواست گزار یہی راستہ اختیار کرے اور پسند کا فیصلہ نہ آنے پر عدالت کا بائیکاٹ کر دے۔

ہم نے تو آج تک یہی دیکھا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر اعتراض کے باوجود انہیں تسلیم کیا جا رہا ہے، عدالت کا بائیکاٹ کرنے کی نظیر پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے پھر قابل غور بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانے کی درخواستیں روکی تھیں ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس کا فیصلہ ابھی نہیں سنایا تھا، کیا حکومتی اتحاد اور وکلاء کو یہ الہام ہو گیا تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف آئے گا؟ ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب کسی کو یقین ہو کہ اس کا موقف کمزور ہے، دلیل نازک ہے اور کیس میں جان نہیں، اس لئے فیصلہ حق میں آ ہی نہیں سکتا، پھر میدان سے بھاگنے کا آپشن استعمال کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی اس حوالے سے تعریف کی جانی چاہئے کہ اس کے معزز جج صاحبان سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم اور حکومتی اتحاد کی دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوئے اگر وہ متاثر ہو جاتے تو ملک میں ایک اور طرح کی انارکی پھیل جانی تھی پھر سپریم کورٹ اپنا اختیار اور وقار کھو دیتی اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظریہ عام ہو جاتا۔ سپریم کورٹ نے ایک بھرپور اور دو ٹوک فیصلہ دیا صوبے کو بحران سے نکالنے کے لئے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی جس کا فائدہ اٹھا کر حکومت معاملے کو طول دے سکتی فیصلے کا نفاذ اسی وقت کیا گیا اور ساتھ ہی وزیراعلیٰ سے حلف لینے کا حکم بھی جاری کیا گیا۔ خدشہ یہی تھا کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمن ماضی قریب کی تاریخ دہراتے ہوئے شاید حلف نہ لیں، اس لئے اس کا علاج بھی فیصلے میں تجویز کر دیا گیا کہ ایسی صورت میں صدر مملکت وزیراعلیٰ سے حلف لیں۔ یوں راتوں رات یہ معاملہ نمٹ گیا اور پنجاب میں اقتدار کی تبدیلی آ گئی۔

اب میرے نزدیک یہ باتیں کھسیانی بلی کھمبانوچے کے مترادف ہیں کہ پنجاب میں گورنر راج لگا دیا جائے گا یا مولانا فضل الرحمن کہہ رہے ہیں کہ ایک ہفتے میں تبدیلی آ جائے گی جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ چودھری شجاعت حسین اپنے دس ارکان کی نااہلی کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس بھیج سکتے ہیں تو یہ اس لئے کارگر ثابت نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی نے اپنے ارکان کو ہدایت دی تھی کہ ووٹ چودھری پرویز الٰہی کو دینا ہے۔ پارٹی سربراہ صرف اس صورت میں ریفرنس بھیج سکتا ہے جب پارلیمانی پارٹی اسے رپورٹ کرے کہہدایت کے باوجود ارکان نے ووٹ مخالف امیدوار کے حق میں کاسٹ کیا ہے۔ پنجاب میں تبدیلی کا تحریک انصاف کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسے مثالی صوبہ بنانے کے لئے توجہ دینی چاہیے۔ بزدار حکومت کے دور میں صوبہ پنجاب بُری گورننس کا شکار رہا ہے، اس حقیقت کو عمران خان بھی تسلیم کر لیں تو بہتر ہے۔ چودھری پرویز الٰہی میں صلاحیتیں موجود ہیں انہوں نے اگر ایک اچھی ٹیم کے ساتھ پنجاب کو چلایا تو عوام کو یقینا تبدیلی محسوس ہو گی۔ اس پورے سیاسی نظام کو عمر اب زیادہ نہیں رہ گئی تاہم جتنا عرصہ بھی ملا ہے اس میں تحریک انصاف کو اپنی ان خامیوں کا ازالہ کرنا چاہیے جو پنجاب میں ساڑھے تین سالہ دور میں حوکمت کی ناقص کارکردگی کا باعث بنیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں