36

 پاکستانی فوجی بھرتی میں اگنی پتھ کا تجربہ



 پاکستانی فوجی بھرتی میں اگنی پتھ کا تجربہ

 آج کل ہندوستان کے  تین بڑے صوبوں بہار، اُتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں بڑے پیمانے پر گھیراؤ جلاؤ ہو رہا ہے۔اس شدید بدامنی کا کارن انڈین فوج میں نوجوان سپاہیوں (Soldiers) کی بھرتی کے لیے ایک سکیم کا نفاذ ہے اس سکیم کے مطابق 17½ سال سے 22 سال کی عمر کے میٹرک FA/ پاس 40 ہزار نوجوانوں کی ہر سال فوج کے مختلف شعبوں میں چار سال کے لیے بھرتی کی جائے گیا،انہیں مختلف شعبوں بشمول لڑاکا فوج کی تربیت دے کر اُنہیں چار سال کی نوکری کے بعد گھر واپس بھیج دیا جائے گا اِن نوجوانوں کو فوجی ملازمت کے دوران فوج کے مختلف شعبوں میں ٹریننگ دی جائے گی۔ لڑاکا فوج کے لئے جو  نوجوان موزوں ہوں گے اُنہیں جدید ہتھیاروں کی تربیت دی جائے گی اور وہ باقائدہ کسی بھی لڑائی کے محاذ پر تعینات ہو سکیں گے، اُن میں سے 25 فیصد جو قابل ترین سپاہی ہوں گے اُنہیں Regular فوج میں شامل کر لیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ 30-35 سال فوج کی مزید ملازمت کر سکیں گے اِن ہی 25 فیصد قابل لڑکوں میں سے فوجی کمیشن کے لیے اہل سپاہی منتخب  ہو سکیں گے۔ اگنی پتھ کا مطلب ہے آگ کا راستہ۔ اگنی پتھ میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو اگنی وئیر کے نام سے پکارا جائے گا جو لڑکے  چار سال کی مدّت کے بعد واپس گھر چلے جائیں گے اُنہیں حکومت 11 ½لاکھ روپے Gratuity دے گی اور جس ٹریڈ (شعبے)کی اُس نے تربیت لی ہو گی اُس کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا ایسے سابقہ فوجی جوانوں کو پولیس کی نوکری کے لیے ترجیح دی جائے گی، اس سکیم کا فوج یا حکومت کو یہ فائدہ ہے کہ اُس پر Pensionکا بوجھ نہیں پڑے گا  علاج معالجے کی سہولیات بھی CMH کے ذریعے میسر نہیں ہوں گی۔ ملک کو Skilled نوجوانوں کی سپلائی ہر سال ملتی رہے گی جو 25 فیصدنوجوان فوج میں Retain کر لیے جائیں گے،اُن کی وجہ سے اگلے 30 سال میں اِنڈین فوج کی 13لاکھ نفری کی اوسط عمر 34 سال سے کم ہو کر 28 سال ہو جائے گی یعنی ہندوستان کی فوج کا چہرہ زیادہ جوان ہوگا۔ 

ہندوستان کے جن صوبوں سے فوج میں زیادہ بھرتی ہوتی ہے وہ ہیں اُتر پردیش(ہندوستان کا سب سے بڑا صوبہ، آبادی 22 کروڑ)،بہار (آبادی 10کروڑ)،مدھیہ پردیش(آبادی 8½ کروڑ)،ہریانہ (آبادی 3 کروڑ)۔ راجستھان8کروڑ،، مہاراشٹر 12 ½کروڑ۔ ہندوستان کی قریباً 45% آبادی کے اِن صوبوں کو Cow belt کہا جاتا ہے یعنی یہاں کی ہندو آبادی نہ صرف یہ کہ گائے کی پوجا کرتی ہے بلکہ اِن صوبوں کے ہندو ذات پات کے شدید تعصب میں مبتلا ہیں اِن ہی علاقوں میں مسلم کش بلوے زیادہ ہوتے ہیں۔ 

کیا آپ یقین کریں گے کہ اس اچھے منصوبے کی سخت مخالفت اس ذات پات میں ملوث علاقے (Cow belt) میں زیادہ ہو رہی ہے، اُونچی ذات کے ہندو کبھی یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ایک دِلت یا شودر نوجوان فوج کی 4-5 سالہ نوکری کرنے کے بعد جب واپس آئے تو وہ اپنی نیچ حیثیت بھول کر اُونچی ذات والے ہندو کے ساتھ کندھا مِلا ئے۔ 

مخالفت کی دوسری وجہ معاشی ہے پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی بے روزگاری ہے جن ملکوں میں معاشی پسماندگی ہوتی ہے وہاں سوِل کی ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے ہیں، ایسے ملکوں میں فوج کی نوکری  پسندیدہ ترین ہوتی ہے۔ یورپ، امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک جہاں صنعت و حرفت اور خدمات کے شعبوں (Service industry)میں ملازمتیں آسانی سے مل جاتی ہیں وہاں فوج میں بھرتی کے لیے نوجوان بہت کم تیار ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ وہاں 3 سال یا 5 سالہ جبری فوجی نوکری کا قانون موجود ہے۔ انڈیا، پاکستان اور ایران وغیرہ میں فوجی ملازمت رضا کارانہ  ہوتی ہے یعنی نوجوان اپنی خوشی سے فوج کے پیشے کو اپناتے ہیں۔ 

ہندوستان کی فوج کے بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ Pension اور دیگرمراعات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ بھارت  میں صحت کا معیار پچھلے 100 سال میں بہتر ہو جانے کی وجہ سے فوجی Pensioners کی زندگی کی طوالت کی اوسط 72 سال ہے۔ جب کہ عام ہندوستانی کی اوسط عمر 69 سال ہے۔ ہندوستان کے اگنی پتھ منصوبے کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم پاکستان کے حالات کو دیکھیں تو یہ منصوبہ ہمارے ہاں زیادہ کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔ جس طرح فوج میں خاص طور پر پاکستان ائیر فورس میں شارٹ سروس کمیشن ہوتا تھا بلکہ میرے زمانے (1952-1960) کی ائیر فورس میں ٹیکنیکل ائیر مین کی ملازمت کا بونڈ 9 سال کا ہوتا تھا لیکن ائیرمین کی مرضی سے 15 سال تک بلکہ 30 سال تک کی سروس تک بڑھایا جا سکتا تھا 9 سال کی ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ پر صرف Gratuity ملتی تھی، پنشن یا میڈیکل کی سہولت بالکل نہیں تھی۔

اگر ہم اس منصوبے کا نام Learn while you serve (سیکھو بھی اور کماؤ بھی) رکھ دیں یا اس سے بھی بہتر نام (خدمت اور تربیت)کو اپنالیں تو مجھے یقین ہے یہ منصوبہ پاکستان میں ضرور کامیاب ہوگا۔ سب سے بڑی وجہ یہ کہ ہمارے ملک میں ذات پات کی لعنت اس طرح نہیں ہے جس طرح ہندوستان میں ہے۔ ہندوستان میں تو دِلت لڑکے کو فوج کا کمیشن بھی کم ملتا ہے اور اگر مل بھی جائے تو چھوٹی ذات کے آفیسر کو میجر سے اوپر نہیں جانے دیا جاتا۔ دنیا کی کسی بھی ترقی یافتہ فوج میں درجنوں ٹیکنیکل شعبے ہوتے ہیں جو Non combatہوتے ہیں۔ فوج کا اِدارہ اپنے نئے بھرتی شدہ جوانوں کی فوجی ٹریننگ اور فنی تربیت کا اِنتظام خود ہی کرتا ہے۔ مثلاً جہاں اُنہیں پریڈ، چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال اور جسمانی Fitness کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں اُنہیں Skills میں مہارت بھی مہیا کی جاتی ہے۔ الیکٹریشن کے مختلف شعبے جس میں موٹر مکینک، ائیرکنڈشنگ، خراد کا کام،انسٹرومکینک، ریڈیو اور ٹیلی ویژن فٹرز، ہیوی ڈیوٹی ڈرائیونگ، کرین آپریٹر، کیٹرنگ،کولنگ، سیکورٹی، لانڈری، بڑھئی، لوہار، ٹرکوں اور چھوٹی گاڑیوں کی ڈینٹنگ اورپینٹنگ کے شعبوں کی تربیت اور تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ووکیشنل ٹریننگ کا ایک شعبہ TEVTA کے نام سے پاکستان کے ہر صوبے میں بطور ایک خودمختار اِدارے کا کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ Skill Department کے کئی اِدارے فیڈرل حکومت بھی چلا رہی ہے۔ پولی ٹیکنیکل سکول ہرضلع میں موجود ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر صوبائی اور وفاقی حکومتیں نوجوانوں کو ہنر سیکھانے کے لیے سالانہ 521 ارب روپے خرچ کرتی ہیں۔ اگر ہماری فوج سائنس کے ساتھ میٹرک پاس 30,000 نوجوانوں کو ہر سال بھرتی کرے اور اُنہیں فوج کی ضروریات کے مطابق آرمی ائیر فورس اور نیوی میں لڑاکا اور غیر لڑاکا تربیت دے کر 4یا 5سال تک خدمات لی جائیں اور اُنہیں فوج کی Short term ملازمت سے فارغ کرتے وقت 15 لاکھ یک مشت ادائیگی کر دی جائے تاکہ باہر جا کر وہ اپنی سیکھی ہوئی ٹریڈ میں اپنا کام کاج شروع کر سکیں جن لڑکوں کو Combat کی تربیت دی جائے اُنہیں اُنکی کارکردگی کے مطابق ریگولر فوجی ملازمت میں پکا کر دیا جائے۔ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں