48

 قومی معیشت میں بہتری کے آثار



 قومی معیشت میں بہتری کے آثار

 کہا جا رہا تھا کہ ہم ڈیفالٹ کر چکے ہیں لیکن اعلان نہیں کیا جا رہا ہے ملک معاشی طور پر تباہ ہو چکا ہے، کچھ نابغہ قسم کے دانشور نہیں ”دانش  شور“ یعنی دانش کے اندھے کہہ رہے تھے کہ ہم بنیادی طور پر ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکے ہیں لیکن اعلان نہیں کیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں کچھ بیرونی طاقتوں کا مفاد ہے، عمرانی سیاست کے حامی اپنے امریکہ مخالف بیانیے کو خوب اچھال رہے تھے امریکہ دشمنی کی آگ کو خوب ہوا دے کر پھیلانے کی کاوش کر رہے تھے ان کا ٹارگٹ شہباز شریف اور اتحادیوں کی حکومت کو ناکام ثابت کرنا تھا اس مقصد میں شروع شروع میں انہیں کامیابی بھی ملی کیونکہ آئی ایم ایف سے رکی  ہوئی قسط کی وصولی کے لئے ان تمام شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانا تھا جن پر عمران خان دستخط کئے ہوئے تھے یہ قسط نومبر2021ء میں مل جانی چاہیے تھی لیکن عمران خان اپنی نالائقیوں اور نااہلیوں کے باعث طے شدہ فریم ورک کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانے میں ناکام نظر آ رہے تھے، پھر رواں سال کے پہلے دو تین مہینوں میں یہ نظر آنے لگا تھا کہ عمران خان کی حکومتی معاملات پر گرفت کمزور تر ہوتی چلی جا رہی ہے پھر اپوزیشن بھی اکٹھی ہونا شروع ہو گئی تھی اور ان کا ایک بات پر اتفاق ہو چکا تھا کہ عمرانی حکومت کو چلتا کرنا ہے،اختلاف صرف طریق کار پر تھا کہ ووٹ آف نوکانفیڈنس کے ذریعے یا اجتماعی استعفوں کے ذریعے۔ آصف علی زرداری نے عدم اعتماد کی تحریک پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو قائل کیا،متفق کیا اور پھر ان کی صلاحیتوں کے ذریعے عمران خان حکومت ایوانِ اقتدار سے رخصت کر دی گئی۔عمران خان اور ان کے ساتھی ممبران اسمبلی کے استعفیٰ بھی پیش کر دیئے گئے، پھر عمران خان نے حسب ِ مبارک اور عین توقعات کے مطابق چیخنا چلانا شروع کر دیا فوری انتخابات کا مطالبہ اور اس کو منوانے کے لئے25 مئی کا دن مقرر کیا۔ اسلام آباد پر دھاوا بولا، پھر جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے عمران خان نے پھر جلسے کرنے شروع کئے، نیا ولولہ و جوش پیدا کرنے کی مسلسل کاوشیں کیں۔ 13اگست کا لاہور میں آزادی جلسہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی توقع کی جا رہی تھی کہ وہ کوئی بہت ہی اہم اعلان کریں گے جو حکومت کے لیے مشکلات  پیدا کرنے کا باعث ہو گا لیکن عمران خان کا حسب ِ سابق اپنی تقریر کے جوہر دکھاتے، پرانی باتیں دہراتے، ایسے ہی کرتے رہنے کا اعلان کر کے یہ جا وہ جا۔

ان کی منافقانہ پالیسی اب عوام کے سامنے آچکی ہے ایک طرف وہ امریکہ کے خلاف صف آراء نظر آتے ہیں،امریکہ مخالف بیانیہ بڑھاتے نظر آتے ہیں دوسری طرف امریکی سفیر کے ساتھ مبینہ طور پر ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ایک فرم25 ہزار ڈالر ماہوار پر انگیج بھی کر لی ہے جو امریکی اخبارات و ذرائع ابلاغ میں پی ٹی آئی کی امریکی دوستی اجاگر کرنے اور پی ٹی آئی کو امریکیوں کے لیے قابل قبول بنانے کا کام کرے گی،کتنی بڑی منافقت ہے دوغلی پالیسی ہے۔

بحرحال گزرے تین چار مہینوں کے دوران شہباز حکومت نے آئی ایم ایف کو منانے اور لائن پر لانے کے لیے جو کچھ کیا اس سے عام آدمی کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا، ڈالر کی اڑان نے اشیائے صرف اور خوردو نوش کی قیمتوں کو حقیقتاً پَر لگا دیئے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا کیے۔بجلی، گیس اور  توانائی کے دیگر ذرائع کی مہنگائی نے پیداواری مصارف بڑھائے۔اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ایسا لگا کہ اتحادی حکومت ناکام ہو گئی ہے۔شہباز شریف کی ماضی میں اعلیٰ کارکردگی کی باتیں کہیں ہوا ہو گئیں،کہا گیا کہ عمران  کی نالائقی اور ناکارکردگی کا خمیازہ ہے کہ معاملات کو درست کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں ویسے آپس کی بات ہے مہنگائی، مہنگائی اور مہنگائی نے اتحادی حکومت کی کارکردگی  پر سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں کیونکہ عمران خان کی44 ماہی حکمرانی کے دوران نااہلی و ناکارکردگی کے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیئے گئے کہ الامان الحفیظ لیکن شہباز شریف حکومت نے عمران خان کی نااہلیوں کی بری یادیں محو کر دی ہیں بہرحال ایسے لگ رہا ہے کہ شہباز شریف کی سخت پالیسیوں کے ثمرات اب سامنے آگے لگے ہیں، مخالفین کا ”پاکستان ڈیفالٹ کر رہا ہے“ ”پاکستان ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کر چکا ہے“ بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا ہے،ڈالر کی واپسی شروع ہو چکی ہے، پاکستان سٹاک مارکیٹ پھل پھول رہی ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا ہی چاہتا ہے ہم نے آئی ایم ایف کی طرف سے بھجوائے گئے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس29اگست کو متوقع ہے جس میں ہمارے معاملات فائنل ہو جائیں گے اس کے ساتھ ہی رکی ہوئی 1.17 ارب ڈالر کی قسط جاری ہو جائے گی اور پھر ہمارے معاشی معاملات ایک ہموار سطح پر آگے بڑھنا شروع ہو جائیں گے۔

سعودی عرب نے ہمیں تین ارب ڈالر کی میعاد میں توسیع کا وعدہ بھی کر لیا ہے یہ وہ رقم ہے جو ہمارے اکاؤنٹ میں رکھی گئی تھی تاکہ ہمارے ذخائر کی پوزیشن بہتر ہو،ایک بار پھر اس رقم کی دستیابی ہمارے مالی معاملات میں بہتر کی صورت پیدا کرے گی۔اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب ہمیں 100ملین ڈالر ماہانہ کی بنیاد پر تیل فراہم کرے گا یہ سہولت دس مہینے تک جاری رہے گی۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی ہمارے رکے ہوئے دوستانہ اور برادرانہ معاملات کا احیاء ہوا چاہتا ہے چین کے ساتھ معاملات تو پہلے ہی بہت اچھے ہیں۔آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کے اجراء کے بعد دیگر عالمی زری و مالیاتی اداروں کے ساتھ ہمارے رکے ہوئے معالات ایک بار پھر شروع ہو جائیں گے جس کے باعث ہماری معیشت میں بہتری شروع ہو جائے گی۔

اصل سوال یہ ہے کہ بہتر قومی معیشت کے عام آدمی کی معیشت پر اچھے اثرات کب مرتب ہونا شروع ہوں گے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی مسلسل گرتی ہوئی قیمتوں کا ابھی تک عوام کو فائدہ نہیں پہنچا ہے،تیل93/94 ڈالر فی بیرل تک آن پہنچا ہے لیکن عوام کو اس کے ثمرات نہیں مل پا رہے ہیں گزشتہ روز پٹرول کی قیمت میں 6.27 روپے فی لٹر اضافہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے ایسے لگتا ہے کہ کوئی شخص بڑی بے رحمی کے ساتھ فیصلے کر رہا ہے اسے عوامی مصائب اور تکالیف کا ہر گز احساس نہیں ہے وہ آنکھیں،کان اور دماغ بند کرنے کے فیصلے کر رہا ہے اور ظاہر ہے یہ شخص شہباز شریف نہیں ہو سکتا یہ وزارت میں بیٹھا کوئی ”بابو“ ہی ہو سکتا ہے، حکمرانوں نے اگر عوامی مشکلات کا حقیقی ادراک نہ کیا تو پھر وہ وقت دور نہیں جب عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ایسے حکمرانوں کو اقتدار سے نکال باہر کریں گے۔عمران خان اپنے جھوٹے بچے بیانیے کے ذریعے اپنے فین کلب کے ممبران کو چارج کرتے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کے خلاف نفرت کا بیانیہ روز افزوں ہے اگر مہنگائی کے معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو پھر اکتوبر2023ء بہت دور نہیں ہے جب عوام ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیں گے اور وہ فیصلہ درست اور مبنی بر حقائق ہو گا، حکمرانوں کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں