41

 ٹرانس جینڈر ایکٹ کا غلط استعمال  



 ٹرانس جینڈر ایکٹ کا غلط استعمال  

 پاکستان کی پارلیمنٹ میں آج سے چار سال قبل ٹرانس جینڈر پرسنز پروٹیکشن آف رائٹس نامی بل منظور کیا گیا تھا۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ بنیادی طور پر تیسری جنس سے تعلق رکھنے والوں کو اپنی جنس کا انتخاب اور اس شناخت کو سرکاری دستاویزات بشمول قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس میں تسلیم کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ خواجہ سراؤں کے سکولوں، کام کی جگہ، نقل و حمل کے عوامی طریقوں اور طبی دیکھ بھال حاصل کرنے کے دوران امتیازی سلوک سے منع کرتا ہے اور اس کے علاوہ یہ قانون مخنث افراد کو ووٹ دینے یا کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا حق  دینے، اور ان کی منتخب جنس کے مطابق وراثت میں ان کے حقوق کا تعین کرنے اور حکومت کو جیلوں یا حوالاتوں میں مخنث افراد کے لیے مخصوص جگہیں اور پروٹیکشن سینٹرز اور سیف ہاؤسز قائم کرنے کا پابند بناتا ہے۔2018میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے اس بل کے تحت خواجہ سرا افراد کو ڈرائیونگ لائسنس بنوانے اور ہراسانی سے تحفظ کی سہولت ملے اور ان سے بھیک منگوانے والوں پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی متعین کی گئی۔انگریزی میں ٹرانس جینڈر بنیادی طور پر ان افراد کو کہا جاتا ہے جو نا تو مرد ہوتے ہیں اور نہ ہی خواتین جنہیں ہم اردو میں خواجہ سرا یا مخنث کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کی تخلیق ہیں لیکن کچھ لوگ ٹرانس جینڈرز کی آڑ میں اس قانون کے ذریعے پاکستان میں ہم جنس پرستی کا فروغ چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک کی طرح ہو جائے جہاں مرد مرد سے شادی کر رہے ہیں، عورتیں عورتوں کو پسند کر رہی ہیں۔ اب ہو کیا رہا ہے کہ لبرل مافیا اس قانون اور خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے۔

لبرل مافیا کو اگر خواجہ سراؤں کا اتنا ہی درد ہوتا تو آج یہ لبرل مافیاز جو بیرونی امداد کے بل پر پل رہے ہیں ان خواجہ سراؤں کو جو سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں یا گھروں میں شادی بیاہ کے مواقع پر ناچ کر اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں، انہیں کوئی با عزت روزگار کیوں نہیں دلاتے؟ اب یہ بل کیوں زیر بحث ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بل کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور نہ ہی تب ہمارے ایوانوں میں موجود اراکین پارلیمنٹ کو اس بات کی سمجھ آئی اس بل میں ایک شق ہے کہ جنس کی تبدیلی کا اختیار خود فرد کو دے دیا گیا اس میں خواجہ سرا کی بھی کوئی قید نہیں رکھی گئی یعنی اب کوئی بھی چاہے وہ مرد ہے اور بغیر کسی طبی وجہ کے وہ اپنی جنس تبدیل کرانا چاہتا ہے تو وہ جنس تبدیل کرا سکتا ہے اور قانونی طور پر عورت بن کر اپنی زندگی گزار سکتا ہے اور اسی طرح اگر کوئی عورت ہے تو اسے بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی جنس تبدیل کرا سکتی ہے۔ کیوں کہ یہ بل تو خواجہ سراؤں کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھاانہیں اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جس جنس کو چاہے اختیار کر سکتے ہیں لیکن جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس بل میں جو ترمیم سینیٹ میں پیش کی ہے اس کے مطابق اس کا غلط استعمال کیا گیا ہے اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے سینیٹ کو بتایا  کہ 2018کے بعد سے تین برسوں میں نادرا کو جنس تبدیلی کی قریباً 29ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے15154عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی جبکہ 16530مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی اور خواجہ سراؤں کی مجموعی طور پر 30درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 21نے مرد کے طور پر اور 9نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست کی۔

یعنی جو بل خواجہ سراؤں کے تحفظ کیلئے پیش کیا گیا تھا تا کہ معاشرے میں ان کی جو تذلیل کی جا رہی ہے اس کا مدوا ہو سکے اب اس کا مغربی مافیا کے در پردہ اور مغرب سے متاثرہ افراد کی جانب سے غلط استعمال شروع کر دیا گیا ہے تا کہ معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دے کر مغرب کا ایجنڈہ پاکستان میں پھیلایا جا سکے۔ مغربی معاشرے میں تو ہم جنس پرست افراد کو تحفظ حاصل ہے اور پاکستان چونکہ ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے تو یہاں ایسے مغرب کے دلدادہ افراد کو کھل کر کھیلنے کا موقع میسر نہ تھا تو انہوں  نے 2018 میں پاس ہونے والے اس ایکٹ کی آڑ لی جس کی جانب جماعت اسلامی کے سینیٹر نے توجہ دلائی ہے۔ یہ صرف جماعت اسلامی کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اس وقت پورے ملک میں موجود مذہبی و سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بل میں موجود سقم کو دور کریں تا کہ مغرب کی اس بد تہذیبی کا حیا پاکستان میں روکا جا سکے۔ اس پر ایوان میں موجود جماعتوں کو اس پر غور کرنا چاہئے(جنس کی تبدیلی کی جو آزادی دی گئی ہے) اور اس کو صرف مخنث یا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہی مخصوص کرنا چاہئے یا اس پر میڈیکل بورڈ کی رائے پر عمل کرنا چاہئے اور اس شق کے تحت جو مادر پدر آزادی دی گئی ہے اس پر پابندی لگانی چاہئے تا کہ پاکستانی معاشرے میں بے راہ روی پھیلانے  والوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا جا سکے۔کیوں کہ مغرب کی پروردہ نام نہاد ٹرانس جینڈر تنظیمیں یوں تو پاکستان جیسے مذہبی ملک میں اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری نہیں کر سکتیں لیکن اس قانون نے انہیں یہ آڑ مہیا کی ہے جس پرفی الفور پارلیمنٹ میں ترمیم ہونی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں