31

 عمراننواز دونوں باہر ہو گئے تو؟ 



 عمران،نواز دونوں باہر ہو گئے تو؟ 

 پی ٹی آئی مشکل میں پھنس گئی ہے۔ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کی ٹانگوں نے اس کے گرد شکنجہ کس لیا ہے۔ پی ڈی ایم حکومت اس کے درپے ہے کیونکہ اسے پنجاب میں جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا حساب چکتا کرنے کا موقع اس کے ہاتھ لگ گیا ہے، نیوٹرل اسٹیبلشمنٹ اپنی نیوٹریلیٹی پر قائم ہے اور کسی کے اچھے میں ہے نہ کسی کے برے میں، اس کے برعکس اس کی ساری توجہ سیلاب زدگان کے لئے امدادی سرگرمیاں ہیں۔ پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کی حکومت بزدار سے بھی زیادہ ان پاپولر نظر آرہی ہے، لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں۔ اگرچہ میڈیا میں پی ٹی آئی کا حمائتی سرکل الیکشن کمیشن کے فیصلے کے زہر کو عوام میں پھیلنے کی کوشش کررہا ہے اور اب پی ٹی آئی کی اگلی امید سپریم کورٹ سے ہے کہ جونہی اس کی درخواست وہاں جائے گی، فوری ریلیف مل جائے گا؟ دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا اور عدلیہ کے علاوہ عوام میں پی ٹی آئی کی جڑیں کس قدر گہری ہوئی ہیں۔

اگر پی ٹی آئی کی جانب سے 25مئی کے لانگ مارچ کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی پنجاب میں وہیں کھڑی ہے جہاں وہ 2014کے لانگ مارچ کے وقت کھڑی تھی۔ تب بھی بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی کہا گیا تھا مگر تب عمران خان گوجرانوالا میں کنٹینر سے اتر کر پجارو میں سوار ہو کر اسلام آباد پہنچے تھے اور اس مرتبہ اٹک کے اس پار سے اسلام آباد کی طرف چلے تھے مگر کامیابی تب بھی نہ مل سکی تھی اور اب کے بار بھی ایسا ممکن نہ ہو سکا تھا۔ 

اگرچہ لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد پنجاب میں ہونے والے 20نشستوں پر ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے 15 نشستیں جیت کر چھکا ماردیا تھا مگر الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے نے دوبارہ سے اس لائف لائن کو معدوم کردیا ہے اور پی ٹی آئی اب پھر نئے سرے سے اپنا رنگ جمانے میں جت گئی ہے۔ 

تاہم پی ڈی ایم حکومت کے پاس ابھی بہت سے پتے موجود ہیں جن میں ایک پتہ پی ٹی آئی کو کالعدم قراردینے کے آپشن کو بروئے کار لانا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ حکومت اس کام میں کچھ زیادہ عجلت نہیں دکھائے گی اور مارنے سے زیادہ ڈرائے رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہے گی لیکن اس کا اصل چیلنج یہ ہے کہ پی ٹی آئی نومبر سے پہلے ملک میں انتخابات چاہتی ہے جس کے لئے اس نے اپنے حمائتی حلقوں کو گرمایا ہوا ہے  اس لئے حکومت کی کوشش ہوگی کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کے فیصلے میں زیادہ سے زیادہ الجھائے رکھے تاکہ پی ٹی آئی کو انتخابات بھول جائیں اور اپنے شناخت قائم رکھنے کی پڑ جائے۔ سن رہے ہیں کہ پی ٹی آئی نے تیاری کر رکھی ہے کہ اگر اس کے خلاف حکومتی ریفرنس فائل ہوگیا اور عدالت عظمیٰ نے اسے بطور سیاسی جماعت کے تحلیل بھی کردیا تو وہ اپنا نام پاکستان تحریک انصاف سے بدل کر پاکستان تحریک انقلاب کرلے گی تاکہ پی ٹی آئی کا ٹائٹل اس کے پاس برقراررہے کیونکہ بعض ایک حلقوں کا ماننا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی انتخابات میں جانے کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اندرون خانہ سروے بھی بتارہے ہیں کہ اگر آج انتخابات ہو تے ہیں تو وہ پنجاب اور سندھ سے بھی اچھی خاصی سیٹیں نکال سکتی ہے اگرچہ جو نمبر بتایا جا رہا ہے اس میں بہت سی مبالغہ آرائی کا عنصر بھی نمایاں ہے لیکن اس کے باوجود ضمنی انتخابات میں بیس میں سے پندرہ نشستیں جیت کر پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کا مکمل صفایا کردیا ہے اوراب نون لیگ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ 

یہ بالکل وہی صورت حال ہے جو بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں نوے کی دہائی کے آغاز میں نواز شریف کی تھی وہ بھی اسی طرح پاپولر ہوتے جا رہے تھے اور بھٹو کی بیٹی کی پارٹی سندھ تک سکڑتی جا رہی تھی تاہم فرق یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں نواز شریف خلائی مخلوق کے حربوں سے خوب واقف ہیں کیونکہ ایک زمانے میں وہ خود ان سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں اس لئے عمران خان کو اب زیادہ زور لگانا ہوگا وگرنہ تب میڈیا اور عدلیہ کی نواز شریف کو بھی ویسی ہی حمائت حاصل تھی جیسی اب عمران خان کو ہے۔ 

آجا کر ساری لڑائی اس نکتے پر مرکوز ہے کہ آیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہتی ہے یا وہ اسی طرح عمران خان کے ساتھ کھڑی رہتی ہے جس طرح 2014سے کھڑی ہوئی ہے۔ اگر نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل رکھنے اور انتخابات کا ڈول اپنی مرضی سے ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تو عمران خان کے لئے دوبارہ سے شیروانی پہننے کا خواب خواب ہی رہے گا جس طرح خود نواز شریف کا یہ خواب ابھی تک ایک خواب ہی لگتا ہے۔ اگر نواز شریف اور عمران خان اگلے انتخابات سے باہر کردیئے جاتے ہیں تو یہ وہ صورت حال ہے جو اسٹیبلشمنٹ کو بھائے گی کیونکہ ان دونوں میں سے جو بھی آئے گا وہ سب سے پہلے اپنا حساب چکتا کرنے کی کوشش کرے گا۔ایسے میں قرعہ فال دونوں جماعتوں میں دوسرے درجے کی قیادت کے نام نکلے گا جو ہر حال میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنا کر رکھنے کا جتن کرے گی۔یہ وہ صورت حال ہوگی جو پاکستان کے لئے بہتر ہوگی اور عوام چاہے گی کہ ملک کو آگے لے جانے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا چاہئے۔تب راوی چین ہی چین لکھے گا اور دونوں بڑے لیڈر اپنے اپنے زخم چاٹ رہے ہوں گے کیونکہ دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں اس لئے دونوں کی شہ مات کا مزا چکھنا ہوگا!

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں