32

  عمران خان بھٹو اور نواز شریف



  عمران خان، بھٹو اور نواز شریف

تحریک انصاف کے خلاف اس کے اپنے ہی ایک بانی رکن اکبر ایس بابر کی دائر کردہ درخواست بالآخر نبٹا دی گئی ہے۔گزشتہ آٹھ سال اس کی سماعت جاری رہی، تحریک انصاف کے کئی وکیل بدلے گئے، کئی عدالتوں میں درخواستیں دائر ہوئیں، کئی بار سماعت رکی اور کئی بار چلی۔چل چل کر رکتی یا رک رک کر چلتی رہی اور آخر وہ دن آ گیا جب چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اتفاق رائے سے یہ اعلان کر دیا کہ اکبر ایس بابر کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کے حصول کی ذمہ دار قرار پائی ہے۔اس پر برسر اقتدار جماعتوں نے شادیانے بجانے شروع کر دیے اور تحریک انصاف کے ذمہ داروں نے اپنا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ الیکشن کمیشن پر شدید غم و غصے کا  اظہار کیا جانے لگا، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے مطالبے میں نئی شدت آ گئی، انہیں مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا کہ انہوں نے دوسری سیاسی جماعتوں (مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی) کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ کیوں نہیں سنایا؟ انہیں کچھ ہی عرصہ پہلے جناب فرخ حبیب نے دائر کیا تھا اور ان کا مقصد یہی تھا کہ تحریک انصاف کے حریفوں کو  بھی کٹہرے میں لایا جائے۔اس مطالبے میں تو وزن ہے کہ ان جماعتوں کے حسابات کی چھان بین ہونی چاہیے اور اگر انہیں بھی ممنوعہ فنڈنگ کے حصول کا مرتکب پایا جائے تو اُسی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جانا چاہیے، جہاں تحریک انصاف کھڑی ہے لیکن یہ مطالبہ کہ ساری درخواستوں کا فیصلہ بیک وقت کیا جائے، کوئی وزن نہیں رکھتا۔اس لیے کہ ہر جماعت کا معاملہ الگ الگ ہے، حسابات الگ الگ ہیں،ان کی چھان پھٹک بھی الگ الگ ہونی چاہیے اور ہو بھی رہی ہے۔ پھر یہ کہ تحریک انصاف کا معاملہ آٹھ سال سے زیر سماعت ہے جبکہ دوسری جماعتوں کے خلاف درخواستیں بعد میں دائر کی گئی تھیں، تحریک انصاف کے خلاف درخواست گزار اس کا ایک بانی رکن ہے جبکہ دوسری جماعتوں کے معاملات کو ان کے سیاسی حریفوں نے چیلنج کر رکھا ہے۔اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ ایک ہی الزام کی پاداش میں ملزم ٹھہرائے جانے والے تمام افراد کے مقدمات بیک وقت سنے جائیں تو پھر عدالتی نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے گا کہ ہر ملزم یہ مطالبہ کرنے لگے گا کہ اُس جیسے تمام ملزموں کے تمام مقدمات تمام عدالتیں ایک ہی وقت میں سنیں،ایسا نہ کبھی ہوا ہے، نہ ہو سکے گا،نہ ہو سکتا ہے۔یہ مطالبہ مانا نہیں جا سکتا تھا،سو اسے مانا نہیں گیا۔البتہ یہ ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن جلد از جلد دوسری جماعتوں کے حسابات کی سکروٹنی بھی مکمل کرے تاکہ کوئی بچ کر نہ جانے پائے، جس نے جو کچھ اور جتنا کچھ کیا ہے، اس کی اتنی سزا پائے اور اگر کچھ نہیں کیا تو اسے کلین چٹ جاری کی جائے تاکہ وہ امن و سکون سے اپنا کام جاری رکھ سکے۔

سب سے دلچسپ بات تحریک انصاف کے بعض ذمہ داروں کی طرف سے یہ کہی گئی کہ الیکشن کمیشن نے عجلت میں فیصلہ کیا ہے حالانکہ اکبر ایس بابر کی درخواست 14نومبر 2014ء کو دائر کی گئی تھی اور یکم اپریل2015ء کو تحریک انصاف کو اپنا موقف پیش کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا رہا، وہ ہماری عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی دلچسپ باب ہے، کبھی الیکشن کمیشن کے اختیار سماعت کو چیلنج کیا گیا تو کبھی سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس رکوانے کی کوشش کی گئی، کبھی اس کی کارروائی خفیہ رکھنے کی استدعا کی گئی تو کبھی کوئی اور درخواست دائر کر دی گئی،ایک سے دوسری عدالت میں معاملہ جاتا رہا اور سماعت رکتی رہی، تاخیری حربوں کی اس ٹیکنالوجی میں اگر تحریک انصاف کے وکیلوں کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے تو وہ جناب اعتزاز احسن اور جناب نیاز اے نائیک ہیں، جنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب آصف علی زرداری کے مقدمات کو طول دینے کی کامیاب کوششیں کیں  اور بڑی حد تک اپنے اہداف بھی حاصل کر دکھائے۔اگر پلڈاٹ یا کوئی دوسرا ادارہ پاکستانی عدالتوں میں اختیار کیے جانے والے تاخیری حربوں کے بارے میں پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرے اور چند ریسرچ سکالرز اِس کام پر مامور کر دیے جائیں تو ایسے حقائق سامنے آئیں گے کہ ”کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ہری ہری“۔ بہرحال الیکشن کمیشن اپنا فیصلہ سنا چکا۔پی ٹی آئی دباؤ میں آ چکی، عمران خان وضاحتیں پیش کرنے پر مجبور ہو چکے، سوال یہ ہے کہ آئندہ کیا ہو گا،اس انڈے سے کتنے اور کس طرح کے بچے نکلیں گے اور ان میں کوئی مرغا یا مرغی بن کر کٹکٹا سکے گا یا نہیں۔حکومت کی طرف سے طرح طرح کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔پی ٹی آئی کو ”فارن فنڈڈ“ پارٹی قرار دے کر کالعدم قرار دلوانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی آئی کو کسی غیر ملکی حکومت یا سیاسی جماعت نے فنڈز فراہم کیے ہیں جن سے ملکی سلامتی کو  خطرات لاحق ہوئے ہیں تبھی سپریم کورٹ میں شنوائی ہو سکے گی۔ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جسے چٹکی بجا کر حل کر لیا جائے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے تحریک انصاف کے چیئرمین کے طور پر اپنی پارٹی کے حسابات پیش کرتے ہوئے جو ڈکلیریشن دائر کیا تھا، وہ غلط قرار پایا ہے،اس لیے ان کو تاحیات نااہل قرار دلوانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا اور ان کا نواز شریف بنانے کی کوشش ہو گی۔اس نکتے میں وزن ہے لیکن اس کا فیصلہ بھی بہرحال عدالت کو کرنا ہے،انتظامیہ کو نہیں،جہاں تک حاصل کردہ ممنوعہ فنڈز کی ضبطی کا معاملہ  ہے،اس کے لیے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نوٹس جاری کر دیا ہے،اس کے نتیجے میں تحریک کو مالی صدمہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

آنے والا وقت بتائے گا کہ حکومت کیا کرتی ہے، کیا کر سکتی ہے اور عمران خان کے جوہر کس طرح کھلتے ہیں۔ عمران خان جس صورتِ حال سے دوچار ہیں وہ ملکی تاریخ میں نئی نہیں ہے۔دہائی دی جا رہی ہے کہ عمران خان کی مقبولیت سے خائف ہو کر ان کے مخالفین انہیں غیر سیاسی انداز میں راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔یہ وہی دلیل ہے جو ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو  مرحوم اور نواز شریف کے حامی دیتے اور دہراتے رہے ہیں، کیا تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا پائے گی؟ اس کا جواب ہاں میں دینا آسان نہیں ہے۔ عمران خان میدان چھوڑنے پر تیار ہیں نہ اپنے آپ کو بدلنے پر۔کاش اہل سیاست ماضی کو دہرانے کی بجائے اس سے سبق سیکھ سکیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکیں۔ کاش عمران خان اپنے حریفوں اور حریف عمران خان کو تسلیم کر کے سیاست کا کھیل  جاری رکھ سکیں،جنگ کی طرح کشتوں کے پشتے لگانے سے باز رہ سکیں لیکن آرزؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں۔

”عزیمت کے راہی“

حافظ محمد ادریس جماعت اسلامی کے صف ِ اول کے رہنما ہیں،انہوں نے بامقصد زندگی گذاری،عین  عالم ِ شباب میں اسلامی انقلاب کا جو خواب دیکھا تھا، آج بھی اس کی تعبیر تلاشنے میں مصروف ہیں۔انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا قلم بھی عطاء کیا ہے جو تاریخ اور سیاست کے خفیہ اور کھلے گوشوں کو بیان کرنے بلکہ واشگاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے ’اکابرین‘ اور رفقاء کے سوانحی خاکے مرتب کرنے کا آغاز کیااور اس سلسلے کی آٹھویں کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔اس میں 27پاکیزہ روحوں کا تذکرہ ہے، ان لوگوں کا تذکرہ جو تحریک اسلامی سے جڑے رہے اور مثال بن گئے۔ان کی یہ کتاب ہر سیاسی اور نظریاتی کارکن کو پڑھنی بلکہ یاد کر لینی چاہیے کہ زندگی ”کھاؤ کماؤ اور اڑاؤ“ کا نام نہیں، یہ اللہ کے راستے پر چلنے اور اس کی دعوت دینے کا نام ہے،اس راہ کی صعوبتوں میں بھی راحتیں ہیں،مشکلات میں بھی آسانیاں ہیں اور آزمائشوں میں بھی لذتیں ہیں۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور  روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں