32

  فساد کیوں؟ مذاکرات کیوں نہیں؟



  فساد کیوں؟ مذاکرات کیوں نہیں؟

 فرزند راولپنڈی شیخ رشید ابھی تک مایوس نہیں ہوئے اور انہوں نے پھر ”خانہ جنگی“ کی بات کر دی ہے وہ اپنے آپ کو ”سب سے سینئر“ سیاستدان کہتے ہیں اور اسی بناء پر پیش گوئیاں بھی کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ان کی کوئی بھی پیش گوئی آج تک پوری نہیں ہوئی اور اب جو انہوں نے بات کی یہ بھی عرصہ سے کہتے چلے آ رہے ہیں، یہ تو کچھ اللہ کا کرم اور باقی شہریوں کا کمال ہے کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا، حتیٰ کہ 25مئی کے حوالے سے ان کی دور رس نگاہ والی بات درفنطنی ثابت ہوئی کہ نہ تو عمران خان ڈی چوک آئے اور نہ ہی بڑا تصادم ہوا اگرچہ جلاؤ گھیراؤ ہوا، شیخ صاحب نے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی دست بدست لڑائی کی باتیں کیں مجھے حیرت ہوئی ہے کہ میڈیا میں بھی وہ مقبول ہیں اور ان کی ایسی باتوں کو بار بار نشر بھی کیا جاتا ہے حالانکہ ملکی استحکام کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے ایسے بیانات کے لئے رضا کارانہ سنسرشپ نافذ کر دی جائے اور ان کی گفتگو کے وہ حصے ایڈٹ کئے جائیں جو فساد پھیلانے کے مترادف ہوتے ہیں، میں نے اکثر دوستوں سے سنا ہے کہ شیخ رشید اپنی شہرت کے لئے ایسی بیان بازی کرتے ہیں وہ عرصہ سے تصادم کے خواہش مند ہیں لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہو سکا کہ متحارب فریقوں نے بڑھک بازی تک ہی گزارا کیا ہے اور عملی اقدام کی طرف نہیں گئے۔ میری درخواست ہے کہ شیخ رشید ایسی درفنطنیوں سے قوم کو معاف رکھیں اور اگر ان کے اندر اتنی ہی ”محبت“ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے تو محاذ آرائی کی آگ پر پٹرول چھڑکنے کی بجائے فوم والا پانی ڈالیں اور فریقین کو ایک میز پر بٹھائیں چاہے ان کا اپنا نقصان ہی ہو جائے، وہ اتنے مہربان اور خیر خواہ ہیں کہ عمران خان سے پہلے ہی محاذ آرائی کی شدت میں اضافہ کرنے والے بیانات داغ دیتے ہیں، اگر ان کی طرف سے یہ نہیں رکتا تو پھر میڈیا ہی تو یہ فرائض رضا کارانہ طور پر ادا کرنا ہوں گے ان کے اشتعال انگیز بیانات عوام تک نہ پہنچیں۔

یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ جو لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں، ان کی نسبت مخالفین آزادانہ طور پر تنقید کا حق ادا کرتے ہیں جبکہ حزب اقتدار والوں کو ایک حد تک تو محتاط رہنا ہی پڑتا ہے اور اسی سے فائدہ اٹھا کر محترم شیخ صاحب لفاظی گولے داغتے رہتے ہیں جو خالی جاتے ہیں لیکن وہ حوصلہ نہیں ہارتے، ماضی قریب میں تو انہوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ان کا گیٹ نمبر4کا رابطہ ختم ہو گیا اور اب ان کا جینا مرنا عمران خان کے ساتھ ہے لیکن ان کی یہ بات بھی درفنطنی ہی ثابت ہوئی کہ وہ اس کے بعد بھی فوج کے حوالے سے شیخیاں بگھارتے رہے ہیں۔

میں نے اپنے پچھلے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ تحریک انصاف والوں خصوصاً عمران خان اور فواد چودھری نے اسٹیبلشمنٹ کی بجائے براہ راست ہمارے سلامتی کے ادارے کو ملوث کیا تو شیخ صاحب کھلے بندوں ایسے ارشادات فرماتے رہے کہ ملکی سیاست میں فوج کی مداخلت کا ذکر ہوتا رہا، ابھی گزشتہ روز ہی عمران خان نے کہا ہے کہ سکندر سلطان کی چیف الیکشن کمشن کے طور پر تقرری انہوں نے نہیں کی، ان کو یہ نام ”نیوٹرلز“ نے دیا اور گارنٹی بھی دی تھی اب کوئی پوچھے کہ جب سے تحریک عدم اعتماد کا سلسلہ چلا تھا، تب سے ہی نیوٹرلز کا ذکر ہوتا چلا آیا اور خان صاحب کھلے بندوں نام لے لے کر الزام لگاتے رہے اور ساتھ ہی درخواستیں بھی کرتے رہے۔ یہ تو ان کا حوصلہ ہے کہ ان کی طرف سے آئی ایس پی آر کو ایک سے زیادہ مرتبہ وضاحت کرنا پڑی لیکن وہ (کپتان) اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں اور نیوٹرل کے حوالے سے وہ کئی مثالیں  بھی استعمال کرتے رہے ہیں، جبکہ فواد چودھری تو یہ تک کہہ گئے کہ اب بند کمروں میں فیصلے نہیں ہوں گے کہ جج اور جرنیل بیٹھ کر طے کر لیں۔

تحریک انصاف کی حکمت عملی حقیقی طور پر کیا ہے کہ اب تک کلیتاً واضح نہیں ہو پاتی کہ استعفے دیئے۔ صوبائی حکومتوں میں رہے۔ پنجاب میں ضمنی انتخاب میں حصہ لیا اور پھر حکومت سازی کے لئے پوری طاقت لگائی۔ اب سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی سے استعفے منظور کرنا شروع کر دیئے ہیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے درخواست یہ ہے کہ سب استعفے ایک ہی مرتبہ منظور کئے جائیں۔ سپیکر نے حکمت عملی کے تحت استعفوں کی منظوری گروپوں کی صورت میں شروع کی کہ جب انہوں نے استعفوں کی تصدیق کے لئے اراکین کو طلب کیا تو گروپوں ہی کی صورت میں بلایا تھا۔ ان کے بقول وہ اسی لحاظ سے استعفے منظور کر رہے ہیں کہ شاید اب بھی کوئی تصدیق کے لئے آئے، میرا خیال تو یہ تھا اور ہے کہ یہ حکومتی حکمت عملی ہے کہ 131 استعفے بیک وقت منظور نہ ہوں تھوڑے تھوڑے وقفے سے گروپوں والے منظور کئے جائیں تاکہ ضمنی انتخاب کم نشستوں پر ہوں۔ تحریک انصاف نے اب عدالت سے رجوع کیا ہے کہ سب کے استعفے ایک ہی مرتبہ منظور ہوں، عدالت نے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ یہ درخواست دائر کی گئی تو گزشتہ ہی روز چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ مقصد اب بھی واضح نہیں کہ عام انتخابات  کا مطالبہ کرتے ہوئے کے پی اور پنجاب کے صوبوں میں حکومتیں چلتی رہیں اور مطالبہ بھی ہوتا رہا، جن حضرات نے محترم عمران خان سمیت استعفے دیئے ان میں جو لوگ سرکاری رہائش گاہوں میں ہیں، انہوں نے اب تک خالی بھی نہیں کیں اور اب ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر محترم کپتان نے ضمنی انتخابات ہی میں حصہ لے کر واپس آنا ہے تو وہ اب ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ابھی صرف گیارہ نشستیں خالی ہوئی ہیں، 120باقی ہیں تو یہ سب واپس اسمبلی میں آ جائیں اور یہاں بھی پارلیمانی طرز عمل کے تحت مقابلہ کریں، ایسا نہ ہوا تو تصور کیا جائے گا کہ محترم کپتان میچ ہار رہے ہیں اور بتدریج ان کے سکور کم ہو رہے ہیں۔ بہتر تو یہی ہے کہ واپس آ جائیں۔

تحریک انصاف نے جو موقف اختیار کیا وہ ان کا اپنا ہے تاہم یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ پی ڈی ایم نے معاشی بحران کے حوالے سے حکومت چھوڑنے پر غور کیا تھا تو کپتان اور بھی ڈٹ گئے تھے لیکن اب حالات میں معنوی تبدیلی آ گئی ہے، اتحادی حکومت نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے کو اپنے حق میں کیش کرانے پر کمر کس لی ہے اور واضح اعلان کیا کہ باقی ماندہ مدت پوری کی جائے گی اور وقت سے پہلے انتخابات نہیں ہوں گے اس حکومت نے مشکل ترین فیصلے کئے اس سے مسلم لیگ (ن) اور دوسری جماعتوں کو عوامی حمایت کے حوالے سے نقصان ہوا تاہم اب تازہ ترین حالات کے مطابق معیشت میں بہتری شروع ہو گئی۔ آئی ایم ایف نے گرین سگنل دیا ڈالر یکایک قریباً 30 روپے سستا ہو گیا جبکہ یہ مزید بھی کمزور ہو گا کہ آئی ایم ایف کی قسط کے ساتھ ہی عالمی بینک اور دوستوں کی ہچکچاہٹ بھی ختم ہو جائے گی اور یوں قرض ہی سے سہی لیکن معاشی حالت بہتر ہوگی۔ حکومت اس سے فائدہ اٹھا پائی تو اسے عام انتخابات میں جانا بھی بُرا نہیں لگے گا۔

میں تو اب بھی قومی مصالحت کا قائل ہوں اس لئے عمران خان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ الیکشن کی تاریخ دی جائے تو وہ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میرے سمیت تمام سنجیدہ فکر حضرات تو یہی مشورہ دیں گے۔ بات چیت تو شروع کریں کہ انتخابات کی تاریخ ہی دے دی جائے تو پھر مذاکرات کس بات پر ہوں گے؟ البتہ میز پر گفتگو ہو تو عام انتخابات کے انعقاد پر بات ہو سکتی ہے، جس کا نتیجہ خیز ہونا بھی ممکن ہے، سب حضرات جمہوری طرز عمل اپنا لیں، ملک کی اور عوام کی بہتری کے لئے ہی ایسا کر لیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں