30

 محرم الحرام اور ہمارا فرض 



 محرم الحرام اور ہمارا فرض 

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔محرم الحرام کا مہینہ ان چار مہینوں میں شامل ہے جن کی حرمت واجب ہے اور اس ماہ میں جنگ کرنا، کسی کو ایذا دینا یا کسی کیخلاف جنگ میں شریک ہونا منع فرمایا گیا ہے۔اس مہینے کی جہاں حرمت ہے وہاں یہ مہینہ شہادتوں کا بھی ہے کہ اسی مہینے کے آغاز میں یکم محرم الحرام کو خلیفہ ثانی، مراد رسول ؐ، فاتح فلسطین  جناب حضرت عمر فاروق   ؓکا یوم شہادت بھی ہے جب انہیں ایک مجوسی غلام نے خنجر کے وار کر کے شہید کر دیا تھا۔ اسی مہینہ دس محرم الحرام کو نواسہ رسول ؐ جناب حضرت امام حسینؓ  کو بھی مظلومانہ شہید کیا گیا اور ان کے ساتھ ان کے خانوادے کو بھی بنو امیہ کے دورمیں ان کے ساتھ شہید کر کے اسلام میں فرقہ واریت کا ایسا بیج بویا گیا کہ جو آج تک بند ہونے کا نام نہیں لے رہاکیونکہ ان عظیم ہستیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں تو فرزندان اسلام کو ایک سبق دیا ہے کہ عظیم مقصد کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے

اور بنا قربانی دیئے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوتا اگر ہم اسلامی تاریخ کی ان دو شخصیات کا اور ان کی زندگی کا بغور مطالعہ کریں تو ایک بات تو بڑی واضح ہوتی ہے کہ ان کی قربانیوں کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ اگر ہم اپنی ذاتی زندگی میں کوئی عظیم مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر اپنی ذاتی خواہشات کو عظیم مقاصد کے حصول کے لیے قربان کرنا ہی ہو گا اور قربانی کے بغیر کوئی بھی مقصد حاصل کرنا نا ممکن ہے یہی ان دوشخصیات کی زندگیوں کا نچوڑ ہے۔ کیوں کہ اسلام کے مخالف اور اسلام میں فرقہ واریت کو بیج بونے والے تو یہی چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے دست و گریبان رہے لیکن آج پاکستان جس طرح مشکل حالات سے دوچار ہے اور بیرونی و اندرونی شیطانی طاقتوں نے جس طرح پاکستان کو شکنجے میں گھیرا ہوا ہے تو محرم الحرام کا مہینہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم بطور مسلمان اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناتے امت میں انتشار پیدا کرنے والی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہو جائیں۔ محرم الحرام کا مہینہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں اور ایک دوسرے کی قربانیوں کی قدر کریں، کسی کو تنقید کا نشانہ صرف اس کے فرقہ کی بنیاد پر نہ بنائیں یا کسی کو اس کے نظریات کی بنا پر معاشرے سے کاٹنے کی کوشش نہ کریں۔

پھر اس مہینے میں کچھ فرقہ پرست عناصر کی ایک عرصے سے کوشش رہی ہے کہ اس مہینے کا استعمال کر کے مسلمانوں میں اختلاف کو نمایاں کیا جائے اور بڑھاوا دیا جائے اور یہ عناصر اپنی کوششوں میں کبھی کامیاب ہوتے ہیں تو کبھی ناکام ہوتے ہیں لیکن بطور پاکستانی شہری اور مسلمان ہونے کے ہمارا بھی فرض ہے کہ اس طرح کے فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ شکنی کریں ان کی سوچ کی بیخ کنی کریں تا کہ جو لوگ اپنی سوچ اور اپنے نظریے کو طاقت کے زور پر کسی پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا راستہ روکا جا سکے، صلہ رحمی کو فروغ دیں، ایک دوسرے کو کافر کہنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کر یں اور دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو درست کریں کیونکہ اسلام تو امن کا دین ہے اور یہ عناصر اسلام میں تشدد کی ملاوٹ کر کے اسلام کی خدمت کرنے کی بجائے الٹا اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔پھر یہ عناصر مسلمانوں کو مسلمانوں کے ذریعے ہی کافر قرار دیتے ہیں نفرت کو فروغ دیتے ہیں ذہنوں میں نفرت کا بیج بوتے ہیں تا کہ اس مہینے میں اسلام کی جن عظیم شخصیات نے قربانی دی ہے ان کی قربانی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے ملک میں خون کی ندیاں بہائیں اور پاکستان کو امن کی راہ سے بد امنی کی راہ پر موڑ دیں، لیکن ان کے یہ پوشیدہ مقاصد ہم سب نے مل کر ناکام بنانے ہیں کیونکہ اگر ہم متحد ہوں گے تو یہ فرقہ پرست عناصر کھل کر سامنے نہیں آئیں گے اور ان کی دال گلنی مشکل ہو جائے گی۔

اس ضمن میں ریاست کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے عناصر کو چھوٹ  نہ دے کیونکہ کچھ ریاست کی ریاستی سستی اور لوگوں کی لا پرواہی کی وجہ سے ہی ماضی میں ایسے عناصر ملک میں قتل و غارت گری کا موجب بنے ہیں اور اب ریاست کی ذمہ داری دہری ہے کہ ملک میں امن لوٹ چکا ہے تو اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے عناصر کی سرکوبی بھی ضروری ہے۔ توہین صحابہ اور توہین مذہب کے قوانین کا استعمال  کر کے ایسے عناصر کو جو صحابہ پر دشنام طرازی کرکے لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں ان کو پابند سلاسل کر دیا جائے تا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے جو ملک میں امن ہے اس کی بہاریں قائم رہیں کیونکہ منبر و محراب سے جب فرقہ واریت کی بات ہو گی تو عام آدمی پر اس کا اثر ہو گا اس لیے ایسے عناصر کو منبر و محراب کا ستعمال کر کے فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں ان کو روکنا اور ان کو قرار واقعی سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسے عناصر کو کنٹرول کر کے اور احترام انسانیت کو فروغ دے کر ہی ہم پاکستان کو پر امن اور صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بنا سکتے ہیں جس کے لیے ہم سب کو مل جل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں