31

عمران خان پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ



عمران خان، پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ

 الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس پر تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز حاصل کئے۔ پی ٹی آئی نے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، اسرائیل سے فنڈ وصول کئے۔ پی ٹی آئی نے 16اکاؤنٹس چھپائے عمران خان نے بحیثیت سربراہ پارٹی جھوٹے سرٹیفکیٹ جاری کئے۔ اس موضوع پر تفصیلاً لکھنا ابھی شاید ممکن نہیں ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے تین ممبران پر مشتمل کمیشن نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا ہے جو 70 صفحات پر مشتمل ہے فیصلے کی تفصیلات میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں مکمل فیصلہ ابھی ہماری دسترس میں نہیں ہے اور کالم لکھنے  کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے اس لئے فیصلے کے حوالے سے کلی تبصرہ  پیش خدمت نہیں کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق عمران خان اور ان کی پارٹی فنڈز کے حصول کے لئے غیر آئینی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔ ان کی پارٹی کے سرکردہ افراد ایسے اکاؤنٹس چلانے کے حوالے سے مجرم قرار پائے ہیں جو صریحاً غیر قانونی تھے۔ عمران خان بطور پارٹی سربراہ نہ صرف ایسی سرگرمیوں میں خود ملوث رہے بلکہ دیگر ایسے پارٹی اہلکاروں / عہدیداروں کے سہولت کار بھی رہے جو اسی قسم کی غیر آئینی و غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ عمران خان نے 2008ء اور 2013ء کے دوران الیکشن کمیشن میں ایسے حلف نامے جمع کرائے جو بالکل غلط اور جھوٹے ثابت ہوئے…… وغیرہ وغیرہ۔

فیصلے میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جنہیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی پارٹی کو غیر آئینی و غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اماراتی شیخ سے خطیر رقم کی براستہ عارف نقوی، پی ٹی آئی اکاؤنٹس میں منتقلی کسی محبت یا انسانی جذبے کے تحت نہیں تھی بلکہ طے شدہ معاملہ تھا کہ اس فنڈ کے بدلے عمران خان کیا ”خدمت“ سرانجام دیں گے اور انہوں نے ایسا ہی کیا عمران خان نے 2018ء میں اقتدار سنبھالتے ہی سب سے بڑا فیصلہ کون سا کیا تھا؟ شاید قارئین کو یاد ہوگا کہ انہوں نے سی پیک پر نظرثانی کرنے کا کہا تھا اور انہوں نے ایسی نظر ثانی کی کہ 44ماہی دور حکمرانی میں سی پیک آگے نہیں بڑھ سکا ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات گوادر پورٹ کے فنکشنل ہونے اور سی پیک کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی مرکز بننے کے خلاف ہیں۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ سی پیک کی کامیابی کے نتیجے میں دبئی کی بالخصوص اور خلیجی ممالک کی بالعموم معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوں گے اس لئے وہ سی پیک کی راہ میں روڑے اٹکاتے چلے آ رہے ہیں۔ عمران خان اور ان کی پارٹی نے اس حوالے سے ”انتہائی مثبت“ کردار ادا کیا۔

دوسری طرف بھارت، اسرائیل اور ایسے ہی دیگر اسلام دشمن، مسلمان دشمن اور پاکستان دشمن ممالک پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہیے ہم نے دیکھا اور دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان اور ان کی پارٹی ایک عرصے سے ”میں نہ مانوں“ اور ”انکار“ کی پالیسی کے تحت ملک میں سیاسی اور معاشرتی ہلچل مچائے ہوئے ہے۔ عمران خان طے شدہ پالیسیوں کے مطابق ایک سکیم کے تحت ملک میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔ جھوٹ اور مکر کی سیاست کے فروغ اور دشنام کی زبان کے ساتھ وہ ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں۔ سیاستدانوں کی بالعموم اور شریفوں اور زرداریوں کی بالخصوص کرپشن کے تذکرے اور انہیں بُرے بُرے ناموں سے پکارنے کی روایات کے فروغ کے ذریعے وہ معاشرے میں تقسیم کے عمل کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہیں انہیں ایسا کچھ کرنے میں کامیابی بھی ملی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنی صلاحیتوں کو لاہا بھی منوا لیا ہے۔ جھوٹ سچ پر مبنی اپنی طویل تقاریر کے ذریعے وہ اپنے  پرستاروں پر سحر بھی طاری کر لیتے ہیں۔ مخالفین کو گالی گلوچ اور غیر اخلاقی حربوں کے ذریعے کمزور کرنے میں بھی وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انہوں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت طویل جدوجہد کے ذریعے معاشرے میں افتراق و انتشار کے صرف بیج ہی نہیں بوئے بلکہ ان کی آبیاری بھی کی ہے اور وہ اب درخت بن کر ہمارے سامنے آ چکے ہیں۔ اس لئے غیر ملکیوں اور پاکستان دشمن ممالک کی طرف سے عمران خان اور ان کی پارٹی کو فنڈنگ سمجھ میں آتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 13ایسے اکاؤنٹس کا بھی ذکر ہے جنک کی شناخت نہیں ہو سکی ہے یعنی پی ٹی آئی ان اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دے سکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں 34غیر ملکی کمپنیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان غیر ملکی کمپنیوں کی عمران خان اور ان کی پارٹی میں کیا دلچسپی تھی اور کیوں تھی؟ ظاہر ہے بھارت اسرائیل و دیگر ممالک اور غیر ملکی کمپنیاں عمران خان اور ان کی پارٹی کو ریاست مدینہ کے قیام کے لئے تو یہ فنڈ مہیا نہیں کر رہے تھے۔ پاکستان میں انصاف و عدل کی حکمرانی کا قیام بھی ان کا مطمع نظر نہیں ہوگا۔ یہ  سب کچھ تو عمران خان عوام کو دھوکہ دینے اور بے وقوف بنانے کے لئے کرتے رہے ہیں ان کی تمام عملی سرگرمیاں اس بات  کی دلالت کرتی رہی ہیں کہ وہ ایک خاص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کی کامیابی کے نتیجے میں پاکستان افتراق و انتشار کا شکار ہو اور عملاً ایسا ہو بھی رہا ہے۔ پاکستان اس وقت جس شدید ترین سیاسی افتراق و انتشار کا شکار نظر آ رہا ہے کیا عمران خان اس کے بہت بڑے ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا ان کی حرکات ہماری سیاست کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لانے کی ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا پاکستان کی سفارتی تنہائی کے ذمہ دار عمران خان نہیں ہیں؟ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ ہم طویل عرصے سے امریکی اتحادی رہے ہیں۔ ہماری معیشت اور دفاع بھی امریکی عنائیات کا مرہون منت ہے۔ چین ہمارا قابل بھروسہ دوست ہے اور سی پیک ہمارے لئے، ہماری بین الاقوامی سیاست کے لئے ہماری معیشت کے لئے انتہائی اہم ہے۔ یہ ایسے حقائق ہیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں لیکن عمران خان نے امریکہ کو للکار کر ہمیں اس کے دشمنوں کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اور سی پیک پر عمل درآمد روک کر چین کے ساتھ دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح ہم نہ صرف سفارتی سطح پر کمزور ہوئے بلکہ ہمیں معاشی طور پر بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آج ہماری معیشت جس تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی ہے کیا اس میں عمران خان اور ان کی پارٹی کا عمل دخل نہیں ہے۔ عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرکے اس کی شرائط کے برعکس کام کرکے آئی ایم ایف پروگرام میں خلل پیدا کیا یہ خلل ابھی تک چل رہا ہے جس کے باعث ہم شدید معاشی بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں