31

  پاکستان دوراہے پر اور سیاسی قیادت کی انا عروج پر



  پاکستان دوراہے پر اور سیاسی قیادت کی انا عروج پر

 اس وقت وطن عزیز کے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک دوراہے پر کھڑا ہے، ایک طرف اس 23 کروڑ آبادی والے ایٹمی ملک کے سامنے دیوالیہ ہونے کا راستہ ہے تو دوسری طرف ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے بیگانی بیساکھیوں کے بغیر پاؤں پر کھڑا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ابھی تک کی ہماری سیاسی قیادت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اور پہلے راستے کی طرف دھکیلنے والی ہے لیکن ابھی وقت ہے ہماری سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے، اپنی اپنی انا، ضد اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک قدم سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف بڑھا یا جائے۔اس کے لیے دیوالیہ پن سے بچنے اور معاشی صورتحال کو سنبھالنے کا ایک مکمل پروگرام ترتیب دے کر تمام سٹیک ہولڈر کو اس پروگرام پر مکالمہ کی دعوت دی جانی چاہیے۔ معاشی ایجنڈے کو باقی تمام معاملات پر ترجیح دی جائے اور تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ایجنڈے کی کامیابی کے لیے مل کر فیصلے  کئے جائیں۔یہ بات جان لینی چاہیے کہ فرد ہو یا خاندان کوئی ادارہ ہو یا ملک جب وہ اس طرح قرضوں میں جکڑا جائے اور اس کی معاشی حالت ابتر ہو جائے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اخراجات میں کمی لائے اور آمدن میں اضافہ کرے اور یہ دونوں کام کرنے کے لیے محنت قربانی اور ایثار کی ضرورت ہوتی ہے] اگر خاندان ہو تو اس کے تمام افراد کو ان حالات سے نکلنے کے لیے تعاون کرنا ہوتا ہے، اسی طرح ملک کی تمام اکائیوں، اداروں اور سیاسی قیادت کو بھی اس کے لیے قربانی دینا پڑتی ہے۔ دنیا کے جن ممالک نے ترقی کی ہے بالخصوص ماضی قریب میں ترقی کرنے والے ممالک برازیل، ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا اور کئی افریقی ممالک کی مثال دیکھی جا سکتی ہے کہ کس طرح سے یہ ممالک انتہائی نامساعد حالات کا سامنا کرنے کے بعد اپنے پاوں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔

اب پاکستان کے پاس بھی یہی راستہ ہے کہ اپنے اخراجات میں بہت زیادہ کمی لائے اور اپنی آمدن میں اضافہ کرے، پیدواری شعبے میں سرمایہ کاری کر کے اپنی برآمدات کو بڑھائے] اپنی آمدن بڑھانے کا بڑا ذریعہ ٹیکس وصولی ہے جس میں پاکستان ابھی تک ناکام رہا ہے] اسی طرح ہمارے ملک میں وسائل ہونے کے باوجود پیدواری شعبے کو ترقی نہیں دی جا سکی، حکومت پاکستان کا ٹیکس وصولی کی طرف ایک اہم قدم ہے  جس کو سراہا جانا چاہیے!!

یہ ناچیز پچھلی دو دہائیوں سے یہ کہتا آ رہا ہے کہ ہمارے ملک میں ٹیکس وصول کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ تمام کاروباری لوگوں، زمینداروں اور صنعت کاروں کی آمدن کا تخمینہ لگا کر اس پر مخصوص شرح(Fix) سے ٹیکس لگایا جائے اور وہ کاروباری حضراتتین یا چار اقساط میں خود ہی جمع کروا دیا کریں، اس طرح نہ ان کو محکمے کے لوگ تنگ کریں گے، نہ رشوت دینا پڑے گی اور ٹیکس وصولی کے اخراجات بھی 75 فیصد تک کم ہو سکیں گے۔ عمران خان کی حکومت نے چھوٹے کاروباری لوگوں پر یہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہ ہو سکے، البتہ انہوں نے اس بابت اور کئی اچھے کام کر دکھائے جس سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوا۔ اب موجودہ حکومت نے ایک بار پھر عمران خان والے پروگرام پر عملدرآمد کی کوشش شروع کر دیا ہے اور امید ہے کہ یہ کامیاب ہو جائیں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ سارا کام دیانتداری سے کیا جائے اور کاروباری لوگ بھی حکومت سے تعاون کریں اور اگر اس سکیم میں کاروباری حضرات کے لیے کوئی فائدہ بھی متعارف کروایا جائے،

مثال کے طور پر بیماری یا کاروبار کو کسی حادثہ کی صورت میں ان کو کچھ معاوضہ مل سکے تو یہ پروگرام کامیاب ہو سکتا ہے۔ آگے چل کر درمیانے درجے اور بڑے کاروباری اداروں پر بھی یہی نظام نافذ کیا جانا چاہیے کیونکہ ہمارے ملک میں اپنی ایمانداری سے کوئی اپنی آمدن درست بتاتا ہے نہ پورا ٹیکس دیتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ٹیکس دینے والے لوگ 85 فیصد ٹیکس چوری کرتے ہیں اور منی لانڈرنگ کے ذریعے وہی دولت واپس اپنے پاس لے آتے ہیں اور کم از کم 20 فیصد ایسے لوگ ہیں جن پر ٹیکس لگتا ہے مگر وہ ٹیکس نظام میں رجسٹر ہی نہیں ہیں، اب اگر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا اور پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو پھر ہمیں سب سے پہلے ٹیکس کے نظام کو درست کرنا ہوگا اور اپنی پیدوار میں اضافہ کر کے برآمدات کو بڑھانا ہوگا،سننے میں  آ ریا ہے کہ اس وقت افراط زر بے قابو ہو کر 40 فیصد تک پہنچا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہماری کرنسی بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے،افراط زر کو بھی ٹیکس وصولیوں اور پیداوار کو بڑھا کر ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ہماری حکومت کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہیجس کے لیے زرعی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اصلاحات کی جائیں اور ملک سے بے اعتباری کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں، یہ سب ممکن ہے بشرطیکہ حکمران مخلص اور ایماندار ہوں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں