19

  عمران خان سچ کہتا تھا (1)



  عمران خان سچ کہتا تھا (1)

 آج سے دو دن پہلے بروز ہفتہ (30اگست 2022ء) پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے ”ڈان“ کے صفحہء اول پر ایک خبر چھپی ہے جس کے عنوان کا اردو ترجمہ یہ ہے: ”آرمی چیف اقتصادی سیکیورٹی کے معاملے میں امریکہ سے رجوع کرتے ہیں“۔ اس خبر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن (Wendy Sherman) کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔ یہ سٹوری واشنگٹن سے انور اقبال نے اپنے اخبار (ڈان) کو بھجوائی ہے۔ صحافی برادری جانتی ہے کہ انور اقبال کا صحافیانہ قد کاٹھ کیا ہے اور ان کو امریکی حلقوں (بالخصوص وزارتِ خارجہ کے ایوانوں) میں کس حد تک رسائی اور پذیرائی حاصل ہے۔

ڈان کے تعلقات ”ڈان لیک“ کے معاملے پر پاک فوج کے ساتھ کشیدہ چلے آتے ہیں۔ اس اخبار کی تقسیم و ترویج آرمی یونٹوں اور فارمیشنوں میں اسی وقت سے ممنوع ہے۔ لیکن یہ موضوع خاصا گنجلک ہے۔ اس کی گہرائیاں اور گیرائیاں جاننے والے قارئین وہ ہیں جو گزشتہ چار پانچ عشروں سے اس اخبار کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس کی شہ سرخیاں اور خبروں کے عنوانات میں افواجِ پاکستان کے بارے میں جو تلخ تنقیدات ایک ملفوف انداز میں نیم ظاہر اور نیم پوشیدہ ہوتی ہیں، ان کا عرفان و ادراک ہر کہ د مہ کو نہیں ہوتا۔ ایک بہت کم اور ’خاص‘ حلقہء قارئین ایسا ہے جو اس اخبار کی خبروں اور ان کی گسترش (Layout) سے شناسائی پا سکتا ہے۔ تاہم یہ اخبار مغربی صحافتی حلقوں اور نیز انڈیا میں نہایت قبولیت کا حامل ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔

میں سن 80ء کے عشرے سے اس اخبار کا ریگولر قاری ہوں۔ میں جب GHQ میں تھا تو ان 12برسوں میں میرے دفتر میں بھی جو ’سرکاری‘ اخبار آتے تھے ان میں ڈان اور جنگ شامل تھے۔ مجھ پر ہی کیا منحصر سارے GHQ اور اس کی فیلڈ فارمیشنوں میں آرمی آفیسرز کی برادری میں اس روزنامے کو ایک خاص مقام اور احترام حاصل تھا۔ لیکن وقت تو بدلتا رہتا ہے۔ پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کسی ملک کا بھی ہو اس کی سیاسی خبریں ’حبِ وطن‘ کے جذبے سے سرشار ہوتی ہیں لیکن یہ تخصیص پاکستان ہی کو حاصل ہے کہ اس کا میڈیا حبِ وطن کی بجائے حبِ زر کو فوقیت دیتا ہے۔

ڈان میں چھپنے والی اس خبر کے عنوان کے بعد دو عدد ڈیک بھی جلی الفاظ میں لکھے ہوئے ہیں جن کا اردو ترجمہ یہ ہے:

1۔باجوہ۔ شرمن گفتگو آئی ایم ایف (IMF) قسط کی جلد ریلیز کے بارے میں جس کا ذکر ”نکّی ایشیاء“ میں ملتا ہے۔

2۔چیف آف آرمی سٹاف اور امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے چیفس، سیکیورٹی ڈسکس کرتے ہیں۔

اس کے بعد اصل خبر کا متن شروع ہوتا ہے۔ اس کے چند پہلے پیراگرافس کا ترجمہ یہ ہے:

”میڈیا رپورٹیں اور سرکاری بیانات کے مطابق پاکستان ملٹری کے ہیڈ نے واشنگٹن سے درخواست کی ہے کہ آئی ایم ایف کو کہا جائے کہ وہ پاکستان کو فنڈ جاری کرنے میں تاخیر نہ کرے اور اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کرے“۔

”نیویارک سے ایک اخبار شائع ہوتا ہے جس کا نام نکّی ایشیا (Nikkei Asia) ہے اس نے خبر دی ہے کہ پاکستان کے گرتے ہوئے فارن ریزروز اب اس حد تک کم ہو چکے ہیں کہ اسلام آباد کو (امریکہ کی طرف)دوڑ لگانی پڑی ہے کہ اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے“۔

”رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ نے امریکی نائب وزیر خارجہ کو فون کیا ہے۔ ان کا یہ فون پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ عاصم افتخار جو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہیں جب ان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن کے درمیان ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسلام آباد کے صحافیوں کو جمعہ کے روز بتایا کہ ’مجھے یہ تو معلوم ہے کہ یہ گفتگو ہوئی ہے لیکن اس مرحلے میں مَیں اس پوزیشن میں نہیں ہوں اور مجھے اس کا کوئی براہِ راست علم بھی نہیں کہ اس گفتگو کے مندرجات کیا تھے۔ جب ڈان نے امریکی وزارتِ خارجہ سے اس گفتگو کی تفصیل جاننا چاہی تو وہاں کے ترجمانوں نے بھی یہ کہا کہ ’امریکی اہلکاروں اور پاکستانی اہلکاروں کے درمیان بہت سے معاملات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ اور ہماری سٹینڈرڈ پریکٹس یہ ہے کہ ہم ان نجی سفارتی گفت و شنید پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے“۔

درجِ بالا پیراگرافوں میں مَیں نے اخبار ڈان کی اس خبر کا ترجمہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد اخبار لکھتا ہے کہ اس ماہ (جولائی 2022ء) کے اوائل میں وزیراعظم (شہباز شریف)کے ایک مشیر طارق فاطمی کی ملاقات وینڈی واش سے ان کے دفتر میں ہوئی تھی اور انہوں نے یہ پیغام وینڈی واش کو پہنچا دیا تھا۔ بعد میں دونوں فریقوں (پاکستان اور امریکہ) نے دو الگ الگ بیانات دیئے اور کہا کہ طارق فاطمی اور وینڈی واش کی ملاقات میں پاکستان کے معاشی معاملات پر بحث ہوئی تھی۔

”نکّی ایشیا“ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ جنرل باجوہ نے وائٹ ہاؤس اور وزارت خزانہ سے اپیل کی کہ IMF پر زور دیا جائے کہ وہ 1.2ارب ڈالر کی وہ قسط فوری طور پر جاری کرے کہ جو ”لون پروگرام“ (Loan Program) کے تحت اسے دی جانی ہے۔ نِکّی ایشا کی اس رپورٹ میں یہ امر بھی واضح کیا گیا کہ موجودہ پاکستانی حکومت کا اعتبار و اعتماد (Credibility) اس درجے کا نہیں ہے اور اس کی سیاسی حکمرانی بھی صرف اسلام آباد تک محدود ہے اور اس حکومت کو اپنے سابق حریف عمران خان، جن کو حکومت سے ہٹایا گیا تھا، کے مسلسل دباؤ کا سامنا بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں (امریکہ میں) کے مبصر یہ کہتے ہیں کہ اصل طاقت جنرل باجوہ کے پاس ہے جن کی عمر 61 برس ہو چکی ہے اور وہ اپنی تین سالہ ملازمتی توسیع کے بعد نومبر (2022ء) میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ نِکی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ IMF نے پاکستان کو اس 1.2ارب ڈالر قرضے کی صرف ”سٹاف لیول“ منظوری دی ہے اور جہاں تک اس قسط کے اجراء کا سوال ہے تو یہ اسی وقت جاری کی جائے گی جب قرضہ دینے والا بورڈ اس کی فائنل منظوری دے گا۔ آئی ایم ایف بورڈ تین ہفتے کی رخصت پر ہے اور اگست 2022ء کے اواخر میں اکٹھا ہو سکے گا اور پاکستان کو قرضے کی اس قسط کی ادائیگی اسی وقت (اواخر اگست) ہی کی جا سکے گی۔

امریکی وزارت خارجہ نے جمعرات (28جولائی 2022ء) کو یہ بیان بھی جاری کیا تھا کہ وہ اس موضوع پر پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں اور وہ کسی ایک پاکستانی سیاسی پارٹی کو دوسری سیاسی پارٹی پر ترجیح نہیں دیتی۔ مسٹر ڈونالڈ لُو (Donald Lu) جو امریکہ میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے سربراہ ہیں، ان پر پی ٹی آئی الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے عمران خان کی حکومت گرانے میں ایک سازشی کردار ادا کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اور امریکی (ترجمانِ وزارتِ خارجہ) نیڈ پرائس سے پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی کا کوئی ترجمان مسٹر لُو (Lu) سے ملا ہے اور اس نے کہا ہے کہ ”ماضی کو فراموش کریں اور آگے بڑھیں) تو پرائس کا کہنا تھا کہ وہ اس موضوع پر کچھ اور کہنا نہیں چاہتے اور کہا کہ ہم پاکستان کی کسی ایک سیاسی پارٹی کو دوسری سیاسی پارٹی پر ترجیح دینے کے حق میں نہیں۔

جنرل باجوہ اور جنرل مائیکل ایرک کوریلا جو امریکی سنٹرل کمانڈکے کمانڈر ہیں ان کے درمیان بھی گفتگو ہوئی اور دونوں نے علاقائی سلامتی اور باہمی مفادات کے موضوع پر بات چیت کی اور اس کے علاوہ دیگر دفاعی امور بھی زیر بحث آئے۔

قارئین گرامی! درج بالا سطور میں ڈان کی خبر کا اردو ترجمہ دیا گیا ہے۔ نِکّی ایشا نے جو تبصرہ کیا ہے اور نیز میرا ذاتی تبصرہ اس موضوع پر انشاء اللہ اگلے کالم میں۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں