16

  لندن کے انگریزکہاں چلے گئے؟ 



  لندن کے انگریزکہاں چلے گئے؟ 

 کل الوداعی ملاقات کے لیے براڈکاسٹنگ ہاؤس کے پیدل سفر میں علی گڑھ یونیورسٹی میں شکیل بدایونی کے ساتھی اور معروف غزل گو راز مراد آبادی بہت یاد آئے۔1950 ء کے لگ بھگ ساجد علی خاں راز جب بی بی سی اردو سے وابستہ ہو کر لندن میں مقیم ہوئے تو لگتا ہی نہیں تھا کہ اُن پر اِس شہر کا اثر پڑا ہے۔ ہاں، ایک بار خود راز صاحب نے مبینہ طور پر اِسی اوکسفرڈ اسٹریٹ سے گزرتے ہوئے پان کی پِیک تھوک کر لندن پر اثر ڈالنے کی کوشش کی تو اِسے خون کی اُلٹی سمجھ کر پولیس نے واویلا مچا دیا تھا۔ راز مراد آبادی کو ذاتی حیثیت میں جاننے والے ہر شخص کو مرحوم کی شناخت کے دو حوالے بخوبی معلوم ہیں۔ اِسی لیے جب طویل علالت کے بعد اُن کی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تو بیگم راز نے فون کرنے والے سے بے ساختہ کہا: ”ماشااللہ آج تو پان بھی کھایا ہے اور گالی بھی دی ہے۔“

میری ابتدائی زندگی پنجاب کے مختلف شہروں یا اِسی صوبے کے گرد و نواح میں گزری ہے۔ وہ بھی ایسے دَور میں جب ہم ذہنی طور پر انگریز کے ’نیچے‘ لگے ہوئے تھے۔ مملکت سازی کے علاوہ تمدنی اور انسانی اچھائیاں بھی انگریز سے وابستہ سمجھی گئیں۔ اِتنا سوہنا، اِس قدر خوش لباس، وقت کا ایسا پابند جیسے انگریز۔ فوجی بھرتی کے علاقوں میں آزادی کے بعد بھی یہ اقوالِ زریں عام اکثر سُننے کو مِلتے کہ ایڈمنسٹریشن کر گیا تو انگریز۔ عجیب بات ہے کہ ہمت و کاوش کے علاوہ آرام طلبی کا معیار بھی گورا ہی تھا۔ اِسی کے زیر اثر، ایک بار واہ سے حسن ابدال جانے والی بس پر ایک میل سے ذرا کم فاصلہ طے کر کے مجھے نیچے اترنا پڑ گیا تو کنڈکٹر نے یہ کہہ کر چھیڑا تھا کہ ”بابو جی، اِتنے سفر کے لیے تو انگریز بھی بس میں نہیں بیٹھتے۔“ 

 تمدنی شعبے میں ایک بہت بڑا نفسیاتی کامپلیکس انگریزی بولنے اور لکھنے کا بھی ہے۔ ہمارے ایک سینئر جنہوں نے میتھ اور فزکس میں ایم ایس سی فرسٹ ڈویژن میں کر رکھی تھی، جب کبھی ملتے تو مکالمہ اِسی ایک جملے سے شروع ہوتا کہ ”بھائی جی، کیا کروں انگریزی نہیں آتی۔“ (انگریزی کی ر اور ز کے درمیان ے پہ خاص زور!) سچ یہ ہے کہ اپنے مضامین میں ایک پوری نسل سے اُنہوں نے تدریس کا لو ہا منوایا اور تین مختلف چھاؤنیوں میں وفاقی ڈگری کالجوں کے پرنسپل رہے۔ لیکن انگریزی کے شوق کا عالم یہ تھا دفتر میں روزنامہ ’پاکستان ٹائمز‘ کا اداریہ بار بار پڑھ کر سارا سارا دن اُس کا خلاصہ لکھنے کی کوشش کرتے رہتے اور گھر پہنچ کر اپنے بیٹے ٹیپو کی کتاب کے جملے رٹنے میں مصروف ہو جاتے۔ خیر، اُس وقت ٹیپو کوئی بچہ نہیں تھا، ماشا اللہ انگریزی میڈیم میں پانچویں کا امتحان دینے والا تھا۔ 

یہ تو ہوا وہ آدمی جس کی دانست میں صرف انگریزی میں مہارت کی بدولت افسر کے انتظامی رعب داب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ جن بزرگوں کا انگریزی سے کچھ لینا دینا ہی نہیں، اُنہیں اِس سے اتنی گہری عقیدت کیسے ہو گئی۔ ہمارے والد کے ایک پھوپھا، جو چٹے ان پڑھ تھے، عزیز و اقارب کے سامنے تعلیم حاصل نہ کر سکنے کا قصہ مزے لے لے کر سنایا کرتے۔ ”سارے شہر کے اسکول اور سارے شہر کی مسجدیں چھان ماریں، لیکن الف آیا تو ب نہیں آئی، اور اگر ب آئی تو الف بھول گیا۔“ مگر یہی پھوپھا جی اپنے تعلیم یافتہ منجھلے بیٹے کے لڑکپن کی کہانی بیان کرتے تو انداز فخریہ ہو جاتا: ”خدا زندگی دے محمد یعقوب کو، ایک دن گھر میں آپ ہی آپ انگریزی بول رہا تھا۔ ہمارے پڑوسی محمد دین ثاقب نے گلی سے گزرتے ہوئے سُنا تو کہا کہ اللہ چاہے، بڑا آدمی بنے گا۔“ ساری کہانی دلچسپ ہے، مگر اصل نکتہ ہے ”آپ ہی آپ انگریزی بول رہا تھا“۔ گویا انگریزی بولنا بھی دکان کھولنے یا مشین چلانے کی طرح ایک باقاعدہ کام ہوا اور پڑھا لکھا وہی تھا جو انگریزی بولتا رہے۔

وجہ یہی کہ ہماری اکثر سوچوں کا پس منظر انگریز کی برتری کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن مجھ پر ایک اہم سماجی حقیقت کا ادراک برطانیہ میں سالہا سال تک رہ کر ہوا۔ حقیقت یہ کہ روایتی انگلش جنٹل مین کا تصور نو آبادیات میں واقعی کچھ اور تھا اور خود جزائر برطانیہ میں اِس سے ہٹ کر۔ برطانیہ میں تو صنعتی انقلاب زمینوں کی مالک اشرافیہ کے لیے نکتہ ء زوال ثابت ہوا، جس کے بعد کی طبقہ بندی مڈل کلاس اور محنت کشوں کی باہمی تقسیم پر مبنی ہے۔ اِس آویزش کی جڑیں اور اُن کی عطا کردہ عصبیتیں گہری ہیں۔ اظہار کے پیرائے البتہ براہ راست بھی ہیں اور بالواسطہ بھی۔

اب سے پچیس تیس سال پہلے لندن میں سوشل سروے کے موضوع پر ایک کتاب نظر سے گزری تھی جسے ’ہدایت نامہء ریسرچر‘ کہنا چاہیے۔ آپ کا رہائشی علاقہ، گھر کے کمروں کی تعداد، بچے کمپر یہنسو میں ہیں، گرائمر اسکول یا نجی تعلیمی ادارے میں، پھر ہالیڈے کہاں کرتے ہیں، علاج معالجہ نیشنل ہیلتھ سروس سے سے ہے یا پرایؤیٹ میڈیکل انشورنس لے رکھی ہے۔ اِن سوالات کی روشنی میں یہ پتا چلانا مقصود تھا کہ آپ مڈل کلاس ہیں یا ورکنگ کلاس۔ آگے معاملہ اِس سے بھی باریک تر تھا کہ آپ کے متوسط طبقے کی اندرونی سطح کونسی ہے۔ اس لیے آپ کا شام کی تفریح کا کیا تصور ہے۔۔۔ ٹی وی، سنیما، تھیٹر یا اوپیرا؟ ریستوراں میں کھانے کے بعد ادائیگی کا طریق کار کیا ہے۔۔۔ نقد، چیک، عام بینک کارڈ یا امریکن ایکسپریس؟

اِس قسم کی ریسرچ مارکیٹنگ کے لیے ہوتی ہے، مگر اِس کی بدولت معلومات جمع کرنے والوں کا روزگار بھی چلتا رہتا ہے۔ چنانچہ جب ایک روز ایک عمر رسیدہ ریسرچر خاتون اسِی غرض سے ہمارے یہاں پہنچیں تو ہم میاں بیوی نے اُن کے لمبے چوڑے سوالنامے کے جوابات خوشدلی اور دیانتداری سے سے دیے۔ مثا ل کے طور پر ہمارا یہ جواب کہ ہر صبح قدرے بائیں بازو کے رجحان کے حامل روزنامہ گارڈین کا مطالعہ شوق سے کرتے ہیں، فنانشل ٹائمز کا نہیں جسے پڑھ پڑھ کر انسان کمپنی ڈائرکٹر بن جاتا ہے۔ اِسی طرح ہمارا ہالیڈے کا ’ہماتڑ‘ قسم کا تصور کہ جہاں جانے کو دل چاہا وہاں پیسے بچانے کے لیے کوئی رشتہ دار میزبان تلاش کر لیا۔ کیا خبر تھی کہ یہ سیدھے سادے جواب میرے پیشہ ورانہ رتبے کے منافی ہیں اور اِن سے ریسرچ کے مجموعی رجحانات میں گڑبڑ ہو جائے گی۔ خاتون نے پریشان ہو کر میرے جواب تو نہ کاٹے، البتہ نتائج کو سیدھا رکھنے کے لیے مجھ سے پوچھ کر میرا عہدہ پروگرام پروڈیوسر کی بجائے اسسٹنٹ پروڈیوسر لکھ دیا۔

ساحر لدھیانوی نے کہا تھا کہ ”نور ِ سرمایہ سے ہے روئے تمدن کی جلا“۔ اب برطانوی تمدن کی جلا کے لیے سرمایہ نو آبادیات سے نہیں بلکہ مشرق وسطی، مشرق بعید اور دیگر ممالک سے آ رہا ہے۔ مگر کیوں اور کیسے؟ یہ الگ ر موضوع ہوگا۔ تشویش تو یہ ہے کہ وسطی لندن کے جس فیشن ایبل علاقے میں ہم نے اِن دنوں ڈیرے ڈال رکھے ہیں وہاں ٹائی کوٹ والا انگلش جنٹلمین اب صرف خوردبین کی مدد سے د کھائی دیتا ہے۔ جو کوئی پیسہ لاتا ہے اپنی تمدنی شناخت بھی ساتھ لے آتا ہے۔ چنانچہ جو انگریز ملین پاؤنڈ کے معمولی گھر میں رہنا بھی افورڈ افورڈ نہیں کرتے وہ کب کے مرکزی شہر سے پسپا ہو چکے بلکہ ممکن ہے کہ آئندہ دُور دراز پہاڑوں میں دھکیل دئیے جائیں۔ امریکہ کے ریڈ انڈین اور آسٹریلیا کے ابو ریجنل باشندوں کے ساتھ تاریخ نے یہی کیا۔ مگر ’اِتنے مانوس صیاد سے ہو گئے‘ کہ اپنا ذ ہن نہیں مانتا کہ نوآبادیات سے ہاتھ دھو کر اب یورپی یونین سے پسپائی کے عمل میں ہمارے صیاد کی انگریزی شناخت ہمیشہ کے لیے چھن جائے۔ 

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں