18

 فوج کو عزت دو 



 ڈاکٹر نصراللہ خان نے بتایا صبح 8:00 بجے جب وہ اپنے بنیادی مرکز صحت خوشاب کے نواحی علاقے پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں ہر طرف فوج ہی فوج۔ مجھے دیکھ کر میجر صاحب کہنے لگے ڈاکٹر صاحب براہ مہربانی ہمیں دو عدد کمرے دے دیں ہم نے کچھ ضروری آلات ان میں لگانے ہیں دراصل بات یوں ہے کہ بھارت کے کئے گئے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان بھی ایٹمی دھماکے کرنے جا رہا ہے، اسرائیل کے 50 ایف سولہ طیارے سرینگر میں کھڑے ہیں، ان کا پیغام ہے کہ وہ ہمارے ایٹمی دھماکے کرنے کی خواہش کو دفن کر دیں گے، ہم نے انہیں کہا ہم مسلمان ہیں، شہادت ہماری میراث ہے، آپ ہمت کر کے دیکھیں آپ کے تمام ایٹمی گھر پاک فوج فنا کر دے گی۔

ڈاکٹر نصراللہ خان نے بتایا میجر صاحب مئی کی سخت جھلسا دینے والی گرمی میں 24 گھنٹے بوٹوں اور وردی میں ملبوس راؤنڈ کرتے رہے انہیں کھانے پینے، سونے تک کا ہوش نہ تھا اور پھر آخرکار 28 مئی 1998ء کو پاکستان کی عظیم فوج نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے اپنے ازلی دشمن بھارت کو یہ پیغام دیا کہ ہم کسی سے کم نہیں، پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال باہر پھینکیں گے۔ ڈاکٹر نصراللہ نے کہا 20 سال بعد جب میں میجر صاحب اور باقی فوجیوں کا دن رات ایک کر کے ملک کے لئے اپنا آپ بھول جانے بارے سوچتا ہوں تو آج بھی جسم میں کرنٹ سا دوڑ جاتا ہے کہ ان کی قربانی کی بدولت آج ہم آزاد ملک کے باسی ہیں۔ آج جب انہی فوجیوں کے بارے کرائے کے چند ٹاؤٹوں کو ٹر ٹر کرتے دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے کیسے عجیب لوگ ہیں، زلزلہ ہو یا سیلاب، کوئی قدرتی آفت ہو یا جنگ حتیٰ کہ دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر دیوار یہی فوج بنتی ہے اس فوج کے بارے مٹھی بھر یہ لوگ جو اپنے پیٹ کے ایندھن کی خاطر اپنے یار مودی کی زبان بولتے ہر لمحہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فوج تو پہلے ہی ملک کا سارا بجٹ ہڑپ کرنے کے لئے، ریٹائرمنٹ پر پلاٹوں کے تحفے وصول کرنے کے لئے اور سب سے بڑھ کر سیاست میں مداخلت کرنے کے لئے ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا لگتا ہے کہ آج کل پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا  کرنے والوں کا وائرس آیا ہوا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے معصومانہ انداز میں کہا کہ فوج کے خلاف اپنی توپوں کا رخ کرنے والے عظیم یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ کیا کبھی اپنا بیٹا بھی ملک پر قربان کر کے دکھایا۔ کیا اپنے شہید بیٹے کو ہر عید، شب برات پر یاد کیا۔ بڑا دکھ ہوتا ہے یہ بات سن کر کہ جناب فوجی بننا تو اس کی اپنی چوائس تھی۔ اگر بارڈر پر کوئی فوجی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے تو جناب یہ اس کی ڈیوٹی ہے وہ اس کی تنخواہ لیتا ہے وہ ہم پر احسان نہیں کرتا۔ جی بالکل درست فرمایاتھوڑی تکلیف یہ خود بھی کر لیں۔ ایک عدد پلاٹ سے ہم ان کو نواز دیں گے، بھاری معاوضہ بھی دیتے رہیں گے۔ذرا ایک رات بارڈر پر گزار کر ہی دکھا دیں ایک سیاسی جماعت کے سپورٹر میرے کچھ سینئر پروفسر ڈاکٹر کہتے ہیں ایک سویلین ڈاکٹر بھی کام کرتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے کہ نہ پوچھیے ایک فوجی اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

میں نے یہی سوال ایک ڈاکٹر کلاس فیلو جو کرنل کے عہدے پر فائز تھے سے پوچھا، کہنے لگا کہ کیا آپ کا ڈاکٹر پورا پاکستان گھومتا ڈیوٹی دیتا ہے بمعہ فیملی اور کبھی کبھار فیملی کے بغیر پورا سال بیرون ملک، چلیں ان ساری باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ کرنل صاحب نے بتایا کہ وہ خود13 دن تک سوات دہشت کے سائے میں رہے دن رات گولوں کے برسنے کی آوازیں وہ ابھی تک نہیں بھول سکے اس وقت ازبک دہشت گردوں سے نبردآزما ہونا کوئی الیف لیلیٰ کی کہانی نہ تھی، اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، عزیز رشتہ داروں سے دور رہنا اور پھر کبھی کبھار جب گھر فون کرنا اپنی خیریت بتانے کے لئے تو گھر والوں کا پریشان ہو جانا، ان کاسانس حلق میں رہنا تو جیسے ایک معمول تھا۔

بقول کرنل صاحب بات کرتے ہیں کہ لوٹ کر کھا گئے، او بھئی کیا لوٹا ہم نے 17 برسوں کے بعد ایک پلاٹ الاٹ ہوا جس کی قیمت ہر تنخواہ سے کٹے اور کٹوتی کے بعد خالی تنخواہ میں بنتا ہی کیا ہے؟ اور لوگوں کا یہ سوچنا کہ پلاٹوں کی بندربانٹ کہاں کا انصاف ہے سراسر زیادتی ہے۔ 80 فیصد فوجی تو کرنل رینک تک ہی ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں اب ہر فوجی تو جنرل بننے سے رہا۔ میرے کرنل ڈاکٹر دوست نے کہا کہ ہم نے بیرون ملک اقوام متحدہ کے مشن کے تحت غیرملکی افواج کے ساتھ کام کیا اپنی ہی فوج کے خلاف بولنے کی روایت یہ صرف اس دیس کے چند پیٹ کے پجاریوں میں ہی ہے۔ 

راقم کا ان عاقبت نا اندیشوں سے کہنا ہے کہ مرنے سے پہلے آپ کی یہ خواہش کہ فوج کو ختم کر دیا جائے اگر پوری کر دی جائے تو سمندر کنارے جس شامی بچے کی تیرتی لاش کا واویلہ پوری دنیا میں ہوا تو پھر خدانخواستہ کسی پاکستانی بچے کی تیرتی لاش کا نظارہ کرنے کے لئے تیار رہیے۔ پھر فلسطین، یمن، صومالیہ کا رونا مت رویئے گا۔

بڑا عجیب لگتا ہے ٹھنڈے یخ بستہ، ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر فوج پر گولہ باری کرنے والوں پر کہ جو آج پاٹے خان بن کر اپنی دانشوری جھاڑتے نہیں تھکتے۔ اگر فوج نہ ہوتی تو ان بڑے بڑے سورماؤں کی اوقات کسی وجے کمار کے لئے چائے لانے والے ویٹر سے زیادہ نہ ہوتی۔ اپنی اوقات کو بھولنے والے ان احسان فراموش لوگوں کوجا کر کوئی بتائے کہ شہادت تو میرے ملک کے بچے بچے کا خواب ہے اورکیوں نہ ہو، شہادت تو پیارے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راج دلارے حضرت حسینؓ کی وہ قربانی ہے کہ جس کی وجہ سے آج میں، آپ سب مسلمان ہیں اور اللہ پاک اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”شہید زندہ ہے، اسے مردہ مت کہو“ اللہ بھلا کرے ہمارے بہادر سپوتوں اور شہداء کے خون کے امین باجوہ ڈاکٹرائن کے خالق سپہ سالار جنرل قمر باجوہ صاحب کا جنہوں نے دشمنوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ تمہاری گولیاں ختم ہو جائیں گی مگر ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے۔

راقم یہ الفاظ لکھتے فخر محسوس کر رہا ہے کہ لاالٰہ الا اللہ کے نام پر بننے والی اس ریاست کی حفاظت کرنے والی فوج کو سر آنکھوں پر بٹھانا ان کی عزت و تکریم کرنا۔ یہ قوم خوب جانتی ہے کہ اپنے محسنوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے اس کی مثال زہر اگلتے بھارتی میڈیا سمیت پوری دنیا نے دے رکھی ہے کہ سچے پاکستانی اپنی فوج کو کیسے عزت دیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں