24

 عمران خان سچ کہتا تھا (2)



 عمران خان سچ کہتا تھا (2)

 آرمی چیف کے وینڈی شرمن کو ٹیلی فون کرنے کی خبر صرف ”ڈان“ میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام قابلِ ذکر انگریزی / اردو روزناموں میں شائع ہوئی۔ اندازِ نگارش اپنا اپنا تھا مثلاً ایکسپریس ٹریبون نے بھی اسے صفحہ اول کی شہ سرخی بنایا اور ساتھ ہی بعض دیگر تفاصیل بھی درج کیں جو ”ڈان“میں نہیں تھیں۔ مثال کے طور پر یہ بھی لکھا کہ واشنگٹن فون کرنے سے پہلے آرمی چیف کی ملاقات وزیراعظم، وزیر خزانہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ پاشا سے بھی ہوئی اور طے پایا کہ یہ فون کیا جائے۔

آرمی چیف کی اولین ذمہ داری تو ان کی آرمی ہے۔ جب ملک میں صرف 9ارب ڈالر خزانے میں رہ جائیں تو ان سے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو ماہ کا خرچہ نکل سکتا ہے۔ بعض درآمدات ناگزیر ہوتی ہیں۔ اگر مہنگی گاڑیاں اور خواتین کے میک اَپ کا سامان تعیشات میں شمار ہوتا ہے تو جان بچانے والی ادویات اور وہ پرزے جو کئی عسکری ہتھیاروں میں استعمال ہوتے ہیں ان کی درآمد بھی تو ایک ناگزیر حقیقت بن جاتی ہے۔ اس کے لئے اگر زرمبادلہ نہ ہو گا تو فوج کی روزمرہ کی ضروریات رک کے رہ جائیں گی۔ ان کو خریدنے کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ فوج کی تنخواہیں، پنشن، راشن، ہسپتالوں کے اخراجات، گولہ بارود اور ایسی ٹیکنیکل اشیائے صرف جو پاکستان بیرونی ملکوں سے منگواتا ہے ان کی آمد بھی رک کے رہ جائے گی۔ بطور آرمی چیف جنرل باوجوہ کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ ان معاملات پر بھی نگاہ رکھیں۔ دوسرے لفظوں میں جنرل صاحب کو واشنگٹن سے رابطے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ ان کی اپنی فوجی ضرورت تھی۔ ہرچند کہ ملک کی غیر فوجی ضروریات بھی بہت ہنگامی نوعیت کی ہوتی ہیں لیکن جب ملک کا وزیراعظم اور وزیر خزانہ ہاتھ کھڑے کر دیں تو یہ ایک نہایت تشویش انگیز بات ہو گی۔ جب وزیراعظم، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں جا کر یہ کہیں کہ ”میں مانگنے نہیں آیا لیکن مجبوری ہے“۔۔۔۔ تو یہ مانگنے کی ارجنسی سے بھی ارجنٹ لمحہء فکریہ ہے۔ چنانچہ تھک ہار کر ملک کے چیف ایگزیکٹو کو اپنے آرمی چیف سے یہ درخواست کرنی پڑی کہ ”لِلّہ کچھ کیجئے“!۔۔۔ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ ان کا ”انتظامی بورڈ“ تین ہفتے کی رخصت پر ہے اور اگست کے آخری ایام میں واپس آئے گا۔ لیکن محاورۃً جب ان تین ہفتوں میں عراق سے تریاق آئے گا تو مارگزیدہ شاید زندہ نہ رہے اور جب زندگی اور موت کا سوال ہو تو لینے والے ملک کے آرمی چیف کا سٹیٹس دینے والے ملک کی نائب وزیر خارجہ سے خواہ کتنا ہی سینئر ہو، یہ تلخ گولی نگلنی ہی پڑتی ہے۔

ایک غیر مند پاکستانی کی حیثیت سے مجھے بھی اس خبر نے کافی پریشان کیا اور رہ رہ کر عمران خان کی وہ بات یاد آئی جو وہ گزشتہ تین چار ماہ کے عوامی جلسوں میں بار بار کہتے رہے اور یہ بھی کہا کہ: ”میں خود فوج کے اربابِ اختیار کے پاس گیا اور اپنے وزیرِ خزانہ شوکت ترین کو بھی بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ اس موقع پر اگر تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہوئی اور حکومت تبدیل کی گئی تو اس سے ملک کو بہت نقصان ہوگا۔ سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے تھی اور ہم ان ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھے جو دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر کھڑے ہیں لیکن پھر بھی وہ لوگ جو تبدیلیء حکومت میں ایک رول ادا کر سکتے تھے، ٹس سے مس نہ ہوئے“۔ عمران کی یہ وارننگ جو وہ اپنی عوامی تقاریر میں درجنوں بار دہراتے رہے میرے درِ دماغ پر دستک دے کر بار بار یاد دلاتی رہیں کہ ”عمران خان سچ کہتا تھا۔“

ہمارے وزیر خزانہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ”ہم نے مشکل فیصلے کرکے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے“…… ان کو شاید یہ ادراک بھی ہے یا نہیں کہ ملک تو بچ گیا ہے لیکن ملک جن عناصر سے ترکیب پاتا ہے ان عناصر اربعہ میں ملک کی آبادی (عوام) تو دیوالیہ ہو گئی ہے!

ایکسپریس ٹریبون نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”ملک کی سویلین اور ملٹری لیڈرشپ نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ اگر IMF ایک ارب 17کروڑ ڈالر کی قسط جاری نہیں کرے گا تو دوسرے مالیاتی ادارے (ورلڈ بینک و دیگر) چار ارب ڈالر کا وہ قرض نہیں دیں گے جو آئی ایم ایف کے اجرائے قسط سے مشروط ہے۔ ملک کی سویلین قیادت (کابینہ) اس بات کی منظوری بھی دے چکی ہے کہ پاکستان کے وہ گراں بہا اثاثے جو ملک کے باہر موجود ہیں اور ان سے زرِمبادلہ حاصل ہوتا ہے ان کو عرب ملکوں کو فروخت کر دیا جائے۔۔۔۔ میرے نزدیک وفاقی کابینہ کا یہ فیصلہ ان کی عقلی تہی دامنی اور قومی غیرت کے افلاس کا آئینہ دار ہے۔ یہ کابینہ اپنی ”نوکری“ بچانے کے لئے ملک کے ان اثاثوں کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے جن کی فروخت سے قوم کا مورال گھٹنوں میں جا گرے گا۔ یہ بات ایک مثال بن جائے گی کہ وہ واحد اسلامی ملک جس کے پاس جوہری اثاثے بھی تھے، وہ اُن اثاثوں کو بھی بیچ کھا گیا جو ملک کے اندر یا باہر تھے لیکن اس کے قومی وقار کا نشان بھی تو تھے۔ میں اکثر یہ بھی سوچتا ہوں کہ دنیا کے باقی 56 مسلم ممالک جن کے پاس اربوں ڈالر کے ذخائر موجود ہیں ان کو اپنے ہم مذہب ایسے ملک کو اس معاشی دلدل سے نکالنے کا خیال نہیں آتا جو اسلام کے نام پر بنا تھا، جہاں لاکھوں ہزاروں مساجد اور امام باڑے ہیں اور جہاں کروڑوں قاری اور حفاظ دن رات تلاوتِ قرآن و حدیث میں مشغول و منہمک رہتے ہیں!۔۔۔۔ کیا یہ حفاظ اور قاری رب العالمین کی بارگاہ میں سربسجود ہو کر یہ دعا نہیں مانگتے کہ پروردگار! اس ملک کو شاد و آباد رکھ، اس مرکزِ یقین کی حفاظت فرما اور اس پر اپنا سایہء ذوالجلال قائم رکھ اور پھر اقبال کی یہ وارننگ بھی یاد آتی ہے:

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی

اے پیرِ حرم! تیری مناجاتِ سحر کیا؟

اللہ کریم نے تو قرآنِ حکیم میں فرما رکھا ہے ”ہم اس ملک و قوم کے حالات اس وقت تک نہیں بدلتے جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہیں بدلتی“۔ خدا مسلم اور غیر مسلم کی دعاؤں میں امتیاز روا نہیں رکھتا۔ اہلِ مغرب سارے کے سارے ہم گنہ گاروں کے مقابلے میں نہایت پارسا اور نکوکار ہیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھ لینے، روزہ رکھ لینے، زکوٰۃ دینے اور توحید کا پرچم بلند رکھنے کے باوجود بھی اگر ہم سزا وارِ خوش نصیبی نہیں تو ہم کو اہلِِ مغرب کے ”گناہ گاروں“ کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہم اگر موت کے بعدکسی ”حور و قصور“ کی تمنا سینوں میں بسائے بیٹھے ہیں تو کیا موت  سے پہلے حور و قصور سے ’فیض یاب‘ نہیں ہو سکتے؟

”نِکّی ایشیا“ کا ذکر پہلی قسط میں کر چکا ہوں۔ ہمارے اخبارات (ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، دی نیوز اور نیشن کے علاوہ اردو کے سارے بڑے بڑے اخبارات) نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی اینڈی شرمن سے گفتگو کو اپنے صفحاتِ اول پر شائع کیا ہے جس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ مغربی دنیا، پاکستان کی مالی حالتِ زار و زبوں سے باخبر ہے اور اس حد تک باخبر ہے کہ وہ پاکستان آرمی چیف کی اس گفتگو کو ایک فلیش نیوز سمجھتی ہے جو انہوں نے امریکہ کی ایک جونیئر نائب وزیرِ خارجہ سے کی ہے۔ نِکی ایشیا کی یہ رپورٹ خاصی لمبی چوڑی ہے۔ اس کے ایک دو پیرا گرافس یہ بھی ہیں: ”اگر پاکستان جو آج کل بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اس کا مقابلہ سری لنکا سے کیا جائے تو اس پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں جس کی آبادی 22کروڑ ہے جس کی سرحدیں چین، انڈیا، ایران اور افغانستان سے ملی ہوئی ہیں جس کو اندرونی سازشوں اور انسرجنسیوں کا سامنا ہے اور جو بحرہند اور خلیج فارس کے سنگم پر بیٹھا ہے۔ پاکستان کے سویلین اربابِ اختیار جب اپنی سی کوششیں کر چکے لیکن ان کی کوئی شنوائی IMF کے ایگزیکٹو بورڈ سے نہ ہوئی تو ناچار جنرل باجوہ کا دامن پکڑنا پڑا جو 650,000 فوج کے کمانڈر ہیں۔ مسٹر حسین حقانی جو واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں اور آج کل واشنگٹن میں جنوبی اور وسطی ایشیاء کے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ: ”جنرل باجوہ کا یہ فون اس امر کا غماز ہے کہ دنیا کے بااثر حلقے یہ رائے رکھتے ہیں کہ پاکستان میں فائنل اتھارٹی صرف پاک آرمی کے چیف کے پاس ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں اس وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے کہ پاکستان کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ وہ IMF سے کئے ہوئے وعدوں کا پاس نہیں کرتا۔ اگر حکومت پاکستان نے یہ مہینہ (اگست) کسی نہ کسی طرح گزار لیا تو شاید پاکستان کی اقتصادی حالت کو کچھ سنبھالا مل جائے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ پاکستان کو سعودی عرب اور چین سے بھی امداد ملنے کی توقع ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے ان دونوں ملکوں کا دورہ بھی حال ہی میں کیا تھا۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ٹاپ ملٹری لیڈرشپ بین الاقوامی امداد دینے والے اداروں اور سفارت کاروں سے بات چیت نہیں کرتی۔ لیکن پاکستان میں تو کوئی چیز بھی ’نارمل‘ نہیں سمجھی جاتی“۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں