26

  فیصلے کے بعد کیا ہوگا؟



  فیصلے کے بعد، کیا ہوگا؟

آٹھ سال تک سماعت والے فارن فنڈنگ کیس فیصلہ بالآخر سنا ہی دیا گیا الیکشن کمیشن کے چیئرمین سکندر سلطان راجہ نے حکم پڑھ کر سنایا جس کے مطابق عمران خان اور تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ لی، اس کے علاوہ عمران خان کی طرف سے جو بیانات (حلفی) دیئے گئے وہ بھی غلط ثابت ہوئے۔ اس فیصلے کے مطابق متعدد اکاؤنٹس چھپائے بھی گئے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے تحریک انصاف کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا گیا کہ کیوں نہ یہ ممنوعہ فنڈز ضبط کر لئے جائیں۔

توقع کے عین مطابق اس فیصلے پر بحث شروع ہو گئی اور ماہرین آئین و قانون کی بھی رائے کا سلسلہ جاری ہے اور کچھ عرصہ جاری بھی رہے گا۔ تحریک انصاف کا اب بھی یہ موقف ہے کہ فیصلہ درست اور ذاتی تعصب کا شاہکار ہے اس حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے حضرات نے پہلا تاثر فتح کا دیا تھا۔ فواد چودھری،ملیکہ بخاری اور وہاں موجود دوسرے احباب نے کہا ہم نہ کہتے تھے کہ فارن فنڈنگ کا نہیں، ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے اور فیصلے نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد جب فیصلہ کے باقی ماندہ حصے سامنے آئے تو تحریک انصاف کا موقف بھی تبدیل ہو گیا اس کی طرف سے فیصلہ مسترد کرکے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا، اس سلسلے میں دلچسپ تبصرہ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو جماعت کالعدم قرار دینے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہ بیان لمحہ بھر کے لئے تھا اور پھر ہجوم در ہجوم رہنماؤں نے اپنا غصہ نکالنا شروع کیا جس کا اختتام اس پر ہوتا تھا کہ فیصلہ غلط اور اس کے خلاف رٹ دائر کی جائے گی۔

یہ بحث تواتر سے جاری ہے حتیٰ کہ پہلا پورا دن  اسی پر گزارہ کیا گیا اور کئی دوسرے اہم مسائل نظر انداز ہو گئے۔ درجنوں ماہرین قانون نے اپنی رائے دی ان میں سے بعض حضرات کا موقف یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو ممنوعہ فنڈنگ مل جانے اور اس میں بعض کمپنیوں اور بعض غیر ملکی حضرات سے فنڈز لئے گئے اس بناء پر الیکشن کمیشن کو جماعت پر پابندی اور عمران خان سمیت ان حضرات کو بھی نااہل قرار دلانے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجنا چاہیے تھا جن کے نام سامنے آئے ہیں۔ میرے خیال میں الیکشن کمیشن نے محتاط ہو کر فیصلہ کیا کہ فیصلے کے مضمرات تو سامنے آنا ہی ہیں۔ تحریک انصاف نے اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تو حکومت نے بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ میرے خیال میں الیکشن کمیشن نے گیند اپنی کورٹ سے نکال کر عدلیہ کی کورٹ میں پھینک دی ہے کہ معاملہ تو وہاں جانا ہی ہے۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کی طرف سے فنڈز کی ضبطی کے لئے اظہار وجوہ کے نوٹس کا تعلق ہے تو یہ بھی رسمی کارروائی ہے ممنوعہ فنڈز کے حوالے سے تو تحریک انصاف کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں کہہ چکے ہیں کہ  ممنوعہ ذرائع والی رقم چھوڑنے کو تیار ہیں، اس کے علاوہ جو اکاؤنٹس کلیم نہیں کئے گئے وہ تو اس حوالے سے بھی ضبط ہونا ہیں اس لئے تحریک انصاف کو کوئی بڑی پریشانی نہیں، تاہم عمران خان کے بیانات حلفی اور بعض کمپنیوں اور افراد کے جو نام سامنے آئے ان کی بناء پر ریفرنس دائر ہو سکتا ہے تاہم اس کے لئے بڑی توجہ درکار ہو گی حکمران اتحاد نے اس کا اعلان تو کیا ہے لیکن جلدی نہیں دکھائی جبکہ تحریک انصاف نے فیصلہ والے روز ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ممکنہ سماعت آج (جمعرات) ہو سکتی ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ کہ الیکشن کمیشن کا سٹیٹس زیر غور لانا ہوگا، اگر چیئرمین کی حیثیت سپریم کورٹ کے جج کے مساوی ہے تو پھر یہ اپیل عدالت عظمیٰ ہی کے روبرو دائر ہونا چاہیے تھی۔

بہرحال تحریک انصاف کے وکلاء کا اپنا طریقہ اور موقف ہے جس بناء پر انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ آج ابتدائی طور پر یہ طے ہوگا کہ یہ درخواست قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔ میں نے بعض آئینی ماہرین سے پوچھا تو ان کا یہی خیال ہے کہ اصل حق سماعت سپریم کورٹ کو حاصل ہے اور درخواست عدالت عظمیٰ میں اپیل کے طور پر دائر ہونا چاہیے اور امکانی صورت بھی یہی ہے۔

حکومت کی طرف سے بھی بیان بازی جاری ہے اور عندیہ یہی دیا جا رہا ہے کہ ریفرنس تیار کرکے جماعت پر پابندی اور عمران خان سمیت ان تمام متعلقہ لوگوں کے خلاف نااہلی کے لئے ریفرنس دائر ہوگا۔ اب پھر سے ایک مسئلہ کھڑا ہوگا، ماضی میں جب این اے پی پر پابندی لگائی گئی تب بھی عدالت عظمیٰ ہی سے رجوع کیا گیا تھا اور پولیٹکل پارٹیز ایکٹ کے تحت کسی جماعت کو آئینی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بین کرنا ہوگا تو اجازت عدالت عظمیٰ ہی سے لینا ہوگی اس لئے یہ معاملہ یا مسئلہ بالآخر عدالت عظمیٰ ہی کو نمٹانا ہوگا۔ اس کے لئے بہتر راستہ فل بنچ ہے کہ جماعت پر پابندی اور عمران خان سمیت بعض عہدیداروں کو نااہل قرار دلانے کے لئے ریفرنس بھیجنا ہوگا تو وہ عدالت عظمیٰ ہی کو بھیجا جائے گا۔ اس لئے فل بنچ ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے یا نااہلیت کے لئے فورم یہی ہے۔ اس لئے فیصلہ شفاف ترین ہونا چاہیے۔

جہاں تک اس فیصلے کے اثرات کا تعلق ہے تو یقینا وہ تو مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث حکومتی اتحاد والوں کو بھی لفظی گولہ باری کا موقع مل گیا ہے تاہم معاشرے میں تقسیم کے حوالے سے یہی عرض کروں گا کہ جو تحریک انصاف والے ہیں وہ اس سے متاثر نہیں ہوئے اور جواز در جواز پیش کر رہے ہیں لیکن ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو بوجوہ کنارے پر ہوتا ہے اور آج سے پہلے اس کی توجہ کا مرکز عمران خان ہی تھے۔ یہ لوگ یقینا غور پر مجبور ہو گئے ہیں کہ فنڈنگ جو سامنے آئی جن لوگوں یاکمپنیوں نے دی وہ غیرملکی اور ہمارے دشمنوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اب تو مولانا فضل الرحمن کے بعد خواجہ آصف نے بھی اسرائیل اور بھارت کا ذکر شروع کر دیا ہے تاہم یہ سب سپریم کورٹ کے روبرو ثابت بھی کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر قانون نذیر تارڑ نے بھی ایکشن کے لئے تیاری کی بات کی ہے۔

یہ سب اپنی جگہ، میری فکر یہ ہے کہ معاشی استحکام کیسے ہوگا؟ ہم مسلسل یہی عرض کر رہے ہیں کہ سیاسی اور داخلی استحکام کے لئے مذاکرات شروع کئے جائیں لیکن ہمارے مہربان ہیں کہ مان ہی نہیں رہے اور مسلسل انکار کئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی جماعت کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہ بھی عوام ہی کا کام ہے کہ جماعت غیر مقبول ہوتی جائے تو از خود پچھلی صفوں میں چلی جاتی ہے اور اگر کالعدم قرار دی جائے تو پھر کسی اور نام سے وجود میں آ جاتی ہے جیسے نیشنل عوامی پارٹی کالعدم ہوئی تو اس کی جگہ اب عوامی نیشنل پارٹی ہے اب تو ایک خبر کے مطابق جہانگیر ترین عوامی تحریک انصاف کے نام سے جماعت بنانے جا رہے ہیں۔ اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں ہوئی، خاموشی ہی جاری ہے، میں تو ایک بار پھر عرض کروں گا کہ مصالحتی انداز اپنایا جائے اور قومی مسائل پر مذاکرات ہوں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں