16

 عدلیہ سے متعلق فوری قانون سازی 



 عدلیہ سے متعلق فوری قانون سازی 

 تئیس سال قبل سپریم کورٹ کا ایک سینئر افسر ڈاکٹر محمود غازی صاحب کے سامنے بلبلا رہا تھا کہ سینیارٹی کے معاملے میں اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ کمتر رتبے کا وہ شخص ترقی پا کر اس کا افسر بن گیا تھا جو چیف جسٹس کا منظور نظر تھا۔ مذکورہ افسر جو ڈاکٹر صاحب سے سفارش کروانے آیا تھا، پوچھ رہا تھا: ” اب میں جاؤں تو کس کے پاس جاؤں، اپیل کروں تو کس سے۔” ڈاکٹر صاحب رحمتہ اللہ علیہ تب سپریم کورٹ کے جسٹس تھے۔ انہوں نے یہ کچھ سنا اور اس کی دلجوئی کر کے اسے رخصت کیا، کچھ دیر وہ متاسف بیٹھے رہے۔ پھر کچھ کہے بغیر کام میں لگ گئے۔

 کیا سچ تھا اور کیا نہیں، ہم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ہم نے تو یک طرفہ باتیں سنی تھیں۔ لیکن اس افسر کے سلگتے  سوال کی لپٹیں آج پورے عدالتی نظام کو بھسم کرنے کے درپے ہیں۔ سوال یہ تھا: ” سپریم کورٹ سے باہر مثلا یونیورسٹی ملازمین وائس چانسلر کی ناانصافی کا شکار ہوں تو بورڈ آف گورنر سے اپیل کر سکتے ہیں۔ داد رسی نہ ہو تو سول جج کے پاس جانے کا راستہ کھلا ہے۔ لوگ سینئر سول جج، سیشن جج، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ تک جا سکتے ہیں۔ کہیں نہ کہیں سے انصاف مل ہی جاتا ہے۔ دیر سے سہی، لیکن سائل کے لیے امید کی کرن  موجود رہتی ہے۔ بھلا بتائیے ڈاکٹر صاحب! چیف جسٹس آف پاکستان کے ڈسے مریض کے لیے تریاق کس حکیم کے پاس ہے؟”

آج وہ افسر بے طرح یاد آرہا ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان صرف معزز چیف جسٹس کا نام ہے یا 17 معزز جج مل کر یہ مقدس ادارہ تشکیل دیتے ہیں۔ عام شخص بھی جانتا ہے کہ بادشاہت ختم ہوئے صدیاں نہ سہی، عشرے بیت چکے ہیں۔ آج دنیا آئینی چھتری تلے ریاستی امور نمٹاتی ہے۔ ہمارے آئین کے تحت اختیارات  سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس  ہیں نہ کہ کسی فرد واحد کے پاس۔ آج وہ فریادی افسرزندہ ہوا تو یقینا اپنا درد بھول چکا ہوگا۔ حالت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اپنے ایک فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس تعطیلات میں نہیں ہوگا۔ لیکن جونہی تعطیلات شروع ہوئیں اور معزز ارکان جوڈیشل کمیشن ادھر ادھر ہوئے تو ان کی عدم موجودگی میں کمیشن کا اجلاس بلا لیا گیا۔ یوں ایک معزز رکن کو اپنا علاج موخر کر کے اسکائپ پر شرکت کرنا پڑی۔ بیرون ملک گئے ایک اور معزز رکن جسٹس نے چھٹیوں میں اجلاس بلانے پر بذریعہ خط احتجاج کیا۔ جس غرض سے اجلاس بلایا گیا تھا، وہ بھی حل طلب مسئلہ تھا۔ علم ہوتے ہی ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنوں نے بھی احتجاج کیا۔ سب نے اجلاس مؤخر کرنے کی استدعا کی لیکن اجلاس ہو کر رہا۔

 مجھے خوب یاد ہے کہ ہماری انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں ایک وائس چانسلر ہؤا کرتا تھا۔ اس نے جب کبھی بورڈ آف گورنر سے من مانے فیصلے کرانا ہوتے تو وہ اصول پسند ارکان بورڈ سے کسی لیکچر یا سیمینار کی تاریخ لینے کے بہانے یہ معلوم کر لیتا کہ وہ ادھر ہیں یا ملک سے باہر۔ ان  کے بیرون ملک جانے کی تاریخ معلوم کرتے ہی وہ سازشی شخص بورڈ کا اجلاس عین اسی تاریخ کو رکھ کر من مانے فیصلے کروا لیتا۔ ذرائع ابلاغ میں  محترم جسٹس قاضی فائز عیسی کے شائع شدہ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ معزز سپریم کورٹ نے ان کے کہنے اور پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور تمام صوبائی بار ایسوسی ایشنوں کے اجلاس موخر کرنے کے مطالبے کے باوجود اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں معاملہ زیر بحث یہ تھا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی چار خالی اور ایک متوقع خالی آسامی کے لیے نئے ججوں کے ناموں کی منظوری لی جائے۔

اجلاس کی روداد پر ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ آ چکا ہے جو میرے جیسے عام شہریوں کے لیے نہایت افسوس ناک ہے۔ روداد پر افسر تعلقات عامہ سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کیا جس کی فوری تردید جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے کردی۔ اگلے ہی دن کمیشن کے ایک اور معزز رکن جسٹس سردار طارق مسعود نے اس اعلامیہ پر چیف جسٹس کو یوں خط لکھا: “(یہ اعلامیہ) ان حالات کے بالکل بر عکس ہے جو کمیشن کے اجلاس میں وقوع پذیر ہوئے۔۔۔۔۔۔(کمیشن کے) ارکان نے کثرت رائے سے چیف جسٹس کے پیش کردہ نام مسترد کر دیئے جس پر جوڈیشل کمیشن کے سربراہ اجلاس ختم کرنے کا اعلان کیے بغیر اور فیصلوں کے بارے میں بتائے بغیر، غیر جمہوری طریقے سے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔” (بی بی سی اردو 29 جولائی)۔

قارئین کرام! بیس سال قبل کے چیف جسٹس کا ڈسا ہوا وہ افسر آج کہیں زندہ ہو تو یہ کچھ دیکھ سن کر یقیناً اپنا دکھ بھول چکا ہوگا۔ اجلاس کے التواء  جیسے مطلقاً غیر سیاسی اور قانونی مسئلہ پر ملک بھر کے  قانونی حلقے بیک زبان تھے۔ ایک معزز  رکن جسٹس لکھتے ہیں کہ صرف ایک ہفتے کے نوٹس پر بلائے گئے اس اجلاس کے اڑھائی ہزار صفحات انہیں واٹس ایپ پر ملے۔ صرف 12 صفحات پڑھے جا سکے۔  انہوں نے چیف جسٹس سے منطقی اور عقلی گزارش کی کہ گرمائی تعطیلات اور میرے بیرون ملک ہونے کے باعث اجلاس ملتوی کیا جائے۔ تمام بار کونسلوں، قانونی حلقوں اور خود کمیشن کے معزز ارکان کے مطالبے کے باوجود  نہ صرف اجلاس بلایا گیا بلکہ ایک ایسی اسامی پر کرنے کی کوشش کی گئی جو ابھی خالی ہی نہیں ہوئی تھی۔ گویا چلتا پھرتا شخص مرا تو ہے نہیں لیکن اس کی نماز جنازہ کے لیے صف بندی شروع کر دی گئی۔

 افسر تعلقات عامہ اور اسی سپریم کورٹ کے معزز جج  صاحبان میں سے کون سچا ہے اور کون اس کے برعکس یہ جاننے کے لئے کیا ایک اور جوڈیشل کمیشن درکار ہے؟ دراصل سپریم جوڈیشل کونسل سے لے کر بینچوں کی تشکیل اور ازخود نوٹس جیسے اہم امور پر پارلیمنٹ نے ابھی تک  قانون سازی کی ہی نہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل ہوا میں معلق اس ادارے کا نام ہے جس کا کوئی دفتر ہے نہ سیکریٹریٹ۔ حالانکہ اپنے کام کے اعتبار سے یہ ادارہ پورے عدالتی نظام میں زلزلہ بپا کر سکتا ہے۔ چنانچہ کونسل کی ادارہ جاتی تشکیل پارلیمان کے ایک فوری اور تفصیلی ایکٹ کا تقاضا کرتی ہے جس کے لیے آئینی ترمیم کی مطلقاً ضرورت نہیں ہے۔ کوشش ہو گی کہ اگلی دفعہ ان امور پر قدرے تفصیل سے لکھا جائے۔

مزید :

رائے -کالم –




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں