18

 غریبوں کی کون سنے 



 مریم نواز نے تاجروں کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے اپنے مفتاح بھائی سے کہا ہے وہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس واپس لیں کیونکہ تاجر بھائی پریشان ہیں اور شکوہ کر رہے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔ مریم نواز کے اس ٹویٹ کی خبریں چینلز پر چلیں تو سب نے سنیں، شیدے ریڑھی والے نے بھی اس خبر کو سنا، اس لئے آج میں اس کی ریڑھی پر گیا تو وہ شکوہ کر رہا تھا مریم نواز نے تاجروں کو تو اپنا بھائی قرار دے کر ان کے لئے ریلیف مانگ لیا ہے، ہمارے جیسے غریب غرباء کس سے ریلیف مانگیں، بجلی کے بل تو ہماری بھی کمر توڑ رہے ہیں پھر کہنے لگا بابو جی مریم نواز کے نام میری فریاد ہی لکھ دیں اب تو آمدنی بھی کم ہو گئی ہے، سبزیاں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں لوگ آدھ آدھ پاؤ خریدتے ہیں حتیٰ کہ پیاز اور آلو بھی جو پہلے کلو کے حساب سے بکتے تھے اب پاؤ کے حساب سے بکنے لگے ہیں تو میں نے کہا شیدے بھائی غریب جب تک کسی کمیونٹی کا حصہ نہیں بنتے ان کی کوئی نہیں سنتا۔ وہ تاجروں میں شامل ہو جائیں تو ان کی سنی جائے گی،  رکشے والوں کی طرح سڑکیں بلاک کر دیں تو ان پر توجہ دینے والے  بہت  نکل آئیں گے، کلرک سڑکوں پر آ جائیں تو ان کے مطالبات پورے کرنے والے نیند سے جاگ اٹھتے ہیں یہ خالی خولی غریب تو کیڑے مکوڑے ہیں ان کے نام پر صرف سیاست ہوتی ہے ان کی بات کوئی نہیں سنتا۔

تاجروں پر بجلی کے بلوں میں ٹیکس لگا ہے تو وہ واویلا کر رہے ہیں  حالانکہ اس ٹیکس کے بعد ان پر انکم ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ کل مفتاح اسماعیل کہہ رہے تھے کہ جو سال کے بارہ لاکھ روپے کماتا ہے وہ سال کا 30 ہزار روپے ٹیکس تو دے ہی سکتا ہے، اسے دینا بھی چاہئے یہ خوشخبری بھی سنائی گئی ہے کہ 150 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو فکس ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی،  تاجر بھائی بقول مریم نواز پریشان ہو گئے ہیں حالانکہ تاجروں کی پریشانی تو آگے صارف کو منتقل ہو جاتی ہے، تاجروں کا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی معیشت میں حصہ ڈالنا نہیں چاہتے،  میں جب بھی اپنے کریانہ فروش کے پاس جاتا ہوں مجھے خریداری کے لئے کافی انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ رش ہی اتنا ہوتا ہے اس کی دکان میں دو بلب اور ایک پنکھا چل رہا ہوتا ہے اب اس کا بل تو لازماً 150 یونٹ کا ہی آئے گا مگر خدا جھوٹ نہ بلوائے اس کی روزانہ کی سیل کسی بھی طرح لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے کم نہیں، دس فیصد بھی بچے تو روزانہ پندرہ ہزار روپے اور مہینے کے ساڑھے چار لاکھ روپے کما رہا ہے  جو سال کے 54 لاکھ روپے بنتے ہیں، اب ایسے تاجر بھائی کے لئے حکمران اس لئے پریشان ہو جاتے ہیں کہ عام غریبوں کی طرح یہ بے آواز نہیں،  سڑکیں جام کر دیتے ہیں، دکانیں بند کر کے احتجاج کرتے ہیں، اجتماعی طور پر دھمکی دیتے ہیں کہ ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو بجلی کے بل نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) تو ویسے بھی تاجروں کی پسندیدہ جماعت سمجھی جاتی ہے اس لئے ان پر بجٹ میں فکس ٹیکس لگا ہے تو ایک ہلچل سی مچی ہوئی ہے۔ عام آدمی پر چاہے جتنا بھی بوجھ لاد دو کسی کو خیال نہیں آتا کہ اس کے لئے آواز اٹھائے۔

اسی بجلی کے بل کو دیکھ لیں، اس میں اتنے ٹیکس لگے ہوئے ہیں کہ گنتے گنتے بندہ تھک جاتا ہے، کچھ سمجھ نہیں آتا یہ ٹیکس کس حساب سے اور کیوں لگائے گئے ہیں، یہ سارے ٹیکس بڑے سے بڑا سیٹھ بھی ادا کرتا ہے اور چھوٹے سے چھوٹا مزدور بھی،  اتنے کی بجلی نہیں ہوتی جتنے اس پر ٹیکس لگ جاتے ہیں،  بجلی کی قیمت تو ظاہر ہے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو منتقل ہو جاتی ہے لیکن یہ ٹیکس تو حکومت کے خزانے میں جاتے ہیں اور پھر نجانے کہاں چلے جاتے ہیں جولائی کے بل جس جس کو ملے ہیں اس کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ 30روپے کا یونٹ چارج ہوا ہے پھر ایف اے پی سرچارج کا رگڑا علیحدہ ہے۔ معاملہ یہ نہیں کہ جو طبقہ شور مچائے اسے چپ کرانے کے لئے ٹیکس واپس لے لیا جائے، دیکھنا یہ چاہئے کہ کون ادا کر سکتا ہے اور کون اپنی محدود آمدنی کے باعث ادا کرنے سے قاصر ہے، تاجروں کے پاس یہ سہولت موجود ہے کہ وہ پانچ روپے لٹر پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو 10روپے فی لٹر قیمت بڑھا دیتے ہیں۔ ہمارے ایک پروفیسر صاحب ہیں وہ کہا کرتے ہیں کہ اگر آپ نے بھوکے نہیں مرتا تو کریانے کی دکان کھول لیں، گھر مفت چیزیں آئیں گی ا ور ان کا بل عام گاہکوں سے وصول کیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں اگر مختلف طبقے خود کو ٹیکسوں سے اسی طرح مستثنیٰ قرار دلاتے  رہیں گے تو یہ ملک کیسے چلے گا؟ مفتاح اسماعیل نے یہ بات درست کہی ہے کہ ملک کی جو معاشی حالت ہے اس میں ہر شخص کو ٹیکس دینا پڑے گا، یہاں حالت یہ ہے کہ لاکھوں روپے کمانے والے دکاندار بھی گوشوارے نہیں بھرتے، ٹیکس دینے سے ان کی جان جاتی ہے۔ ایف بی آر کے کسی بندے کو رشوت دے کر منہ بند ضرور کرا دیں گے مگر ٹیکس نیٹ میں نہیں آئیں گے۔ حکومت نے اس بار بجٹ میں ایک اچھی کوشش کی کہ تاجروں کو ٹیکس گوشوارے بھرنے اور ٹیکس بنکوں میں جمع کرانے کی جھنجھٹ سے نجات دی کہ بجلی کے بلوں میں ان سے ٹیکس وصول کر لیا جائے اصولاً تو تاجر طبقے کو اس پر خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تھا کہ ایک سادہ نظام نافذ ہو گیا۔ ملک کو اس وقت پیسے کی اشد ضرورت بھی ہے،  دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں جس سے بچنے کے لئے ہر ایک پاکستانی کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے مگر نہیں صاحب ہم میں سے ہر کوئی یہ تو چاہتا ہے کہ ملک خوشحال ہو جائے، یہاں دودھ کی نہریں بہنے لگیں، ڈالر ٹکے ٹوکری ہو جائے، روپیہ پہلوان نظر آئے لیکن جب اس مقصد کے لئے حصہ ڈالنے کی بات کی جائے تو سب پچھلی صفوں سے کھسک جائیں گے۔ مریم نواز نے تاجر بھائیوں کے لئے آواز تو اٹھا دی ہے،  باقی غریب غرباء بھی مہنگائی اور بجلی کے بلوں سے بہت تنگ ہیں، ان کے لئے کون آواز اٹھائے گا؟ بہتر تو یہی تھا مریم نواز تاجر بھائیوں کو یہ پیغام دیتیں کہ وہ اس مشکل وقت میں ملک کی خاطر قربانی دیں، قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ معیشت بحران سے نکل سکے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور اپنے مفتاح بھائی کو تاجر بھائیوں کے لئے مشکل میں ڈال دیا۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں