26

فوجی ہیلی کاپٹر کا حادثہ اور ہماری قومی بیداری



فوجی ہیلی کاپٹر کا حادثہ اور ہماری قومی بیداری

 کل کا دن افسوسناک حد تک دردناک تھا۔ پرسوں یکم اور دو اگست کی شام، آرمی ایوی ایشن کا ایک ہیلی کاپٹر لسبیلہ (بلوچستان) کے نواحی علاقے میں کریش ہو گیا۔ ویسے تو یکم اگست کی شام کو یہ خبریں ٹیلی ویژن پر آ رہی تھیں کہ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا ہے۔ لاپتہ ہونے کا مطلب کریشن ہو جانا ہے۔ میرا ماتھا اسی وقت ٹھنکا تھا کہ اس ہیلی کاپٹر میں سینئر فوجی آفیسرز سوار ہوں گے۔ وگرنہ سیلاب کے ان ایام میں ان علاقوں میں سویلین افسروں کی آمد و رفت بے معنی تھی اور ویسے بھی MI-17ہیلی کاپٹر صرف فوج میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ میں نے کوئٹہ میں اپنے چند جاننے والوں سے معلوم کیا تو ان کا جواب ”گومگو“ میں تھا۔ ان کو معلوم تھا کہ اس ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12کور کے علاوہ ایک اور میجر جنرل،  دو میجر اور دو اور سٹاف کے اراکین تھے۔ یہ اولین خبر تھی جو موصول ہوئی۔ اس کے بعد ان افسروں کے نام اور مناصب بھی سوشل میڈیا پر آنے لگے۔

رات کو ساڑھے گیارہ بجے راولپنڈی سے ایک عزیز (بریگیڈیئر) کا میسیج آیا جس میں درج ذیل شہیدوں کے نام درج تھے:

1۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، کمانڈر 12کور (کوئٹہ)

2۔ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد

3۔چیف انجینئر 12کور بریگیڈیئر خالد

4۔میجر سعید (پائلٹ)

5۔میجر طلحہ (کو پائلٹ)

6۔ کریو چیف نائک مدثر

اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ کریش تو کنفرم ہے لیکن 57کیولری کے ٹروپس  مقامِ کریش کی طرف جا رہے ہیں۔ اس میں ابھی 3گھنٹے لگیں گے۔ تاہم پولیس جلد ہی مقامِ کریش تک پہنچ گئی اور تباہ شد ہیلی کا فوٹو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگا۔ ایک اور افسوسناک خبر یہ بھی تھی کہ جنرل سرفراز کا بیٹا جو ان کا ADC تھا وہ بھی اسی ہیلی کاپٹر میں سوار تھا۔ تاہم فوراً ہی اس کی تردید آ گئی کہ وہ بیٹا (کیپٹن) واپس کوئٹہ پہنچ گیا ہے اور خیریت سے ہے۔

یہ حادثہ جس جگہ پیش آیا وہ سنگلاخ پتھریلے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور وہاں سسی پنوں کا مزار بھی قریب ہے۔ بتایا گیا کہ جنرل صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کررہے تھے اور واپس کوئٹہ پہنچ کر اس ٹیم نے سیلاب سے گھرے ہوئے افراد کی امداد کا پلان بنانا تھا۔ مختلف اداروں اور افراد کو ذمہ داریاں سونپنی تھیں کہ کون کس جگہ جائے گا، اس کے فرائض کیا ہوں گے اور ان فرائض کی انجام دہی میں جو مشکلات پیش آئیں گی ان کے علاج کی کیا صورت ہوگی۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے۔ ہم صرف تاویلیں کرتے اور بہانے گھڑتے رہتے ہیں۔ کور کمانڈر کو بتایا گیا تھا کہ موسم خراب ہے، بارشیں ہو رہی ہیں اور اس موسم میں ہیلی کاپٹر کا سفر خطرناک ہو سکتا ہے لیکن ان شہیدوں کو لاکھوں سلام کہ انہوں نے ہر امکانی خطرے کو بالائے طاق رکھا اور خلقِ خدا کی خدمت کو اولیت دی۔

پاکستان میں کئی ایسے بدقماش لوگ بھی ہیں جن کا مشن دن رات فوج کی برائیاں اور بدخوئیاں کرنا ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ فوج کا تو کام ہی ایسا ہے کہ اس کو اپنی جان خطرے میں ڈالنا پڑتی ہے، اسی کام کی تنخواہ ان کو دی جاتی ہے اور اس کی ٹریننگ بھی انہی فرائض کی بجاآوری کے لئے کی جاتی ہے۔ ان بدخُو لوگوں کو کیا معلوم کہ ایک سولجر جب لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچتا ہے تو اس کے راستے میں کیسے کیسے سخت مقامات آتے ہیں۔

جنرل سرفراز علی شہید کو ایک اور کریڈٹ بھی دینا چاہیے کہ انہوں نے اپنی اگلی نسل کو بھی اسی فوج کے حوالے کیا جس میں قدم قدم پر جان لیوا خطرات موجود ہوتے ہیں۔ حالیہ ایام میں سینئر آرمی آفیسرز نے اپنے بیٹوں کو فوج میں بھیجنے کی روائت سے ایک طرح کے اجتناب کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ لیکن جنرل صاحب نے تو اپنا فرزندِ ارجمند بھی اسی ادارے کے حوالے کر دیا۔ اس زاویہء نگاہ سے دیکھا جائے تو جنرل مرحوم ایک سچے پاکستانی اور خالص قوم پرستانہ شعار کے علمبردار تھے!…… خداوندِ کریم ان کو اور ان کے ساتھ باقی چار افسروں اور ایک سولجر (نائیک مدثر) کو فردوس بریں میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

MI-17ہیلی کاپٹر روس کا بنا ہوا ہے اور اس کی سروس ہسٹری یہ بتاتی ہے کہ یہ مشین محفوظ ترین ہیلی کاپٹروں میں شمار کی جاتی ہے۔ 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں جب مجھے ایران کے سینئر فوجی آفیسرز کے ہمراہ بطور انٹرپریٹر راولپنڈی سے مری، کاکول، کوئٹہ، کراچی اور دیگر عسکری اہمیت کے مقامات پر جانا پڑا تو ہمیں یہی MI-17دیا جاتا تھا اور اس کا سفر بہت محفوظ اور آرام دہ تصور ہوتا تھا (اور ہوتا ہے) بارش وغیرہ میں اس کی اڑان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ البتہ برف باری کے موسم میں احتیاط کی جاتی ہے۔

ایسے حادثات میں افواہوں کا بازار بھی گرم ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ کلپ بھی کئی دوستوں کی طرف سے موصول ہوا کہ یہ ہیلی کاپٹر BLA (بلوچستان لبریشن آرمی) کی فائرنگ سے کریش ہوا ہے۔ لیکن جس بلندی پر یہ اڑ رہا تھا، اس پر زمین سے فائرنگ کرکے اس کو نشانہ بنانا ایک بہت دور کی کوڑی لانے کے برابر ہے…… ایک اور فیک نیوز بھی کل وائرل کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ایک خاتون آفیسر کی طرف سے جاری کی گئی ہے جس کا نام کیرن جفرڈ (Caryn E.Gifford) ہے اور وہ امریکی سفیر ڈیوڈ بلوم (Blome) کی پالیسی ایڈوائزر ہے۔

اس نے ٹویٹ کیا ہے کہ: ”ہمارے ایک ٹیکٹیکل ڈرون نے غلطی سے پاکستان آرمی کے ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹر میں سوار کئی افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ کریش لسبیلہ (بلوچستان) کے نواح میں ہوا۔ہم 12کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی موت پر ماتم کناں ہیں“۔۔۔۔ اندازہ کیجئے اس فیک نیوز کے  بنانے والوں اور وائرل کرنے والوں کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ پہلے بلوچستان لبریشن آرمی اور پھر امریکی سفارت خانے کی آفیسر خاتون کو ملوث کرنے کے پیچھے جو لوگ ہیں ان کو اب ہر کوئی جان چکا ہے۔

لیکن مجھے جس حقیقت نے زیادہ پریشان کیا ایک تو وہ ان 5 افسروں اور ایک جوان کی شہادت تھی اور دوسرے دو اگست (کل) سارا دن صبح دس بجے سے لے کر رات گئے تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کی وہ خبر تھی جو ہمارے ٹیلی ویژن سکرینوں پر فلیش ہوتی رہی اور پی ٹی آئی کی فارن (یا ممنوعہ) فنڈنگ کے سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے پر نقد و نظر کرتی رہی۔ اس فوجی ہیلی کاپٹر کے کریش ہونے کی تفاصیل، اس کی وجوہات اور اس کے نتائج پر جو تبصرے اور تجزیئے کئے جانے تھے ان کو موخر سمجھا گیا…… یعنی پاکستان کی سیاسیات کو پاکستان کی سلامتی سے اولیٰ تر مقام دیا گیا۔ECP کے اس فیصلے اور اس کے حسن و قبح پر تبصروں کا ایک طوفانِ بدتمیزی ہو گا جو آنے والے کئی دنوں تک جاری و ساری رہے گا …… عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے قوم کو ایک نئی بیداری عطا کر دی ہے۔ کاش یہ بیداری سیاسیات سے نکل کر ملک کی سلامتی، خوشحالی اور دفاعی استحکام تک بھی پھیل جائے!…… میں منتظر رہوں گا کہ اس حادثے کے موضوع پر ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کس درجے کی ”بیداری“ کا مظاہرہ کرتا ہے!!

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں